دھرنے ، احتجاج ، ضلع ملتان میں ہائی الرٹ‘ واپڈا تنصیبات ، دفاتر کی سکیورٹی سخت

دھرنے ، احتجاج ، ضلع ملتان میں ہائی الرٹ‘ واپڈا تنصیبات ، دفاتر کی سکیورٹی ...

ملتان(کرائم رپورٹر،سٹاف رپورٹر، جنرل رپورٹر) اسلام آباد دھرنے کے شرکا کے خلاف کاروائی پر احتجاج کا سلسلہ جاری ہے۔ ملتان پولیس کی جانب سے ضلع میں گزشتہ روز بھی ہائی الرٹ رہا۔اس دوران ایس ایس پی آپریشنز اور ڈویژنل ایس پیز ڈاکٹر فہد اور کاشف اسلم سمیت دیگر (بقیہ نمبر29صفحہ12پر )

افسران فیلڈ میں گشت کرتے رہے۔دوسر ی جانب شہر کے مختلف مقامات پر مظاہروں کا سلسلہ جاری رہا جس سے مختلف مقامات پر سڑکوں کو ٹریفک کے لیے بند کردیا۔بوسن روڈ بائی پاس،شالیمار میٹرو سٹیشن کے قریب جامعہ خیرالمعارف کے زیر اہتمام مظاہرین نے احتجاجی مظاہرہ کیا اور سڑک بلاک کردی،پولیس کی نفری موقع پر پہنچ گئی،اس دوران خطرے کے پیش نظر پولیس نے شہر کے مختلف مقامات پر پیٹرول پمپس کو بند کروادیا ،اور مالکان کو ٹینٹ لگوانے کا کہا،گزشتہ روز بوسن روڈ،بائی پاس،کچہری چوک ،خانیوال روڈ،معصوم شاہ روڈ مل صادق آباد، حسین آگاہی ، چوک شاہ عباس، وہاڑی چوک، مل پھاٹک مظفر آباد اور تھانہ چوک شجاع آباد میں احتجاج کے سڑک بلاک رہی،اس دوران پولیس کی نفری بھی موقع پر موجود رہی تاہم مظاہرین پر امن رہے، کوئی نا خوشگوار واقعہ پیش نہیں آیاپولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ کسی بھی ناگہانی صورتحال سے نمٹنے کے لیے سرکل کے ڈی ایس پی کو دو ریزروز پہنچا دی گئیں ہیں ڈی ایس پیز اور ایس ایچ اوز کو ریلیوں کی نگرانی کی ہدایت دی گئی ہیں۔ احتجاج پرامن رہا تو پولیس کوئی ایکشن نہیں لے گی، البتہ مظاہرین نے توڑ پھوڑ کی تو سختی سے روکا جائے گا، دریں اثناء ملک بھر میں واپڈا تنصیبات اور دفاتر کی سکیورٹی سخت کردی گئی۔ وزارت توانائی کے احکامات کی روشنی میں واپڈا کے س سکیورٹی گارڈز کی اضافی نفری تعینات کردی گئی ہے۔گرڈ سٹیشنوں ، دفاتر کے گیٹ بند رکھنے اور سرکاری گاڑیاں سڑکوں پر نہ لانے کی ہدایات جاری کی گئی ہیں۔ امن وامان کی خراب صورتحال کے باعث یہ ہدایات جاری کی گئی ہیں۔ دوسری جانب ملک بھر میں جاری مظاہروں اور ریلیوں کے باعث سکیورٹی کے پیش نظر ملتان سمیت جنوبی پنجاب میں پٹرول پمپس بند رہے اور پٹرول ‘ڈیزل کی سپلائی بند رہی ۔پٹرول پمپ کا عملہ گاڑیوں کو ٹینٹ کے اندر لے جا کر چھپ کر پٹرول ڈالتے رہے تاہم مجموعی طور پر سپلائی بند رہنے کی وجہ سے عوام کو سخت پریشانی کا سامنا کرنا پڑا۔

مزید : ملتان صفحہ آخر