’’بیٹا یونیورسٹی پڑھنے گیا ،پھر واپس نہیں آیا ‘‘چارسال سے مسلسل بیٹے کی بازیابی کے لئے بھوک ہڑتال کرنے والے محنت کش بوڑھے پاکستانی کی فریاد

’’بیٹا یونیورسٹی پڑھنے گیا ،پھر واپس نہیں آیا ‘‘چارسال سے مسلسل بیٹے کی ...
’’بیٹا یونیورسٹی پڑھنے گیا ،پھر واپس نہیں آیا ‘‘چارسال سے مسلسل بیٹے کی بازیابی کے لئے بھوک ہڑتال کرنے والے محنت کش بوڑھے پاکستانی کی فریاد

  

عمرکوٹ(سید ریحان شبیر)عمرکوٹ کا"65"سالہ بوڑھا جلال میگھو اڑ گزشتہ 1500سے زائد دنوں سے مسلسل علامتی بھوک ہڑتال پرہے۔گزشتہ چار سال قبل گم ہوئے اپنے موھن کی بازیابی کیلیے پریس کلب عمرکوٹ کے باہر بھوک ہڑتال پر بیٹھے بوڑھے کا بیٹا عمرکوٹ سے اعلیٰ تعلیم کے حصول کے لیے مہران یونیورسٹی حیدرآباد گیا اور 2013۔7۔24حیدر آبادسے اچانک گم ہو گیا تھا۔ گزشتہ چار سال سے موھن میگھواڑ کا کوئی پتہ نہیں چلا تو جلال میگھواڑ نے پر یس کلب کے برابر اپنا بھوک ہڑتالی کیمپ لگالیا۔

بوڑھے غریب جلال میگھواڑ نے ڈیلی پاکستان آن لائن کو بتایا ’’میں نے اپنے لخت جگر موھن کو اچھے مستقبل کے لیے اعلیٰ تعلیم کے حصول کے لیے مہران یونیورسٹی بھیجا تھا کہ میرا بچہ پڑھ لکھ کر ہمارا سہارا بنے گا مگر گزشتہ چار سال سے اس کا کوئی اتاپتا نہیں۔ میں ایک غریب محنت کش ہوں ،بیٹے کے سوا میرا کوئی سہارا بھی نہیں‘‘ جلال میگھواڑ نے انتہائی دکھی اورافسوس زدہ لہجے میں شکوہ کرتے ہوئے بتایا کہ کوئی حکومتی یا دیگر ادارے میری داد رسی کرنے کے لیے تیار نہیں۔ میں میڈیا کے توسط سے سپریم کورٹ آف پاکستان کے چیف جسٹس ،اور سندھ ہائی کورٹ کے چیف جسٹس ،چیف آف آرمی اسٹاف اور وزیراعظم سے اپیل کرتا ہو ں کہ میرے بچے کو مجھ سے ملوادو۔

مزید : عمرکوٹ