زاہد حامد کے استعفے اور پاک فوج کی ثالثی کے بعد مظاہرین اسلام آباد دھرنا ختم کرنے پر تیار ، باضابطہ اعلان کچھ دیر میں متوقع

زاہد حامد کے استعفے اور پاک فوج کی ثالثی کے بعد مظاہرین اسلام آباد دھرنا ...
زاہد حامد کے استعفے اور پاک فوج کی ثالثی کے بعد مظاہرین اسلام آباد دھرنا ختم کرنے پر تیار ، باضابطہ اعلان کچھ دیر میں متوقع

  

اسلام آباد(ویب ڈیسک) وفاقی وزیر قانون زاہد حامد کے استعفے کے بعد حکومت اور مذہبی جماعت کے درمیان معاملات طے پاگئے ہیں اور  دھرنا قائدین تھوڑی دیر میں دھرنا  ختم کرنے کا اعلان کریں گے۔

معاہدے کے مطابق 6 نومبر کے بعد سے مذہبی جماعت کے گرفتار کارکنوں کو رہا کیا جائے گا اور ان کے خلاف مقدمات بھی ختم کیے جائیں گے۔معاہدے میں طے پایا گیا کہ 25 نومبر کو حکومتی ایکشن سے متعلق انکوائری بورڈ قائم کیا جائے گا اور ذمہ داروں کا تعین کرکے 30 دنوں میں کارروائی کی جائے گی۔ حکومت اور مظاہرین کے درمیان ثالثی پر آرمی چیف اور ان کی ٹیم کا شکریہ بھی ادا کیا گیا.مزید تفصیلات کے مطابق دونوں فریقین کے درمیان ہونے والے معاہدے کے حوالے سے بتایا کہ راجا ظفر الحق رپورٹ 30 دن میں منظر عام پر لائی جائے گی جبکہ الیکشن ایکٹ ترمیم کے ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔

اس سے قبل ذرائع نے بتایا تھا کہ وفاقی وزیر قانون نے رضاکارانہ طور پر اپنا استعفیٰ وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کو پیش کردیا ہےجبکہ اعلیٰ حکومتی ذرائع نے بتایا کہ وزیراعظم کی جانب سے آج ہی یہ استعفیٰ منظور کرلیا جائے گا۔وزیر قانون کا کہناہے کہ استعفیٰ ملک کوبحرانی کیفیت سے نکالنے کےلئے دیا۔خیال رہے کہ گزشتہ روز زاہد حامد نے وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف سے ایک گھنٹہ طویل اہم ملاقات کی تھی۔اسلام آباد میں گزشتہ کئی روز سے جاری دھرنے کے مظاہرین کا ابتدائی مطالبہ وزیر قانون زاہد حامد کو عہدے سے ہٹانا ہی تھا۔

ختم نبوت کے حوالے سے حلف نامے میں ہونے والی تبدیلی کا ذمہ دار دھرنا مظاہرین وزیر قانون زاہد حامد اور حکومت کو ٹھہرارہے ہیں اور 22 روز قبل اس معاملے پر فیض آباد انٹرچینج پر دھرنا شروع کیا گیا تھا۔

حکومت نے مختلف حلقوں کی جانب سے آنے والے دباؤ کے پیش نظر غلطی کا اعتراف کرتے ہوئے ختم نبوت کے حلف نامے کو اصل حالت میں بحال کردیا تھا لیکن دھرنا مظاہرین وزیر قانون زاہد حامد کے استعفے کے مطالبے پر قائم رہے۔

حکومت نے وزیر قانون کے استعفے کے مطالبے کو ناجائز قرار دیتے ہوئے مظاہرین سے مذاکرات کی کوشش کی تھی تاہم مذاکرات کے تمام ادوار ناکام ہوگئے تھے۔

اس کے بعد حکومت کی جانب سے ہفتہ 25 نومبر کو فیض آباد انٹرچینج کلیئر کرانے کے لیے پولیس اور ایف سی کے ذریعے آپریشن کا آغاز کیا گیا جس میں 250 سے زائد افراد زخمی ہوئے۔

اس آپریشن کے بعد مظاہرین مزید مشتعل ہوگئے اور دیگر علاقوں میں پھیل گئے، آپریشن کے خلاف ملک کے دیگر شہروں میں بھی مظاہروں اور دھرنوں کا سلسلہ شروع ہوگیا جس کے بعد حکومت نے آپریشن معطل کردیا اور وزیراعظم اور آرمی چیف کے درمیان ہونے والی تازہ ترین ملاقات میں معاملہ افہام و تفہیم سے حل کرنے پر اتفاق کرلیا گیا۔

مزید : قومی /Breaking News