سیاسی ہنگاموں کو انتظامیہ اپنے طریقے سے حل کرتی ہے، عدالت کوایسے معاملات میں احتیاط سے کام لینا چاہیے : مجیب الرحمان شامی

سیاسی ہنگاموں کو انتظامیہ اپنے طریقے سے حل کرتی ہے، عدالت کوایسے معاملات میں ...
سیاسی ہنگاموں کو انتظامیہ اپنے طریقے سے حل کرتی ہے، عدالت کوایسے معاملات میں احتیاط سے کام لینا چاہیے : مجیب الرحمان شامی

  

لاہور (ڈیلی پاکستان آن لائن) سنیئر صحافی اور تجزیہ کار مجیب الرحمان شامی نے کہا ہے کہ سیاسی ہنگاموں میں انتظامیہ جوڑ توڑ کے ذریعے معاملات کو حل کرنے کی کوشش کرتی ہے اور اس جوڑ توڑ کے تحت ہی مسائل کو حل کیا جاتا ہے، حساس معاملات پر انتظامیہ کو اپنا کام کرنے دینا چاہئے اور ایسے معاملات میں عدالت کو احتیاط سے کام لینا چاہیے ۔

بے گناہ افراد کو ہراساں کرنے والے نیب اہلکاروں کے خلاف کارروائی کی جائے گی: جسٹس (ر) جاوید اقبال

نجی ٹی وی چینل کے پروگرام ”نقطہ نظر “ میں گفتگو کرتے ہوئے سینئر صحافی اور تجزیہ کار مجیب الرحمان شامی کا کہنا تھا کہ آج دھرنے کے حوالے سے عدالت کے ریمارکس کچھ اچھے نہیں ہیں ۔دھرنے کے مسئلے کو بہتر انداز میں سر انجام دینے پر چیف آف آرمی سٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ کے کردار کو سراہا جا رہا ہے، اس حوالے سے وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی نے آرمی چیف سے ملاقات کی اور اس ملاقات کے بعد ایک ہائی لیول کی میٹنگ ہوئی ہے ۔ اس میٹنگ میں آرمی چیف نے حکومت کو مشورہ دیا کہ معاملات کو افہام و تفہیم کے ذریعے حل کیا جائے ، سینئر صحافی کا مزید کہنا تھا کہ فوج کا یہ کام نہیں کہ وہ کسی حساس معاملے پر احتجاج کرنے والوں پر گولی چلائے، اگر کوئی باغی ہوجائے اور ہتھیار اٹھا کر سامنے آجائے تو ہی فوج اس کا جواب دینے کی مجاذ ہے ۔اگر تحریک لبیک کے کارکنوں نے بندوقیں اٹھا رکھی ہوتیں اور وہ فوج کے سامنے آجاتے ،تو پھر پاک فوج گولی کا جواب گولی سے دیتی مگر یہ لوگ رسول اللہ ﷺ کے نام پر اکٹھے ہوئے اور آرمی کو ایسے معاملات میں مداخلت نہیں کرنا چاہیے تھی۔آرمی چیف نے وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی کی خواہش اور تائید کے ساتھ ہی دھرنے کے پرامن حل کے لئے اپنا کردار ادا کیا۔

مجیب الرحمان شامی کا مزید کہنا تھا کہ عدالت کو دھرنے کے معاملات میں احتیاط سے کام لینا چاہیے تھا کیوں کہ سیاسی ہنگاموں او ایسے مظاہروں میں جن سے لوگوں کے جذبات جب مشتعل ہوتے ہیں تو اس وقت انتظامیہ جوڑ توڑ کرتی ہے اور اپنے مسائل کو طے کرنے کی کوشش کرتی ہے۔ عدالتی احکامات اس وقت جاری نہیں کئے جاتے۔ ان معاملات میں عدالت کو بھی احتیاط سے کام لینا چاہیے ، دھرنے کے حوالے سے حکومت نے عدالت کو کوئی درخواست نہیں کی تھی بلکہ عدالت نے از خود نوٹس لیا، عدالت کو اس نوٹس سے گریز کرنا چاہیے تھا۔ انہوں نے مزید کہا کہ اگر توہین عدالت کا کوئی مسئلہ ہوا ہے تو اس پورے بیان میں یہ نہیں بتایا گیا کہ کس نے کیا کہا؟ ، اگر دھرنے میں کوئی توہین عدالت کی گئی ہے تو عدالت آزاد ہے اس حوالے سے نوٹس جاری کرے ۔ ایسے ماحول میں نرمی سے کام لیا جائے اور چیزوں کو سنبھالا جائے اور آئندہ کے تدبیر کی جائے اور قانون سازی کی جائے۔

مزید : قومی