قبائلی صحافی خلیل جبران آفریدی کی گرفتاری کی مذمت کرتے ہیں‘ شاہ جہان

قبائلی صحافی خلیل جبران آفریدی کی گرفتاری کی مذمت کرتے ہیں‘ شاہ جہان

خیبر ایجنسی ( بیورورپورٹ)قبائلی صحافی خلیل جبران آفریدی کی گرفتاری کی مذمت کرتے ہیں، قبائلی صحافیوں کو گرفتار کرنے کے بجائے ان کو تحفظ دیا جائے ، قبائلی صحافی کو فی الفور رہا کیا جائے ، لنڈی کوتل پریس کلب کے ساتھ خلیل آفریدی کی رہائی کے لئے بھر پور تعاؤن کرینگے ، پشاور میں کل کے حتجاجی مظاہرے میں بھر پور شرکت کرینگے،سیاسی اور سماجی افراد کا لنڈی کوتل پریس کلب کے دورہ کے موقع پر اظہار خیال جماعت اسلامی یوتھ فاٹا کے صدر شاہ جہان آفریدی ، جماعت اسلامی لنڈی کوتل کے امیر ضیاء الحق آفریدی نے اپنی ٹیم کے ہمراہ لنڈی کوتل پریس کلب کا دورہ کیا ، پاکستان جسٹس اینڈ ڈیمو کریٹیک پارٹی فاٹا کے صدر دولت شاہ آفریدی ، سماجی کارکنوں حاضی فضل الرحمان آفریدی ، قومی مشر بوڑھا شنواری ، ملک تاج الدین اور قاری خیر رحمان شنواری اور حاجی اقبال آفریدی نے لنڈی کوتل پریس کلب کے دورے کے موقع پر گرفتار مقامی صحافی خلیل جبران آفریدی اور پریس کلب کے نائب قاصد حسن علی شنواری کی گرفتاری کی مذمت کی اور کہا کہ حکومت اور سیکیورٹی فورسز قبائلی صحافیوں کو تحفظ دیں اور ان کی بلا جواز گرفتاریوں سے باز رہے انہوں نے کہا کہ گزشتہ روز کار ریلی کے موقع پر صحافی کی گاڑی کے ساتھ آئی ڈی نصب کرنا پانچ صحافیوں کو اڑانے کا ناپاک اور خطرناک منصوبہ تھا جس کی جتنی مذمت کی جائے وہ کم ہے سیاسی اور سماجی شخصیات نے حکومت اور سیکیورٹی فورسز سے مطالبہ کیا کہ وہ خلیل جبران اور پریس کلب کے نائب قاصد حسن علی کو بلا تاخیر رہا کریں ورنہ پھر صحافی جہاں بھی احتجاج کرینگے وہاں قبائلی سیاسی اور سماجی لوگ ان کے شانہ بشانہ ہونگے اور صحافیوں کے تحفظ کے لئے ہر فورم پر آواز اٹھائینگے انہوں نے کہا کہ یہ ممکن نہیں کہ صحافی اپنی گاڑی کے ساتھ آئی ڈی لگاکر اپنی اور ساتھیوں کی زندگی سے کھیلیں اس لئے حکومت غیر ذمہ داری کا ثبوت نہ دیں اور صحافیوں کی عزت، وقار اور تحفظ کو یقینی بنائیں قبائلی سیاسی اور سماجی شخصیات نے لنڈی کوتل پریس کلب کے ساتھیوں کو باور کرایا کہ پیر کے روز پشاور پریس کلب کے سامنے منعقد ہونے والے مظاہرے میں وہ بھر پور شرکت کرینگے ، گرفتار مقامی صحافی شوگر کے مریض ہیں اور ان کی گرفتاری کے بعد ان کے گھر میں موجود ان کی بیوی اور چھوٹے چھوٹے بچوں میں سخت بے چینی پائی گئی ہے اور ان کی اہلیہ اور بچوں نے بھی خلیل جبران کی رہائی کے لئے اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا ہے اور اس مشکل وقت میں انصاف کی فراہمی کا مطالبہ کیا ہے واضح رہے کہ خلیل جبران کو تین روز قبل گرفتار کر لیا گیا تھا جبکہ ان کے ساتھ باقی چار گرفتار صحافیوں کو اسی رات رہا کر دیا گیا تھا۔

 

مزید : پشاورصفحہ آخر