مودی سرکار کی جوڈیشل ایکٹوازم پر عدلیہ سے ٹھن گئی‘ حدود میں رہنے کا مشورہ

مودی سرکار کی جوڈیشل ایکٹوازم پر عدلیہ سے ٹھن گئی‘ حدود میں رہنے کا مشورہ
مودی سرکار کی جوڈیشل ایکٹوازم پر عدلیہ سے ٹھن گئی‘ حدود میں رہنے کا مشورہ

  

نئی دہلی (ویب ڈیسک) جوڈیشل ایکٹوازم پر مودی سرکار کی عدلیہ سے ٹھن گئی اور  اسے اختیارات سے تجاوز نہ کرنے کا مشورہ دیدیا۔ تفصیلات کے مطابق نئے بھارتی چیف جسٹس دیپک مشرا کی تعیناتی اور عوامی نوعیت کے مقدمات میں حکومتی اداروں کو آڑے ہاتھوں لئے جانے کے بعد طاقت کے نشے میں چور مودی حکومت بھنا گئی۔ گزشتہ روز بھارتی یوم دستور کے موقع پر نئی دہلی کے سپریم کورٹ ہال میں سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نریندر مودی نے کہاکہ عدلیہ مقننہ اور حکومت بھارتی آئین کے اہم ستون ہیں۔

انہیں لوگوں کی توقعات پر پورا اترنے کے لئے اپنی حدود میں رہ کر کام کرنا چاہئے اسی توازن کی وجہ سے ہم نے 1977ءکی ایمرجنسی جو بھارت میں لگی تھی‘ کو شکست دی بھارتی صدر رام ناتھ کووند نے تقریب کے دوران بھی حدود میں رہنے کی نصیحت عدلیہ کو کر ڈالی اور کہاکہ اداروں کا اپنے اختیارات میں حد میں رہنا ضروری ہے۔ عدلیہ مقننہ اور حکومت سب اہمیت کے لحاظ سے برابر ہیں۔ بھارتی وزیر قانون روی شنکر پرشاد نے توکھل کر اعلیٰ عدلیہ کو تنقید کا نشانہ بنایا اور کہاکہ وہ ہمیشہ سے عوامی مفاد کی درخواست بازی ”پی آئی ایلز“ کے حق میں رہے ہیں مگر ان کے ذریعے متوازی حکومت کا تاثر نہیں ملنا چاہئے۔ انہوں نے عدلیہ میں ججز کی تقرری کے اختیار کے حوالے سے کہاکہ اگر ججز کی تقرری میں وزیراعظم اور وزیر قانون پر عدلیہ اعتماد نہیں کرتی تو یہ خود اسکے اوپر سوالیہ نشان ہے۔

اداروں کو اپنی حدود اور اختیارات کے اندر رہنا چاہئے‘ حکومت کو اسکا کام کرنے دیں۔ چیف جسٹس آف انڈیا جسٹس دیپک مشرا نے وزیر قانون اور وزیراعظم کی تنقید پر جواب میں تقریر کرتے ہوئے کہاکہ ججز نے عوامی شکایات سے متعلق دادرسی کی درخواستوں کی سماعت کرتے ہوئے متوازن حکومت کا تاثر نہیں دیا ہم نے آئین کی پاسداری کی اور جو ہمیں آئین نے اختیارات دئیے اسی کے تحت عوام کو ریلیف فراہم کیا۔ انہوں نے واضح کیا کہ عدلیہ آئین کی بالادستی پر یقین رکھتی ہے اور بنیادی عوامی حقوق آئین کی اساس ہیں جنکا تحفظ ہر حال میں کیا جائے گا۔

مزید : بین الاقوامی