اس معاہدہ پر عمل نہیں کیا جا سکتا کیونکہ ۔۔۔۔۔جسٹس شوکت صدیقی نے دبنگ اعلان کر دیا،دھرنے والوں اور حکومت دونوں کو ہلا کر رکھا دیا ،نیا خطرہ پیدا ہو گیا

اس معاہدہ پر عمل نہیں کیا جا سکتا کیونکہ ۔۔۔۔۔جسٹس شوکت صدیقی نے دبنگ اعلان ...
اس معاہدہ پر عمل نہیں کیا جا سکتا کیونکہ ۔۔۔۔۔جسٹس شوکت صدیقی نے دبنگ اعلان کر دیا،دھرنے والوں اور حکومت دونوں کو ہلا کر رکھا دیا ،نیا خطرہ پیدا ہو گیا

  

اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)اسلام آباد ہائیکورٹ میں دھرنا کیس کی سماعت کے دوران جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ دھرنا مظاہرین پر 20 سے زائد مقدمات درج ہیں جن میں دہشتگردی کی دفعات بھی شامل ہیں بتایا جائے کہ حکومت اور دھرنا قائدین کے درمیان معاہدہ کی کیا حیثیت ہوگی ۔

تفصیلات کے مطابق اسلام آباد ہائیکورٹ میں دھرنا سے متعلق کیس کی سماعت کی ہوئی ،دوران سماعت حکومت اور مذہبی قائدین کے درمیان معاہدے کی کاپی پیش کی گئی جس پر عدالت نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ عدالت نے معاہدے کا نہیں بلکہ صرف دھرنا ختم کرانے اور فیض آباد انٹر چینج خالی کرانے کا حکم دیا تھا۔

جسٹس شوکت صدیقی نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ دھرنا مظاہرین پر 20 سے زائد مقدمات درج ہیں جس میں دہشتگردی کی دفعات بھی شامل ہے ،انہوں نے کہا کہ اس معاہدے پر عمل نہیں کیا جا سکتا کیونکہ مظاہرین پر دہشتگردی کی شقوں والے مقدمات یکدم کیسے ختم ہوں گے ،ان کا کہناتھا کہ ان باتوں کے بعد میری زندگی کی کوئی ضمانت نہیں،معلوم ہے قادیانیوں کو کس نے ڈارلنگ بنا کر رکھا ہوا ہے۔

مزید پڑھیں:۔دھرنا کیس، آئین کے تحت فوج کیسے ثالث بن سکتی ہے، عدلیہ میں اب جسٹس منیر کے پیروکار نہیں رہے: جسٹس شوکت عزیز صدیقی

مزید : قومی /اہم خبریں