سندر اسٹیٹ ٹو کے مالکان کو پلاٹوں کی خریدو فروخت کا اختیار دیا جائے

سندر اسٹیٹ ٹو کے مالکان کو پلاٹوں کی خریدو فروخت کا اختیار دیا جائے

لاہور(جاوید اقبال‘ شہزاد ملک‘ تصاویر ندیم احمد) پنجاب سمال انڈسٹریل اسٹیٹ ٹو سندر رائیونڈ روڈ کے مالکان کو اپنے پلاٹوں اور جائیداد کی سیل اور پرچیز کا اختیار دیا جائے یہ اختیار نہ ہونے سے پوری سندر اسٹیٹ ٹو کھنڈرات اور مسائل کی آماجگاہ بنتی جا رہی ہے حکام بالا کی طرف سے اس اسٹیٹ ٹو کے مالکان اور یہاں انڈسٹری لگانے کے لئے پلاٹ خریدنے والوں کو لاوارث چھوڑ دیا گیا ہے ہم پلاٹ خرید چکے ہیں جس میں اربوں روپے کی سرمایہ کاری کی گئی مگر پندرہ سال گذرنے کے باوجود اس کو سمال انڈسٹری اسٹیٹ ٹو کا درجہ نہیں دیا جا سکا جو کاغذوں میں تو موجود ہے لیکن عملی طور پر وہاں کھنڈرات ہی نظر آتے ہیں جس کے باعث یہاں جائیداد کی قیمت ٹکے ٹوکری ہوتی جارہی ہے انڈسٹریل اسٹیٹ ٹو سندر کے قیام کے وقت جو وسائل دینے کا وعدہ کیا گیا تھا وہ کئی سال گزر جانے کے باوجود وفا نہیں ہو سکا ۔اس امر کا اظہار گزشتہ روز پنجاب سمال انڈسٹریز اسٹیٹ ٹو سندر رائیونڈ روڈ کے مالکان نے پاکستان فورم میں اظہار خیال کرتے ہوئے کیا ۔فورم کے شرکاء نے کہا کہ یہ کتنی سم ظریفی ہے کہ اسٹیٹ میں اربوں روپیہ کی سرمایہ کاری کرنے والوں کو نہ تو وسائل دئیے جارہے ہیں اور نہ ہی تحفظ نہ ہی اپنی جائیدادوں کو سیل پرچیز کرنے کا اختیار ستم بالائے ستم یہ کہ پنجاب انڈسٹری کارپوریشن ایسے آباد کار جنہوں نے کئی سال پہلے کروڑوں روپے کی کھنڈرات زمین خرید کر سرمایہ کاری کی اور وہ وسائل نہ ہونے کے باعث صنعتیں نہیں لگا سکے انہیں ان کے ہی ملکیتی پلاٹ کے مالکانہ حقوق منسوخ کرنے کے نوٹسز جاری کئے جارہے ہیں جو کہ ظلم کی انتہا ہے ہم اس ظالمانہ اقدام کو مسترد کرتے ہیں حالانکہ جب یہاں پنجاب سمال انڈسٹریز اسٹیٹ ٹو سندر رائیونڈ روڈ آباد کی گئی تھی تو اس وقت ایسی کوئی بھی شرط نہیں رکھی گئی تھی ۔’’پاکستان فورم ‘‘میں شرکت کر نے والے پنجاب سمال انڈسٹریز اسٹیٹ ٹو سندر رائیونڈ روڈ کے سرمایہ کاروں اور صنعت کاروں میں حامد علی شیخ ‘ اشفاق محمود‘ حافظ محمد صدیق احمد‘ محمد امتیاز‘ فیاض محمود احمد‘ محمد حیات بھٹی ‘ محمد جمیل بٹ‘ محمد عارف ‘ جاوید محمود‘ خواجہ خورشید احمد‘ احمد زبیر‘ سید محمد حامد‘ عباد حسین‘ تسلیم احمد خان ‘ ہمایوں بخت اور اللہ رکھا شامل تھے۔اس حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے حامد علی شیخ ‘ اشفاق محمود‘ حافظ محمد صدیق احمد‘ محمد امتیاز‘ فیاض محمود احمد‘ محمد حیات بھٹی نے کہا کہ ہم صوبائی وزیر انڈسٹریز شیخ علاؤ الدین سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ اس بات کا نوٹس لیں کہ پندرہ سال گزر جانے کے باوجود بھی ابھی تک نہ تو اس انڈسٹریل اسٹیٹ میں بجلی کا کوئی خاطر خواہ بندوبست کیا گیا ہے اور نہ ہی پانی کی فراہمی کو یقینی بنایا گیا ہے کسی بھی انڈسٹری کے لئے سوئی گیس ایک لازمی جز ہوتا ہے لیکن اس کا بھی کوئی وجود نہیں ہے سیوریج کے مسائل بھی درپیش ہیں۔اس حوالے سے مزید گفتگو کرتے ہوئے محمد جمیل بٹ‘ محمد عارف ‘ جاوید محمود‘ خواجہ خورشید احمد‘ احمد زبیر‘ سید محمد حامد‘ عباد حسین نے کہا کہ کتنے ظلم کی بات ہے کہ ہم اپنی ہی ملکیتی جائیدادیں پلاٹ وغیرہ کی سیل پرچیز نہیں کر سکتے اس پر سرکار نے پابندی عائد کررکھی ہے نہ اپنے وعدے کے مطابق وسائل دیتے ہیں اور نہ ہی جانے دیتے ہیں ظاہری طور پر اس کا نام پنجاب سمال انڈسٹریز اسٹیٹ ٹو سندر رائیونڈ روڈ رکھا گیا ہے مگر انڈسٹری لگانے کے لئے جو سروسز اور سہولتیں حکومت کی طرف سے مہیا کی جاتی ہیں ان کا نام و نشان ہی نہیں ہے ہر طرف کھنڈرات ہیں وزیر اعلی اس کا نوٹس لیں اور سیل پرچیز کے لئے لگائی گئی پابندی کو فی الفور ختم کیا جائے ۔ تسلیم احمد خان ‘ ہمایوں بخت اور اللہ رکھا نے کہا کہ ایک طرف وسائل نہیں دئیے گئے تو دوسری طرف انڈسٹری لگانے اور عمارتیں تعمیر کرنے کا حکم دیا جارہا ہے حکومت بتائے کہ جب بجلی اور پانی ہی نہیں تو ہم کام کیسے انڈسٹری کیسے لگائیں اگر کھوکھلی انڈسٹری لگا بھی لی جائے تو جنریٹر کی مدد سے اسے چلایا نہیں جا سکتا سیکورٹی کے انتظامات نہ ہونے کے برابر ہیں چوری چکاریاں عام ہیں انڈسٹری کے قیام کے وقت اس کے اشتہار میں جو چیزیں لگا کر دینے کے وعدے کئے گئے تھے ان کو فی الفور پورا کیا جائے ۔ انہوں نے کہا کہ بہت سارے بلاک ایسے ہیں کہ جہاں پر بجلی کی ترسیل کو یقینی بنانے کے لئے کھمبے تک نہیں لگائے گئے ۔

مزید : راولپنڈی صفحہ آخر