ترکی سے آسٹریلیا تک پاکستانی سکالر ابویحیٰی کے مشاہدات۔ ..قسط نمبر 22

ترکی سے آسٹریلیا تک پاکستانی سکالر ابویحیٰی کے مشاہدات۔ ..قسط نمبر 22
ترکی سے آسٹریلیا تک پاکستانی سکالر ابویحیٰی کے مشاہدات۔ ..قسط نمبر 22

  

چھوٹے صوبے

ترکی کی آبادی پاکستان سے تین گنا کم ہے یعنی تقریباً ساڑ ے سات کروڑ۔ مگر قارئین کو یہ جان کر حیرت ہو گی کے اس کے 81صوبے ہیں ۔ بڑ ے صوبے یا ریاستیں بادشاہی نظام کی علامت ہیں ۔کیونکہ اس میں حکمرانوں کی ہوس اقتدار کی تسکین کے زیادہ سے زیادہ مواقع ہوتے ہیں ۔ لیکن مقصد اگر عوام کی خدمت ہے تو بڑ ا صوبہ اس راہ کی سب سے بڑ ی رکاوٹ ہے ۔صوبہ یا انتظامی یونٹ جتنا چھوٹا ہو گا عام آدمی کے مسائل اتنی ہی تیزی اور آسانی سے حل ہوں گے ۔ دنیا بھر میں جمہوری حکومتوں نے عوام کی خدمت کی غرض سے پہلے سے موجود صوبوں کو چھوٹے چھوٹے حصوں میں تقسیم کر دیا ہے ۔ مگر پاکستان میں اس کے بالکل برعکس کیا گیا۔ پہلے تو ون یونٹ کے نام پر مغربی اور مشرقی پاکستان کے دو انتظامی یونٹ بنائے گئے ۔ جس کے نتیجے میں مشرقی پاکستان الگ ہو گیا۔ پھر چار دیوہیکل صوبے بنائے گئے ۔اندازہ کیجیے کہ اس وقت پنجاب کی آبادی دس کروڑ اور سندھ کی ساڑ ھے پانچ کروڑ کے قریب ہے ۔

ترکی سے آسٹریلیا تک پاکستانی سکالر ابویحیٰی کے مشاہدات۔ ..قسط نمبر 21  پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

پچھلے دس برسوں میں جب ہماری سیاسی ایلیٹ نے یہ سمجھ لیا کہ کوئی پارٹی مکمل پاکستان میں اقتدار حاصل نہیں کرسکتی بلکہ اہم پارٹیاں صرف صوبوں تک محدودہوگئی ہیں تو انھوں نے اٹھارہویں ترمیم کے ذریعے زیادہ تر مالی اختیار صوبوں کو منتقل کیے ۔ اب ہر پارٹی قوم پرستی کی بنیاد پر اپنے صوبے سے منتخب ہونے کی کوشش کرتی ہے ۔ مرکز میں جیت گئے تو اچھی بات ہے ورنہ صوبوں میں اور اس کے بعد مکمل اختیارات سے حکومت کرنے اور لوٹ مار کے بھرپور مواقع تو موجود ہی ہیں ۔ مگر درحقیقت یہ پاکستان کو مزید تقسیم کرنے کا راستہ ہے ۔ یہ صورتحال اگر تبدیل نہیں کی گئی تو اگلے بیس تیس برسوں میں اس کا شدید اندیشہ ہے کہ پاکستان میں مزید تقسیم ہو جائے گی۔چھوٹے صوبے بنانا ہمارے بیشتر مسائل کا حل ہے ۔

اصل کام

ان بنیادی سیاسی اور انتظامی اصلاحات کے ساتھ ساتھ ضروری ہے کہ فکری قیادت نے قوم کو جن لایعنی نشانوں کی طرف دوڑ ارکھا ہے ان کے بجائے اصل نشانے یعنی اعلیٰ اخلاقی رویے کو نصب العین بنا کر قوم کے سامنے پیش کیا جائے ۔نظام تعلیم کو اسی اصول پر از سر نومنظم کیا جائے ۔ تعلیمی نظام کے لیے کم از کم دس فی صد بجٹ وقف کیا جائے اور پوری قوم کے لیے صرف ایک نظام تعلیم مقرر کیا جائے ۔ ایک نظام تعلیم ایک قوم بناتا ہے ۔ جبکہ ہمارے ہاں دس نظام تعلیم ہیں جو دس طرح کی قوم پیدا کر رہے ہیں ۔

جب تعلیم یافتہ اور اعلیٰ اخلاقی انسان پیدا ہونا شروع ہوں گے تو ایک نسل میں معاملات ٹھیک ہو جائیں گے ۔ قومی اصلاح کی راہ کا کوئی شارٹ کٹ نہیں ہوتا۔یہی وہ راستہ ہے جو آخر کار دنیا میں ہماری عزت و وقار کا سبب بنے گا۔

دنیا میں پاکستان کی عزت

مینیا ترک کو جب ہم پورا دیکھ چکے تومیری اہلیہ بچے کو جھولوں میں بٹھانے لے گئیں ۔ میں ایک جگہ سائے میں نشست پر بیٹھ کر ان کا انتظار کرنے لگا۔ برابر میں ایک عمر رسیدہ ترک جوڑ ا بیٹھا ہوا تھا۔ خاتون نے مجھ سے میرے متعلق پوچھا۔ میں نے بتایا کہ میں پاکستانی ہوں تو بہت خوش ہوئیں اور ٹوٹی پھوٹی انگریزی میں کہا کہ پاکستان ہمارا دوست ملک ہے ۔ اس سے قبل گوریم میں بھی ہم پاکستان اور پاکستانیوں کے حوالے سے اسی طرح کے الفاظ سن چکے تھے ۔

ترکی اب شاید ان اکا دکا ملکوں میں سے ایک ملک ہے جہاں پاکستان کے متعلق کچھ حسن ظن رہ گیا ہے ۔ورنہ پچھلے دنوں ایک دوست جو سری لنکا گئے تھے بتایا کہ وہاں بھی ائیرپورٹ سے باہر نکلتے ہی پولیس نے پوری فلائٹ کو چھوڑ کر صرف مجھے دھر لیا اور پولیس اسٹیشن لے جا کر پوری تحقیق کی۔ صرف اس وجہ سے کہ میں پاکستانی ہوں ۔ وجہ پولیس نے خود بتائی کہ پاکستانی چونکہ منشیات لے کر آتے ہیں اس لیے ان سے تفتیش ضروری ہوتی ہے ۔ خیال رہے کہ اب سری لنکا کا بھی ویزہ لینا پڑ تا ہے ، ورنہ میں ایک زمانے میں جب یہاں گیا تھا تو بغیرکسی تکلف کے ائیرپورٹ سے نکلا اوراطمینان سے پورا سری لنکا گھوم کر آیا تھا۔اسی طرح ملائیشیا گیا تھا تو سنگاپور کے بارڈ پر ویزہ مل گیا تھا۔ اب تو وہاں بھی ویزہ لے کر جانا پڑ تا ہے ۔(جاری ہے)

ترکی سے آسٹریلیا تک پاکستانی سکالر ابویحیٰی کے مشاہدات۔ ..قسط نمبر 23 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

مزید : سیرناتمام