دنیا کی وہ سرحد جہاں دو طاقتور ممالک کے درمیان ہتھیاروں نہیں بلکہ لاﺅڈسپیکرز کے ذریعے جنگ لڑی جارہی ہے

دنیا کی وہ سرحد جہاں دو طاقتور ممالک کے درمیان ہتھیاروں نہیں بلکہ ...
دنیا کی وہ سرحد جہاں دو طاقتور ممالک کے درمیان ہتھیاروں نہیں بلکہ لاﺅڈسپیکرز کے ذریعے جنگ لڑی جارہی ہے

  

پیانگ یانگ(مانیٹرنگ ڈیسک) دنیامیں جنگیں ہتھیاروں سے لڑی جاتی ہیں لیکن دنیا کے دو ملک ایسے ہیں جو ہتھیاروں سے نہیں بلکہ لاﺅڈ سپیکرز سے جنگ لڑ رہے ہیں۔ میل آن لائن کی رپورٹ کے مطابق یہ ملک جنوبی اور شمالی کوریا ہیں، جنہوں نے بارڈر پر اپنی اپنی طرف انتہائی طاقتور سپیکر نصب کر رکھے ہیں اور ان کے ذریعے اپنا پراپیگنڈا کر تے ہیں۔جنوبی کوریا ایک ایف ایم ریڈیو کی نشریات ان سپیکرز کے ذریعے نشر کرتا ہے۔ اس ریڈیوسٹیشن کا نام ’فریڈم وائس‘ ہے۔ یہ سپیکر اس قدر طاقتور ہیں کہ ان کی آواز شمالی کوریا کے اندر 20کلومیٹر تک سنائی دیتی ہے۔

انٹرنیٹ پر اسلام کے خلاف پراپیگنڈہ کون اور کیسے کررہا ہے؟ سب سے بڑی سازش بے نقاب ہوگئی، صرف انسان نہیں بلکہ۔۔۔ تہلکہ خیز حقیقت سامنے آگئی

رپورٹ کے مطابق13نومبر کو ایک 24سالہ شمالی کورین فوجی جو اپنی ٹیم کے ساتھ بارڈر پر گشت کر رہا تھا، اچانک اپنی فوجی جیپ سے نکلا اور بھاگ کر بارڈرلائن عبور کرکے جنوبی کوریا میں داخل ہو گیا۔ اسے روکنے کے لیے اس کے ساتھیوں نے اس پر فائرنگ بھی کی، جس سے وہ زخمی ہوا تاہم وہ جنوبی کوریا کی طرف بنی ایک آڑ میں پناہ لے کر جان بچانے میں کامیاب ہو گیا اور بعدازاں اسے جنوبی کورین فوجیوں نے آ کر وہاں سے ریسکیو کیا۔ اب جنوبی کوریا اس فوجی کے حوالے سے ’فریڈم وائس‘ کی نشریات میں بتا رہا ہے اور شمالی کورین فوجیوں کی اپنے باغی فوجی پر فائرنگ کو فائربندی کے معاہدے کی خلاف ورزی قرار دے رہا ہے۔دوسری طرف اپنے فوجی کے مفرور ہونے پر شمالی کوریا نے اس جگہ بارڈر پر خندق کھودنی شروع کر دی ہے تاکہ آئندہ کوئی فرار ہو کر دوسری طرف نہ جا سکے۔

مزید : بین الاقوامی