وہ صحابیؓ جنہوں نے پھانسی سے پہلے نفلی نماز پڑھنے کا طریقہ سکھایا

وہ صحابیؓ جنہوں نے پھانسی سے پہلے نفلی نماز پڑھنے کا طریقہ سکھایا
وہ صحابیؓ جنہوں نے پھانسی سے پہلے نفلی نماز پڑھنے کا طریقہ سکھایا

  

صحیح بخاری میں مروی ہے کہ حضرت خبیبؓ پہلے بزرگ ہیں جنہوں نے پھانسی سے پہلے دورکعت نفلی نماز پڑھنے کا طریقہ شروع کیا تھا ۔یہ صحابیؓ کون تھے اور انہیں کفار نے کیوں پھانسی دی ،اس بارے میں احادیث سے ثابت ہوتا ہے کہ جب  ۴ ھ کے ماہ صفر میں عضل اور قارہ قبیلہ کے کچھ لوگ سرکار دوعالم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے تو عرض کیا کہ آپﷺ ان کے ہمراہ کچھ لوگوں کو دین سکھانے اور قرآن پڑھانے کے لیے روانہ فرمادیں۔ صحیح بخاری کی روایت کے مطابق رسول اللہ ﷺ نے دس افراد کو انکے ساتھ روانہ فرمایا۔ جب یہ لوگ رابغ اور جدہ کے درمیان قبیلہ ہذیل کے رجیع نامی ایک چشمے پر پہنچے تو عضل اور قارہ کے مذکورہ افراد نے شرارت کی اورقبیلہ ہذیل کی ایک شاخ بنو لحیان کو ان پر حملہ کے لئے اکسایا ۔ بنو لحیان کے سو اندازوں نے تیروں کی بو چھاڑ سے سات افراد کوشہید اور صرف تین صحابہ حضرت خبیبؓ، زید بن دثنہؓ اور ایک صحابی ؓ کو قید کرلیا ،بد عہدوں نے بعد ازاں باقی دونوں صحابہ ؓ کو بھی شہید کردیا جبکہ حضرت خبیب اور زید رضی اللہ عنہما کو مکہ لے جا کر بیچ دیا۔

حضرت خبیبؓ کچھ عرصہ اہل مکہ کی قید میں رہے۔اس دوران اللہ کی رحمت سے انہیں انگور کھلائے گئے جبکہ یہ انگوروں کا موسم بھی نہیں تھا ۔ بنت حارث بن نوفل کا بیان ہے ”میں نے خبیبؓ سے اچھا کوئی قیدی نہیں دیکھا۔ میں نے ایک روز دیکھا کہ وہ انگور کا خوشہ کھا رہے ہیں حالانکہ زنجیروں میں جکڑے ہوئے تھے اور مکہ میں کہیں انگور نہ تھا تو یہ رزق تھا جو اللہ تعالیٰ نے انہیں دیا تھا۔

اس واقعہ کے بعد قریش مکہ نے ان کے قتل کا ارادہ کیا۔ اور انہیں حرم سے باہر تنعیم میں لے گئے۔ جب سولی پر چڑھانا چاہا تو حضرت خبیب ؓ نے فرمایا” مجھے چھوڑ دو، ذرا دورکعت نماز پڑھ لوں“

مشرکین نے چھوڑ دیا اور آپؓ نے دورکعت نماز پڑھی۔ جب سلام پھیر چکے تو فرمایا” واللہ! اگر تم لوگ یہ نہ کہتے کہ میں جو کچھ کررہاہوں گھبراہٹ کی وجہ سے کررہا ہوں تو میں کچھ اور طول دیتا“

اس کے بعد فرمایا ” اے اللہ ! انہیں ایک ایک کر کے گن لے ،پھر بکھیر کر مارنا۔ اور ان میں سے کسی ایک کو باقی نہ چھوڑنا“ اور بعد میں انکی دعا رنگ لائی۔

حضرت زبیربن عوام رضی اللہ عنہ اور حضرت مقداد رضی اللہ عنہ نے آقا دوجہاں ﷺسے حضرت خبیب رضی اللہ عنہ کی لاش مبارک جو سولی پر لٹکائی گئی تھی لانے کی حامی بھر لی اور آپﷺ کی اجازت سے چل پڑے۔ دونوں صحابہ کرام رات کو چلتے اور دن کو چھپ جاتے تھے۔وہ اس سولی تک پہنچ گئے جہاں حضرت خبیب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی لاش مبارک سولی پر لٹکائی ہوئی تھی اور چالیس محافظ تھے۔ اللہ کی شان جب یہ دونوں سولی کے قریب گئے تو تمام محافظ سو رہے تھے ان دونوں حضرات نے حضرت خبیب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی لاش مبارک کو سولی سے اتارا اور گھوڑا پر رکھا ۔ روایات کے مطابق آپ کو شہید ہوئے چالیس دن گزر چکے تھے مگر ابھی تک جسم مبارک تر و تازہ تھا اور زخموں سے لہو ٹپک رہا تھا۔اور خون میں سے مشک کی سی خوشبو آرہی تھی۔

مزید : روشن کرنیں