اینٹی کرپشن کا میگا سیکنڈلز میں ملوث افراد کیخلاف ایکشن، گرفتاریاں شروع

اینٹی کرپشن کا میگا سیکنڈلز میں ملوث افراد کیخلاف ایکشن، گرفتاریاں شروع

ملتان(نمائندہ خصوصی)انٹی کرپشن اسٹبلشمنٹ ملتان میگا سکینڈلز کیخلاف فعال ہوگئی ہے ۔ڈائریکٹر انٹی کرپشن اسٹبلشمنٹ ملتان انجینئر امجد شعیب ترین کے احکامات پر اربوں روپے (بقیہ نمبر31صفحہ7پر )

مالیت کے سکینڈل میں ملوث پنجاب لیکویڈایشن بورڈ کے (ر)ڈپٹی سیکرٹری زین العابدین کو خانیوال سے گرفتار کرلیا گیا اور ایک روزہ ریکارڈ بھی حاصل کرلیا۔پی سی بی ایل کے سابق چیئرمین بریگیڈیئر (ر)فاروق مان،ایڈیشنل سیکرٹری کرنل(ر) لطیف،سیکرٹری چوہدری امتیاز اور ابراہیم سٹی خانیوال کے مالک تنور حافظ عبدالرشید کی گرفتاری کیلئے چھاپے مارنے شروع کردیئے۔انٹی کرپشن اسٹبلشمنٹ نے حکم امتناعی کے باوجود فیز ٹو کی سرکاری اراضی فروخت کرنے کے الزام کا کیس ٹیک اپ کرنے کا فیصلہ کرلیا۔بتایا گیا ہے 2008ء سے قبل پنجاب لکویڈایشن بورڈ نے خانیوال میں 1564کینال اراضی کی فروخت کا فیصلہ کیا۔اس فیصلہ کے تحت لاہور روڈ پر واقع اس اراضی کی ریزورپرائس 40ہزارروپے مرلہ مختص کی گئی ۔اوپن نیلامی میں چیئرمین پی سی بی ایل بریگیڈیئر(ر)فاروق مان،ڈپٹی سیکرٹری زین العابدین،ایڈیشنل سیکرٹری کرنل (ر)زاہد منشاء سیکرٹری چوہدری امتیاز نے تنورحافظ عبدالرشید کی ملی بھگت کی نیلامی میں آنیوالوں کو تگنی کا ناچ نچایا۔اربوں روپے مالیت کی اراضی کو کوڑیوں کے مول حاصل کرنے کیلئے دیگر خواہشمندوں کو اس حد تک نرچ کردیا گیا کہ وہ میدان چھوڑنے پر مجبور ہوگئے۔مخصوص حالات پیدا کرنے کے بعد چیئرمین پی سی بی ایل اور ان کے دیگر افسران نے ریزورپرائس کو 48ہزار روپے مرلہ سے کم کرکے 12ہزار روپے فی مرلہ میں تنور حافظ عبدالرشید کو فروخت کردی جس نے کوڑیوں کے مول خریدی جانیوالی اراضی کا ملبہ فروخت کرکے اپنی رقم کھری کی بعدازاں اس اراضی پرکے نام سے ابراہیم سٹی فیزون اورابرہم سٹی فیز ٹو کے نام سے ہاؤسنگ سکیم بنادی۔اوراربوں روپے اپنی جیب میں ڈال لیے اسی دوران2011ء میں خانیوال کے رہائشی نے انٹی کرپشن اسٹبلشمنٹ ملتان ہیڈ کوارٹر کو اس درخواست دی اور اربوں روپے مالیت کے فراڈ کیلئے تحقیقات کا مطالبہ کردیا۔معلوم ہوا ہے انٹی کرپشن نے 2011ء میں اس فراڈ میں ملوث چیئرمین پی سی بی ایل بریگیڈیئر (ر)فاروق مان،ڈپٹی سیکرٹری پراپرٹی زین العابدین ایڈیشنل سیکرٹری کرنل (ر)زاہد منشاء،سیکرٹری چوہدری امتیاز اور تنور حافظ عبدالرشید کیخلاف مقدمہ درج کرلیا۔اس اندراج مقدمہ کے بعد ملزمان نے اپنے اثرورسوخ کی بناء پر اسے مختلف عدالتوں غلط بیانی کے ذریعہ لٹکاتے رہے حتیٰ کہ جوڈیشل ایکشن پر عملدرآمد کیلئے رکاوٹیں کھڑی کرتے رہے ۔انجینئر امجد شعیب ترین نے چارج سنبھالنے کے بعد برسوں پرانے میگا سکینڈلز پر خصوصی توجہ دی اور ڈائریکٹر جنرل انٹی کرپشن سے ملزمان کے جوڈیشل منظور کرنے کی درخواست کی۔ڈی جی انٹی کرپشن کے احکامات ملنے کے بعد اس سکینڈل کے مرکزی ملزمان میں شامل زین العابدین کو خانیوال سے گرفتار کرلیا جبکہ دیگر ملزمان کی گرفتاری کیلئے چھاپے مارے جارہے ہیں۔انٹی کرپشن اسٹبلشمنٹ کی ٹیم نے گرفتار ملزم زین العابدین کو ایک روزہ ریمانڈ مکمل ہونے کے بعد آج انسداد رشوت ستانی کی خصوصی عدالت میں ملزم ریمانڈ کیلئے دوبارہ پیش کریگی۔

مزید : ملتان صفحہ آخر