دھرنا مظاہرین سے معاہدہ افسوسناک باب ، دھرنے کی وجہ سے ہم داخلی طور پر کمزور ہوئے : احسن اقبال

دھرنا مظاہرین سے معاہدہ افسوسناک باب ، دھرنے کی وجہ سے ہم داخلی طور پر کمزور ...
دھرنا مظاہرین سے معاہدہ افسوسناک باب ، دھرنے کی وجہ سے ہم داخلی طور پر کمزور ہوئے : احسن اقبال

  

اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) وفاقی وزیرداخلہ احسن اقبال نے کہا ہے کہ فیض آباد دھرنا مظاہرین سے معاہدہ ایک افسوسناک باب ہے ، دھرنے کا اختتام نا خوشگوار ہے اور نہ ہی اس پر فخر کیا جاسکتا ہے، ملک میں نفرتوں کے بیج بوئے جار ہے ہیں ، ان کے نتائج ہماری آنے والی نسلیں بھگتیں گی، علمائے کرام نفرتوں کی بیخ کنی کرنے کے لئے مدد کریں ، اسلام آباد دھرنے کی وجہ سے ملک بھر میں حالات کشید ہ ہوئے اور ہم داخلی طور پر کمزور ہوئے ۔

سیاسی ہنگاموں کو انتظامیہ اپنے طریقے سے حل کرتی ہے، عدالت کوایسے معاملات میں احتیاط سے کام لینا چاہیے : مجیب الرحمان شامی

نجی ٹی وی کے پروگرام ”کل تک “ میں گفتگو کرتے ہوئے وزیر داخلہ احسن اقبال کا کہنا تھا کہ سیاست اور فوج ایک دوسرے کا متبادل نہیں ہوسکتیں،حکومت اور عسکری اداروں نے مل کر دھرنا مظاہرین کے ساتھ معاہدہ کیا ، معاہدہ نہ کرتے تو ملک میں حالات مزید خراب ہو سکتے ہیں۔سیاستدانوں کو گالیاں دینے والے ریٹائرڈ فوجی افسر پاک فوج کو بدنام کررہے ہیں جب کہ سابقہ دھرنوں کے پیچھے بھی جنرل(ر)طارق خان تھے جو روزانہ ٹی وی پر آکر تبصرے کرتے رہتے ہیں میں انہیں مناظرے کا چیلنج کرتا ہوں وہ آئیں اور دوبدو بات کریں۔ مذہبی جماعت کے ساتھ ہونے والے معاہدے سے معاملے کااختتام ناخوشگوار ہے،معاہدے کی شقیں دونوں فریقین نے مل کرترتیب دیں کچھ نکات دھرنا مظاہرین نے دیے اور کچھ حکومت کی طرف سے گئے،دونوں جانب سے تجاویز کو سامنے رکھ کر معاہدے کا ڈرافٹ تیار کیا گیا۔ دھرنا مظاہرین کے خلاف ایکشن میری اجازت سے نہیں ہوا بلکہ ضلعی انتظامیہ نے عدالتی احکامات پر عملدرآمد کے لیے کارروائی کی اطلاع دی۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان آج تک اگر مضبوط جمہوری ریاست نہیں بن سکا تو اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ ہم ایک دوسرے کی ٹانگیں کھینچنے میں لگے ہوئے ہیں،پاکستان کے جغرافیے کو کبھی جمہوریت نے نقصان نہیں پہنچایا بلکہ ہمیشہ مارشل لا نے ملکی جغرافیے پرضرب لگائی۔

احسن اقبال نے کہا کہ ختم نبوت پرکوئی سمجھوتہ ہوا ہے نہ ہوسکتا ہے ملک میں مذہب کے نام پرہیجان پیدا کیا گیا لیکن سول حکومت اور ریاستی اداروں نے حالات پر قابو پالیا،دھرنے کے دوران گھروں پر حملے افسوسناک تھے کسی شہری نے مظاہرین پر مقدمہ درج کرایا ہے تو وہ ہی واپس لے سکتا ہے۔ دہشتگردی کے خلاف جنگ سب کو مل کرلڑنی ہے اگر یہ جنگ جیتنی ہے تو سول اور عسکری اداروں میں تعاون بڑھانے کی ضرورت ہے۔انہوں نے کہا کہ آمریت کے ادوار میں کرپشن کے خلاف ڈرائی کلینرکی مشینیں لگیں لیکن ہر مارشل لا کے بعد کرپشن بڑھی کیونکہ انہیں ادوار میں کرپشن کے نئے طریقے ایجاد کیے گئے۔

احسن اقبال کا کہنا تھا کہ اگر پورا پاکستان بھی مستعفی ہوجائے تب بھی عمران خان کی حکومت نہیں آئے گی۔شیخ رشید اور چند دیگر افراد نے ملک میں جاری افراتفری کو ہوا دینے کی کوشش کی مگر سول و عسکری قیادت نے اس مسئلے کو اپنی دانشمندی سے حل کر لیا ۔

مزید : قومی /اہم خبریں