دھرنا کیس، آئین کے تحت فوج کیسے ثالث بن سکتی ہے، عدلیہ میں اب جسٹس منیر کے پیروکار نہیں رہے: جسٹس شوکت عزیز صدیقی

دھرنا کیس، آئین کے تحت فوج کیسے ثالث بن سکتی ہے، عدلیہ میں اب جسٹس منیر کے ...
دھرنا کیس، آئین کے تحت فوج کیسے ثالث بن سکتی ہے، عدلیہ میں اب جسٹس منیر کے پیروکار نہیں رہے: جسٹس شوکت عزیز صدیقی

  

اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن) دھرنا کیس کی سماعت کے دوران جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے ریمارکس دیئے ہیں کہ سازش کے تحت اسلام آباد پولیس اور انتظامیہ کو ناکام بنایاگیا، قوم کے ساتھ کب تک تماشا لگا رہے گا، آئین کے تحت فوج معاہدے میں کیسے ثالث بن سکتی ہے ، فوج نے قانون توڑنے اور قانون نافذ کرنے والوں میں معاہدہ کرایا،فوج اپنی حدود میں رہے۔

مقامی میڈیا کے مطابق جسٹس شوکت عزیز صدیقی دھرنا کیس کی سماعت کررہے ہیں ۔ دوران سماعت عدالت میں دھرنا قائدین اور حکومت کے درمیان ہونیوالا معاہدہ پیش کیاگیا جس پر عدالت نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہاکہ ایجنسیوں نے دھرنے کے ذریعے دارالخلافہ بند کرنے کی تیسری کوشش کی،جن فوجیوں کو سیاست کا شوق وہ ریٹائرڈ ہو کر سیاست کریں، مجھے پتہ ہے اس کے بعد میں لاپتہ افراد کی فہرست میں بھی آ سکتا ہوں لیکن عدلیہ میں اب جسٹس (ر) منیر کے پیروکار نہیں رہے۔اس موقع پر عدالت میں موجود آئی ایس آئی کے نمائندے نے ایجنسیوں کے دھرنے میں کردار کی تردید کرتے ہوئے کہاکہ خفیہ اداروں کا دھرنے سے کوئی تعلق نہیں۔

جسٹس شوکت عزیزنے استفسار کیاکہ کیا آئین کے تحت آرمی چیف ایگزیکٹو سے الگ ہیں ؟ فوج کا میجرجنرل کیسے ثالث بنا؟اب تک کیا گیا نقصان ریاست کیوں برداشت کرے گی؟یہاں ردالفساد اور ضرب عضب کہاں گیا؟انسداد دہشتگردی ایکٹ کے تحت آپ نے فوج کیوں نہیں بلوائی گئی؟ادارے ہی ریاست کے خلاف کام کر رہے ہیں،ریاست اور آئین کے ساتھ کھیلنے کی حد ہو گئی ۔

اس سے قبل انہوں نے ختم نبوت کے معاملے میں انکوائری کمیٹی بنانے کا حکم دیتے ہوئے کہاکہ بیرسٹر ظفراللہ 10روز میں ختم نبوت میں ردوبدل کے ذمہ داران کا تعین کرکے عدالت کو آگاہ کریں، انوشے رحمان کو بچانے کیلئے زاہد حامد کو قربانی کا بکرا بنایا جا رہا ہے۔

مزید : قومی