2037 ء سے پہلے یہ لوگ کچھ کریں گے

2037 ء سے پہلے یہ لوگ کچھ کریں گے
2037 ء سے پہلے یہ لوگ کچھ کریں گے

  

2037 امیدوں کے بر آنے کا ہدف ہے۔ترقی خوشحالی اور عمل پسند پاکستان کا خواب ہے۔ اس میں کوئی شبہ نہیں پاکستان بدل جائے گا اور یہ معرکہ وہ نسل انجام دے گی جو اس وقت پاکستان کے اندر پیدا ہونے والی صورت حال کا بنظر غائر مطالعہ کرکے مذہب اور تعلیم پر فوکسڈ ہے۔وہ اپنا ذہن بنا چکی ہے۔

پاکستان میں ایک دائیں بازو ہے جو اسلام کا نفاذ چاہتا ہے۔ ایک بائیں بازو ہے جو ملک میں سیکولرازم چاہتا ہے۔ مگریہ دونوں گروہ محدود اقلیت محدودہیں۔ یہاں بھاری اکثریت اس پاکستانی قوم کی ہے جو اسلام سے محبت کرتی ہے، لیکن انتہا پسندی سے نفرت بھی کرتی ہے۔

اس پاکستانی قوم کی ساٹھ فیصد تعداد نوجوانوں پر مشتمل ہے۔ ان نوجوانوں نے اپنی ساری شعوری زندگی میں اسلام کے نام پر خود کش حملے ہوتے ہوئے دیکھے اور اب اسلام اور پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی شخصیت کے نام پر دھرنے، راستوں کا بند ہونا ، لوگوں کا گھنٹوں سڑکوں پر پھنسے رہنا ، بے ہودہ گفتگو اور گالیاں اور ان گالیوں پر سبحان اللہ ماشاء اللہ کی داد کو دیکھ رہی ہے۔

یہ نوجوان نسل آئندہ آنے والے برسوں میں سیاسی جماعتوں، بیوروکریسی، فوج اور عدلیہ جیسے طاقتور اداروں سمیت تمام ملک کی بھاگ دوڑ سنبھالے گی۔ اس نوجوان نسل کے لیے دائیں اور بائیں بازو کی بحثیں غیر اہم ہیں۔ یہ ان کو پڑھتے ہیں نہ سنتے ہیں۔ یہ نوجوان اپنا ذہن خود کش حملوں اور دھرنوں کی روشنی میں بناتے ہیں۔ ایک خود کش حملہ آور اس نوجوان نسل کو اس نتیجے تک خود ہی پہنچادیتا ہے جس پر بائیں بازو کے دس دانشور بھی نہیں پہنچاسکتے۔ اسی طرح مذہب کے نام پر کیا گیا ایک دھرنا اور اس میں استعمال کی گئی زبان ہی اس نوجوان اکثریت کو اس نقطہ نظر پر قائل کرنے کے لیے بہت ہے جس پرانھیں سیکولرازم کے ہزار حامی بھی قائل نہیں کرسکتے۔

لوگ موجودہ دھرنے کو حکمران پارٹی اورمقتدرطبقات کی مخاصمت کا شاخسانہ قرار دیتے ہیں۔ مگر ایک باشعور انسان جو جانتا ہے کہ سماج اور تاریخ کن عوامل کے تحت کام کرتے ہیں، ان حالات میں پاکستان کا مستقبل میں دیکھ سکتا ہے۔ سیاسی مفادات کے لیے اسلام کا یہ استعمال اسی طرح جاری رہا تواطمینان رکھیے ، سن 2037 سے پہلے ہی یہ نسل اپنا فیصلہ سنادے گی۔

.

نوٹ: روزنامہ پاکستان میں شائع ہونے والے بلاگز لکھاری کا ذاتی نقطہ نظر ہیں۔ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

مزید : بلاگ