’میرا خطبہ جمعہ ادھورا رہ گیا تھا، اب میں۔۔۔‘ مصر کی مسجد میں دہشتگردوں کے حملے میں 300 افراد کی شہادت کے بعد شدید زخمی امام مسجد نے ہسپتال سے ایسا اعلان کردیا کہ جان کر آپ کا بھی ایمان تازہ ہوجائے گا

’میرا خطبہ جمعہ ادھورا رہ گیا تھا، اب میں۔۔۔‘ مصر کی مسجد میں دہشتگردوں کے ...
’میرا خطبہ جمعہ ادھورا رہ گیا تھا، اب میں۔۔۔‘ مصر کی مسجد میں دہشتگردوں کے حملے میں 300 افراد کی شہادت کے بعد شدید زخمی امام مسجد نے ہسپتال سے ایسا اعلان کردیا کہ جان کر آپ کا بھی ایمان تازہ ہوجائے گا

  

قاہرہ(مانیٹرنگ ڈیسک)جمعہ کے روز مصر کی ایک مسجد میں دہشتگردی کا انتہائی لرزہ خیز واقعہ رونما ہوا جس میں 300 سے زائد افراد شہید ہوئے۔ یہ حملہ اس وقت کیا گیا جب مسجد کے امام محمد عبدالفتح خطبہ دے رہے تھے۔ اگرچہ اس واقعے نے ایک دنیا کو دہلا کر رکھ دیا ہے لیکن ہسپتال میں زیر علاج امام مسجد محمد عبدالفتح نے ایک ایسی بات کہہ دی ہے کہ سن کر یقینا دہشتگردوں کوشرم بھی آئے گی اور اپنی شکست کا احساس بھی ہو گا۔ یقینا انہیں اس بات کا بھی یقین ہو جائے گا کہ دہشت گردوں کی سفاکانہ کاروائیاں امن پسند مسلمانوں کا حوصلہ پست نہیں کر سکتیں۔

گلف نیوز کے مطابق محمد الفتح کا کہنا ہے کہ دہشت گردوں نے خطبہ جمعہ کے دوران حملہ کر کے اسے روکا، لیکن وہ دوبارہ اسی مسجد میں جائیں گے اور خطبے کا آغاز وہیں سے کریں گے جہاں سے سلسلہ ٹوٹا تھا۔ انہوں نے دہشت گردی کے واقعے کے بارے میں بات کرتے ہوئے بتایا ”مجھے خطبہ شروع کئے ہوئے ابھی دو منٹ ہی ہوئے تھے کہ اچانک دھماکوں کی آواز آئی اور لوگ ادھر اُدھر بھاگنے لگے۔ پھر دہشتگرد مسجد میں داخل ہوئے اور سب پر گولیاں برسانا شروع کردیں۔ میں نیچے گرا اور بہت سے لوگ میرے اوپر سے گزر گئے۔ پھر میرے اوپر کچھ زخمی گرے اور میں کافی دیر تک لاشوں کے نیچے دبا رہا۔“

محمد عبدالفتح شمالی سینائی کے علاقے راﺅدہ کی ایک مسجد میں دو سال سے امامت کے فرائض سرانجام دے رہے ہیں۔ جمعہ کے روز جب دہشتگردوں نے حملہ کیا تو وہ ”محمد ﷺ پیغمبر انسانیت“ کے موضوع پر خطاب کر رہے تھے۔ دھماکوں کے باعث وہ زخمی ہو کر ممبر سے نیچے گر گئے اور خوف کے باعث بھاگتے ہوئے افراد کے پاﺅں تلے کچلے گئے۔ بعدازاں زخمی ہونے والے افراد ان کے دائیں بائیں اور اوپر گرنے لگے۔ انہوں نے دوبارہ ذمہ داریاں سنبھالنے کے عزم کا اظہار کرتے ہوئے کہا ”اگر میری صحت نے اجازت دی تو میں اسی جمعہ کے روز مسجد پہنچوں گا اور خطبے کا سلسلہ وہیں سے شروع کروں گا جہاں سے یہ سلسلہ ٹوٹا تھا۔“

مزید : عرب دنیا