فیض آباد دھرنے کے شرکاءپر طاقت کے استعمال کے خلاف وکلاءکااحتجاج ،عدالتوں میں بھی پیش نہیں ہوئے

فیض آباد دھرنے کے شرکاءپر طاقت کے استعمال کے خلاف وکلاءکااحتجاج ،عدالتوں ...
فیض آباد دھرنے کے شرکاءپر طاقت کے استعمال کے خلاف وکلاءکااحتجاج ،عدالتوں میں بھی پیش نہیں ہوئے

  

لاہور(نامہ نگار خصوصی )وکلاءنے فیض آباد میں دھرنے کے شرکاءپر طاقت کے استعمال کے خلاف احتجاج کے طور پر ہڑتال کی اور عدالتوں میں پیش نہیں ہوئے، لاہور ہائیکورٹ بار ایسو سی ایشن نے مطالبہ کیا ہے کہ حکومت تمام تر صورتحال پر معافی مانگے ۔

کراچی سمیت دیگر شہروں میں دھرنے ختم،معمولات زندگی بحال،کاروباری مراکز اور مارکیٹیں کھلنا شروع ہو گئیں

پنجاب بار کونسل کے اعلان پر لاہور ہائیکورٹ بار کے وکلاءنے بھی احتجاج کرتے ہوئےہڑتال کی اور فوری نوعیت کے مقدمات کے سوامقدمات کی پیروی کے لئے عدالتوں میں پیش نہیں ہوئے جبکہ ہائیکورٹ میں آنے والے سائلین کی تعداد بھی نہ ہونے کے برابر رہی، وکلاءکے احتجاج کی وجہ سے عدالتوں میں گہما گہمی نہیں رہی اور سائلین مقدمات پر بغیر کارروائی کے واپس لوٹ گئے عدالتوں میں وکلاءکے پیش نہ ہونے کی وجہ سے مقدمات پر کارروائی بغیر کسی پیش رفت آئندہ سماعت تک ملتوی کر دی گئی۔لاہور ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن نے اپنے ہنگامی اجلاس میں ایک قرار داد کے ذریعے فیض آباد دھرنا کے شرکاءپر طاقت کے استعمال کی بھرپور مذمت کی اور مطالبہ کیا کہ ختم نبوت کے قانون میں ترمیم کے ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے ان سے استعفیٰ لیا جائے ، لاہور ہائیکورٹ بار نے احسن اقبال کونااہل اور غیر سنجیدہ وزیر داخلہ قرار دیتے ہوئے یہ مطالبہ بھی کیا کہ ان کے خلاف انتشار پھیلانے پر کاروائی عمل میں لائی جائے۔قرارداد میںملک بھر کے مسلمانوں بالخصوص دھرنا کے شرکاءاور وکلاءکے جذبہ حب رسول کو سراہتے ہوئے انہیں مبارکباد دی گئی ہے کہ ختم نبوت بل بحال ہو گیا اور تمام دنیا کو عاشقان رسول کے جذبہ ایمانی کا واضح پیغام پہنچ گیا۔ ہائی کورٹ بار نے مطالبہ کیا ہے کہ ملک بھر میں مسلمانوں کے جذبات مجروح کرنے اور انتشار پھیلانے پر حکومت معافی مانگے۔شہدائے حرمت رسول کے لواحقین کی معقول مالی معاونت کی جائے۔ دھرنا کے دوران گرفتار شدہ عاشقان رسول کو فی الفور رہا کر کے مقدمات واپس لئے جائیں۔زخمیوں کو علاج معالجہ کی مکمل سہولیات فراہم کرنے کے علاوہ حکومت مالی امداد دے۔ختم نبوت بل میں ترمیم کرنے والے افراد کے خلاف کاروائی کی جائے اور اس ترمیم کے پس پردہ محرکات بتائے جائیں۔لاہور ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن نے پاکستان آرمی کے دانشمندانہ اقدامات کو بھی خراج تحسین پیش کیا۔لاہور ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر چودھری ذوالفقار علی نے مطالبہ کیا کہ مظاہرین کے خلاف مقدمات کو تین روز کی بجائے ایک روز میں ختم کیا جائے ۔

مزید : لاہور