رسول پاکﷺ سے ہمارا رشتہِ خاص

رسول پاکﷺ سے ہمارا رشتہِ خاص
رسول پاکﷺ سے ہمارا رشتہِ خاص

  

پچھلے کئی دنوں کی کشیدگی جو کہ ختم نبوت کے حوالے سے ہر مسلمان کے دل پر گہری چوٹ بن کر سامنے آئی خدا خدا کر کے اس سے چھٹکارا نصیب ہوا۔ دوستو۔۔۔۔ نہ تو مجھے سیاست سے کوئی دلچسپی ہے اور نہ میرا کوئی لیڈر ہے۔۔۔مگر بحثییت مسلمان مجھ پر بھی وہی اثرات ہونا لازم تھے جو ہر مسلمان نے محسوس کیے۔فرقہ پرستی کی اس گہری چوٹ سے جہاں میں دوچار ہوئی وہاں ہر زندہ دل رکھنے والا مسلم تڑپ اٹھا۔اور کیوں نہ تڑپتا۔۔. ۔۔۔۔بات تھی اس عظیم ہستی کی جو کفر کے گھٹا توپ اندھیروں میں اک شمع بن کرآئے جن پر ختم نبوت کا فیصلہ ہمارے ربّ نے ہی فرما دیا۔تو پھر کیسے مان لیتے کہ ہمارے عظیم رہبرورہنماکی شان میں کوئی تھوڑی سی بھی گستاخی کرنے کے بارے میں سوچے۔۔۔۔۔۔۔نہیں ہرگز نہیں۔ ہماری اس پاک وبرتر ہستی کے کیا ہی کہنے۔۔۔۔وہ وقت کہ جب کفر کے گھٹا توپ اندھیروں میں اک ننھا سا چاند اُبھرا تو دادا اور باپ کے پیار بھرے لمس سے محروم بچپن گزرا۔۔۔جوانی میں چچا ابو طالب کے ساتھ تجارت اور ایمان داری کے چرچے ،دیانت داری اور قابلیت کی شہرت کی بدولت حضرت خدیجہؓ جیسی نیک اور مالدار خاتون سے رشتہ وجود میں آیا۔وحی کا عالم اور ایک غم گسار بیوی کا ساتھ۔۔۔۔۔کیا کہنے۔۔۔۔ کہ جس نے اپنے تن من دھن کی بازی اسلام کی خاطر لگا دی۔پھر اسلام کی تبلیغ اور کفروشرک کی انتہادو بالکل ہی متضاد قوتیں آپس میں ٹکرائیں۔

اس تمہید کا مقصد اس لئے ضروری سمجھتی ہوں کیونکہ ماہ ربیع الاول کا آغاز ہے اور وہ خاص دن جب روئے زمیں کے نصیب جاگے۔اسی ہستی کو رب پاک نے دونوں جہانوں کے لئے معتبر قرار دیا۔ذکر پاک جب میرے نبی کا ہو تو مہک اٹھتی ہیں فضائیں۔۔۔۔جھوم اٹھتی ہیں ہوائیں۔۔۔۔۔چہک اٹھتے ہیں طوطی وبلبل۔۔۔۔ جھک جاتا ہے اسمان۔۔۔۔اور شکر بجا لاتے ہیں۔۔۔ملک و انسان

قمری نے کہا اللہ اللہ

فرشے نے کہا سبحان اللہ

انساں نے کہا یارسول اللہ

آسمان نے کہا ماشا اللہ

زمیں نے کہا جزاک اللہ

آدم نے کہا انشا اللہ

صفی نے کہا فتبارک اللہ

قسمت تو دیکھئے میرے رسول پاک کی کہ قمری سے لیکر آدم اور زمین و آسمان سب اسکی شان میں محو سرا ہیں۔اور پھر لب پر یہ الفاظ حلیمہؓ میں تیرے مقدراں تو صدقے روح کو بے حد سکون بخشتے ہیں۔

دوستو۔۔۔۔ رسول پاکﷺ آگئے۔۔۔اور عالم پہ چھا گئے۔۔۔۔کفر کے سائے چھٹ گئے۔۔۔۔اور اسلام کا غلبہ غالب آ گیا۔ مگر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ محفل جما لینے سے ہم ان سے محبت کا اظہار تو کر لیتے ہیں اور ولادت کا جشن بھی منا لیتے ہیں۔مگر سوچنے کی بات یہ ہے کہ کیا ہم محبت کے تقاضے پورے کر رہے ہیں۔؟؟؟دوستو۔۔۔۔۔نہ تو میں مذہبی اسکالر ہوں۔۔۔۔اور نہ ہی بہت دیندار

مگر ہوں تو ایک باشعور مسلمان نا،جو اپنے اچھے۔۔۔۔برے۔۔۔۔گناہ وثواب کا حساب احتساب کی صورت کر سکتی ہوں۔

چلیں مل کر آج احتساب کر ہی لیتے ہیں۔ بحثییت مسلمان ہم جشن تو منا لیتے ہیں مگر یہ بھی حقیقت ہے کہ وہ لگن،وہ جستجو،وہ حب رسولﷺ جس کے ہم دعوی دار تو ہیں مگر عملی طور پر وہ ڈور جو ہمارے نبی پاک ہمیں تھما گئے تھے کیا ہم اس سے انصاف برت رہے ہیں؟؟؟

کیا ہم اپنے ہر کام کو ایمانداری سے سرانجام دے رہے ہیں؟؟؟؟ کیابات سچ اور سچائی کی بنیاد پر ہوتی ہے؟؟؟ کیا ہم حقوق اللہ اور حقوق العباد کے پابند ہیں؟؟؟؟کیا ہم صوم وصلوتہ کے پابند ہیں؟؟؟؟یقیناً۔۔۔۔۔۔۔۔نہیں۔۔۔۔۔۔۔۔بالکل نہیں

بلاشبہ۔۔۔۔اپ بھی میری رائے سے اتفاق کریں گے ۔دیکھئے۔۔۔عمل سے زندگی بنتی ہے جنت بھی جہنم بھی کے تحت تو ہم نام نہاد مسلمان ہی ٹھہرے جو اپنے اعمال کی بنیاد پر مختلف ادوار سے گزرتے ہیں جہاں فتنہ و فساد جنم لیتے ہیں جہاں اقربا پروری اور پھرفرقہ پرستی جیسے عوامل جنم لیتے ہیں۔جب عقل پر پردے پڑے ہوں تو پھر آزمائش کی ان گھڑیوں کا دور دورہ ہوناعین اس بات کا ثبوت ہے کہ ہم یورپی استعمار کے احسانات کے بوجھ تلے دبے ہمیں عزت،غیرت،حمیت،حتٰی کہ دینی اقدار سے بھی کوسوں دور ہوتے جا رہے ہیں۔میرے نزدیک وقت کی ضرورت اور امت مسلمہ کی بقا اسی میں ہے کہ ہم دسمبر 2017 کا جشن عید میلاد النبیﷺ پورے دینی جذبے،حبّ رسول،اور حکم الٰہی کے سچے ارمان کے ساتھ منائیں اس سے ہم اپنی دنیا و اخرت دونوں کو سنوار سکیں گے۔

۔

نوٹ: روزنامہ پاکستان میں شائع ہونے والے بلاگز لکھاری کا ذاتی نقطہ نظر ہیں۔ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

مزید : بلاگ