وفاقی حکومت ہر محاذ پر مکمل طور پر ناکام ہو چکی:عزیز اللہ

وفاقی حکومت ہر محاذ پر مکمل طور پر ناکام ہو چکی:عزیز اللہ

چارسدہ (بیورو رپورٹ) پاکستان تحریک انساف کے ضلعی جنرل سیکرٹری عزیز اللہ خان نے کہا ہے کہ وفاقی حکومت ہر محاذ پر مکمل طور پر ناکام ہو چکی ہے ۔ وزیر اعظم بے اختیار ہے ۔ غلط پالیسیوں کی وجہ سے وطن عزیز تباہی کے دہانے پر کھڑا ہے ۔ عقیدہ ختم نبوت شق میں تبدیلی کے مرتکب وفاقی وزیر قانون کو فوری طو ر پر مستعفی ہو جانا چاہیے ۔ وز یر اعظم شاہد خاقان عباسی ایک نااہل شخص کے احکامات پر عمل پیرا ہے ۔وہ چارسدہ پریس چیمبر میں "ملاقات" میں اظہار خیال کر رہے تھے ۔پاکستان تحریک انصاف کے ضلعی جنرل سیکرٹری عز یز اللہ خان نے کہاکہ وفاقی حکومت کی ہٹ دھرمی کی وجہ سے اسلام آباد دھرنے میں قیمتی انسانی جانیں ضائع ہو گئی ۔ اگر ایک وفاقی وزیر استعفیٰ دیتے تو کون سی قیامت آتی ۔ انہوں نے کہاکہ دھرنے کے شرکاء سے مزاکرات کرکے افہام و تفہیم سے مسئلہ حل کر نا چاہیے تاکہ مزید انسانی جانیں ضائع نہ ہو۔انہوں نے کہاکہ کہ حکومت کی غلط پالیسیوں کی وجہ سے وطن عزیز معاشی بد خالی کا شکار ہے ۔ وفاقی حکومت کی داخلہ اور خارجہ پالیسیاں قومی امنگوں کی ترجمانی نہیں کر تی ۔ حکومت فوری طور پر عوامی امنگوں کے عین مطابق پالیسیاں وضغ کریں ۔ انہوں نے اسلام آباد دھرنے میں قیمتی انسانی جانوں کی ضیاع پر افسوس کا اظہار کیا اور کہا کہ مظاہرین کا مطالبہ تسلیم کرکے مزید خونریزی روکی جائے ۔ عقیدہ ختم نبوت شق میں تبدیلی کے مرتکب وفاقی وزیر قانون کو فوری طو ر پر مستعفی ہو جانا چاہیے ۔ وز یر اعظم شاہد خاقان عباسی ایک نااہل شخص کے احکامات پر عمل پیرا ہے ۔ انہوں نے ڈی آئی خان واقعہ کے حوالے سے بھی جوڈیشل انکوائری اور ملوث ملزمان کو قرار واقعی سزا دینے کا مطالبہ کیا ۔عزیز اللہ خان نے مزید کہا کہ وفاقی حکومت نے 2013کے انتخابات کے بعدعمران خان کی طرف سے چار حلقے کھولنے کا مطالبہ مسترد کرکے دھرنوں کی بنیاد رکھی ۔ انہوں نے کہاکہ تحریک انصاف کے صوبائی حکومت نے ریاستی اداروں میں انقلابی اصلاحات کئے ہیں جس کے دور رس اور مثبت نتائج برآمد ہونگے ۔ تعلیم ،صحت ،محکمہ مال اور محکمہ پولیس میں انقلابی اصلاحات کے مثبت نتائج سامنے نظر آرہے ہیں اور عوام مذکورہ اداروں کی کار کر دگی سے کافی مطمئن ہے ۔ خیبر پختونحوا میں میرٹ کی بالا دستی ہے اور تمام تر بھر تیاں این ٹی ایس کے ذریعے ہو رہی ہے ۔

مزید : پشاورصفحہ آخر