اسلام آباد ہائیکورٹ نے دھرناآپریشن کی ناکامی اور الیکشن ایکٹ میں ترمیم کے ذمہ داروں کے تعین کیلئے 2 کمیٹیاں تشکیل دیدیں

اسلام آباد ہائیکورٹ نے دھرناآپریشن کی ناکامی اور الیکشن ایکٹ میں ترمیم کے ...
اسلام آباد ہائیکورٹ نے دھرناآپریشن کی ناکامی اور الیکشن ایکٹ میں ترمیم کے ذمہ داروں کے تعین کیلئے 2 کمیٹیاں تشکیل دیدیں

  

اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)اسلام آباد ہائیکورٹ نے فیض آباد دھرنے سے متعلق 2 کمیٹیاں تشکیل دے دی ہیں جودھرنے سے متعلق آپریشن کی ناکامی اور الیکشن ایکٹ میں ترمیم کے ذمہ داروں کا تعین کرے گی۔

تفصیلات کے مطابق اسلام آباد ہائیکورٹ میں جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے دھرنے سے متعلق کیس کی سماعت کی،دوران سماعت وفاقی وزیر داخلہ احسن اقبال عدالت میں پیش ہوئے ۔

دوران سماعت جسٹس شوکت عزیز نے وزیر داخلہ سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ آپ نے کیسا معاہدہ کیا ہے؟،آپ معافی مانگ رہے ہیںانہوں نے آپ سے ہر بات منوائی۔

اس پر احسن اقبال نے جواب دیا کہ جو کیا ملک کے مفاد میں کیا،ملک میں خانہ جنگی کی صورتحال ہے۔

جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے فیض آبادآپریشن کی ناکامی کی رپورٹ طلب کرتے ہوئے استفسارکیا کہ مظاہرین کے پاس آنسوگیس کے شیل کہاں سے آئے،آپ نے اپنی ہی انتظامیہ کو ذلیل کروا دیا۔

اس پر وفاقی وزیر داخلہ نے کہا کہ میں نے انتظامیہ کو ذلیل نہیں کروایا،ملک بڑے سیکیورٹی چیلنج کی طرف جارہاتھا۔

فاضل جج نے کہا کہ بتایا جائے الیکشن ایکٹ ترمیم کے پیچھے کون تھا،انوشہ رحمان کو بچانے کیلئے زاہد حامد کو قربانی کا بکرا بنایا جا رہا ہے۔

عدالت نے فیض آباد آپریشن کی ناکامی اور الیکشن ایکٹ میں ذمہ داروں کے تعین کیلئے 2 کمیٹیاں تشکیل دے دیں پہلی کمیٹی جوائنٹ ڈی جی آئی جی انوار خان کی سربراہی میں کام کرے گی جو آپریشن کی ناکامی کے حوالے سے رپورٹ تیار کرے گی جبکہ دوسری کمیٹی بیرسٹر ظفر اللہ کی سربراہی میں نئی کمیٹی تشکیل دےدی گئی جو الیکشن ایکٹ میں ترمیم کے ذمہ داروں کا تعین اور 10 روز میں رپورٹ پیش کرے گی ۔عدالت نے سماعت پیر تک ملتوی کردی۔

مزید پڑھیں:۔حکومت اور تحریک لبیک یا رسول اللہﷺ میں معاہدہ طے پا گیا، 22 روزہ دھرنا ختم کرنے کا اعلان

مزید : قومی /اہم خبریں