مذاکرات کے دروازے بند نہیں مگر جب تک مطالبات پر عملدرآمد نہیں ہوتا ہمارا دھرنا جاری رہے گا: اشرف آصف جلالی

مذاکرات کے دروازے بند نہیں مگر جب تک مطالبات پر عملدرآمد نہیں ہوتا ہمارا ...
مذاکرات کے دروازے بند نہیں مگر جب تک مطالبات پر عملدرآمد نہیں ہوتا ہمارا دھرنا جاری رہے گا: اشرف آصف جلالی

  

لاہور (ڈیلی پاکستان آن لائن) تحریک لبیک یارسول ﷺ کے مرکزی رہنماءعلامہ اشرف جلالی نے کہا ہے کہ ہم حکومت سے مذاکرات کے دروازے بند نہیں کر رہے لیکن جب تک ہمارے مطالبات منظور نہیں ہوتے اور ہمارے منظور شدہ مطالبات پر عمل درآمد نہیں ہوتا ہمارا دھرنا جاری رہے گا ۔4جنوری کو داتا دربار سے پنجاب اسمبلی تک تاجدا ر ختم نبوت ﷺ مارچ کریں گے اور اسلام آباد دھرنے میں جاں بحق ہونے والے افراد کا چہلم پنجاب اسمبلی کے باہر ہوگا۔

ختم نبوت حلف نامے میں تبدیلی کی تجویز ایک خاتون وزیرنے دی تھی، راجہ ظفرالحق کی رپورٹ کے مندرجات منظرعام پر

لاہور میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے تحریک لبیک یارسول اللہ ﷺ کا کہنا تھا کہ ہمارے ڈی چوک میں دھرنے کے وقت چھے مطالبات تھے جن میں سے تین مطالبات کی ڈیڈ لائن گرز چکی ہے۔ اس وقت ہمارا اصل مطالبہ خون شہدا کا مطالبہ ہے، سب سے پہلے فیض آباد دھرنے کے شہدا کی تعداد ہمیں بتائی جائے اور اس کے بعد فیض آباد دھرنے کی ایف آئی آر کاٹتے ہوئے قاتلوں کے خلاف کارروائی کی جائے۔ ہم اس خون کا بدلہ آئینی طور پر لینا چاہتے ہیں اور کبھی بھی قوم ان بھیڑیوں کو معاف نہیں کرے گی، اگراسلام آباد میں آپریشن کے دوران جاں بحق ہونے والے افراد کے گھر والے خون بہا معاف کردیں ہم کبھی بھی معاف نہیں کریں گے۔ ان کا خون کسی شخصیت ، پلاٹ یا مکان کے لئے تحفظ ناموس رسالت ﷺ کے لئے بہایا گیا ہے۔ جب تک ہمیں حکومت اپنی کارروائی سے مطمئن نہیں کرتی ہمارا دھرنا جاری رہے گا۔انہوں نے اپنا دوسرا مطالبہ پیش کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ حکومت پنجاب کی جانب سے صوبے میں لاﺅڈ سپیکر کی پابندی ختم کی جائے اور اس پابندی کے خلاف گرفتار اماموں اور خطیبوں پر کاٹی گئی ایف آئی آرز واپس لی جائیں۔ اس پابندی کا خاتمہ ہمارے مطالبات میں سے ایک بنیادی مطالبہ ہے۔ہمارا اگلا مطالبہ تھا کہ رانا ثناءاللہ کو برطرف کرکے آئین کے مطابق ان کے خلاف مقدمہ درج کیا جائے مگر حکومت نے اس مطالبے پر تا حال عملدرآمد نہیں کیا گیا۔ہمارارانا ثناءاللہ کے استعفے ہی کامطالبہ نہیں بلکہ ان پر آئین پاکستان سے بغاوت کا مقدمہ درج کیا جائے ۔جو لوگ ختم نبوت ﷺکے حلف نامے میں تبدیلی کے ذمہ دار ہیں انہیں برطرف کرکے ان پر مقدمہ قائم کیا جائے۔

مزید : قومی /اہم خبریں