کراچی، مذہبی جماعتوں کے احتجاجی مظاہرے اور دھرنے جاری رہے

کراچی، مذہبی جماعتوں کے احتجاجی مظاہرے اور دھرنے جاری رہے

کراچی (اسٹاف رپورٹر ) تحریک لبیک یارسول اللہ ﷺ کی جانب سے اسلام آباد کے علاقے فیض آباد میں دھرنے کے شرکا کے خلاف آپریشن کے بعد کراچی میں اتوار کو بھی مختلف مذہبی جماعتوں کی جانب سے شہر کے مختلف علاقوں میں احتجاجی مظاہرے اور دھرنوں کا سلسلہ جاری ہے ۔ کراچی کے تقریبا 20 مقامات پر دھرنوں کا سلسلہ جاری ہے ۔تفصیلات کے مطابق اسلام آباد میں تحریک لبیک یارسول اللہ ﷺ کے دھرنے کی حمایت میں کراچی میں مختلف مذہبی جماعتوں کے دھرنے دوسرے روز بھی جاری ہیں ۔تحریک لبیک یارسول اللہ ﷺ کا مرکزی دھرنا نمائش چورنگی پر جاری ہے اسی طرح جماعت اہلسنت پاکستان کا مرکزی دھرنا ٹاور پر جاری ہے ۔شہر کے دیگر علاقوں جن میں حب ریور روڈ، الاصف اسکوائر، اورنگی ٹان نمبر پانچ، لانڈھی 6، کورنگی ڈھائی نمبر، کورنگی نمبر 5 ،درگ روڈ ،ناگن چورنگی،ملیر سعود آباد اور سمیت مختلف مقامات دھرنے کا سلسلہ جاری ہے۔ مختلف علاقوں میں جن سے خطاب کرتے ہوئے جماعت اہلسنت پاکستان کراچی کے امیر شاہ عبد الحق قادری نے کہا کہ ریاستی جبر و تشدد سے جانثاران مصطفی کی آواز کو دبایا نہیں جا سکتا ۔عدالتی فیصلے کو جواز بنا کر مظاہرین پر مظالم بربریت کی مثال ہے ۔ حکمران قادیانیت نوازی میں حد سے بڑھ رہے ہیں ،زاہد حامد کو برطرف کرنے کے بجائے ملک کو تختہ مشق بنانے پر مصر ہے۔انہوں نے کہاکہ نیو ز چینلز اور سوشل میڈیا کی بندش سے غلامان رسول کے دلوں سے ختم نبوت و ناموس رسالت کے تحفظ کا ولولہ ہر گز کم نہیں ہو گا ۔انہوں نے کہا کہ حکومت کی توجہ نا اہل نواز شریف کو بچانے پر مرکوز ہے،شمع رسالت کے پروانوں نے ثابت کر دیا کہ جبر و تشدد سے ان کا راستہ نہیں روکا جا سکتا۔ شاہ عبد الحق نے مزید کہا کہ عدالتی فیصلوں کے احترام کا دم بھرنے والے کرپشن زدہ حکمران عدلیہ کی جانب سے سزائے موت پانے والی گستاخ آسیہ ملعونہ کی پھانسی پر عمل درآمد کیوں نہیں کرتی ۔ سنی تحریک کے سربراہ ثروت اعجاز قادری نے مختلف مظاہروں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ظلم وجبرکی زنجیر یں عاشقان رسول کی راہ میں رکاوٹ نہیں بن سکتیں،عدالتوں کے خلاف بولنے والے عدالت کے کندھے پر بندوق رکھ کر چلارہے ہیں ،وزیر داخلہ نے ماڈل ٹان سانحہ کو دہرایا ہے ،ظلم کی زنجیروں سے ڈرنے والے نہیں ختم نبوت کے شہیدوں کا مقدمہ درج نہیں کیا تو حکومت مخالف تحریک اور عدالتوں کا دروازہ کھٹکھٹائیں گے ،ختم نبوت کے شہیدوں کے خون کا حساب حکومت کو دینا ہوگا ،عدلیہ بتائے ہم اپنے بچوں کا خون کس کے ہاتھ میں ڈھونڈیں ،جمہوریت اور انسانی حقوق کے خلاف بربریت ومظالم پر تشویش ہے ،حکومت امن وامان کی بجائے بندوق کی نوک پر مذاکرات کرنا چاہتی ہے ،حکمرانوں کا غیر جمہوری اور عوام دشمن چہرہ پوری دنیا پر عیاں ہوچکا ہے ،پاکستان کو انتشار اور بحرانی کیفیت میں دھکیلنے کے ذمہ دار حکمران ہیں ،ختم نبوت اسلام اور پاکستان کے آئین کی اساس ہے ،اسلام اور پاکستان کی اساس پر حملہ کرنے والے آئینی طور پر نااہل ہیں ،ایسے حکمرانوں سے استعفی نہیں عدالتیں ساری زندگی کیلئے نااہل قرار دیں ،ختم نبوت مسلمانوں کا ریڈ زون ہے اس روڈزون میں گھسنے اور چوری کرنے والوں کو منطقی انجام تک پہنچانا ہوگا ،حکومت چور کو سزا نہیں دیکر اسلام دشمن قوتوں کے مشن پر عمل پیرا ہے ،الیکٹرانک میڈیا اور فیس بک اور ٹوئیٹر ،یوٹیوب کی بندش سے حکمرانوں کے کردار کا پتہ چل گیا کہ وہ کتنے جمہوری ہیں ،آمریت کی گودھ میں جنم لینے والے جمہوریت میں بھی آمرانہ اقدامات کررہے ہیں جس کی ہر سطح پر مذمت کی جانی چاہیے ۔

مزید : ملتان صفحہ اول