مولانا ظفر علی خان کی برجستہ شعر گوئی

مولانا ظفر علی خان کی برجستہ شعر گوئی

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

مولانا ظفر علی خاں کا نام زبان پر آتے ہی دل و دماغ میں بجلیاں سی کوند جاتی ہیں۔ آنکھوں کے سامنے ایک عجیب قسم کی شخصیت آ جاتی ہے، جس نے تحریر سے، تقریر سے انگریزی استعمار کے خلاف ایک عجیب قسم کی چومکھی جنگ لڑی۔ وہ شعلہ بیان مقرر اور سحرانگیز لکھاری ہی نہیں تھے، ایک باعمل مجاہد بھی تھے، ہمیشہ اپنا سر ہتھیلی پر رکھ کر دنیا کی سب سے بڑی طاقت کا مجاہدانہ مقابلہ کیا۔ جب ذرا سوچ کر اس بات کا تجزیہ کرتا ہوں کہ آخر ایسی کون سی قوت تھی جس نے اس درویش کو اتنا دلیر بنائے رکھا، تو تمام منطق تمام دلائل اسی نتیجے پر پہنچتے ہیں کہ آقائے دو جہاں کملی والے (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے والہانہ محبت نے مولانا کے دل میں زندگی بھر شمعِ ایمان کو روشن سے روشن تر رکھا۔ انہی نورانی کرنوں کا فیضان تھا کہ انہوں نے اپنی تحریر اور تقریر سے نصف صدی تک کروڑوں دلوں اور دماغوں کو منور کیے رکھا۔ ایسی ایسی عظیم نعتیں کہیں کہ اردو ادب آج تک ان کی نظیر پیش نہیں کر سکا:

ہم جس میں بس رہے ہیں وہ دنیا تمیں تو ہو
یہ شہرۂ آفاق شعر بھی مولانا ظفر علی خاں ہی کا ہے:
نورِ خدا ہے کفر کی حرکت پہ خندہ زن
پھونکوں سے یہ چراغ بجھایا نہ جائے گا
کسی کی بھد اڑانے پر آتے تو ایسی چٹکی لے جاتے کہ وہ شخصیت وفات پا کر خاک در خاک ہو جاتی، لیکن مولانا کی بھد زندہ جاوید ہو کر رہ جاتی۔ جب مولانا ظفر علی خاں کے گاندھی جی سے حالات بگڑے تو ایک مولانا صاحب جو ہنوز گاندھی جی کے وفادار اور ان کے سحر کے زیرِ سایہ تھے، ان پر یہ شعر کہا اور دونوں کو رگڑ کر رکھ دیا: 


بدھو میاں بھی حضرتِ گاندھی کے ساتھ ہیں
گو مشتِ خاک ہیں مگر آندھی کے ساتھ ہیں


مرزا غلام احمد قادیانی کے خلاف تو مولانا موصوف گویا شمشیرِ برہنہ تھے۔ میرزاقادیان کے رہنے والے تھے۔ مرزا فیملی ’’حسن و جمال‘‘ کی وجہ سے مشہور تھی، بلکہ قادیان کا پورا مغل قبیلہ بھی۔ ان سب کو لپیٹ میں لے کر نبوت قادیاں کی عجیب طرح کی چٹکی لی، شعر ملاحظہ فرمائیے:


قسم ہے قادیاں کے گل رخوں کی گل عذاری کی
غلام احمد کی الماری پٹاری ہے مداری کی.


سدا نام اللہ ہی کا باقی ہے اور ہر چیز فانی ہے۔ میکلوڈ روڈ پر زمیندار کا دفتر جس کے دبدبے سے کبھی قصرِ استبداد انگلستان کانپتا تھا، وہاں ’’روزنامہ زمیندار‘‘ کے بجائے ’’زمیندار ہوٹل‘‘ کا بورڈ لگا دیکھ کر دل کو بڑا دُکھ پہنچتا ۔ ’’زمیندار‘‘ کا نام دلوں میں اور صحافت کی تاریخ میں زندہ جاوید ہے۔ اس زمیندار کے ساتھ ہوٹل کا لاحقہ کہئے کہ گردشِ دوراں اس عہد آفریں ’’روزنامہ زمیندار‘‘ سے اور بابائے صحافت مولانا ظفر علی خاں سے ایک عجیب مذاق کر رہی ہے۔ کاش ان کا یوں مذاق نہ اڑایا جاتا! اگر کوئی حکومت اس بلڈنگ کو قومیا لے اور قومی یادگار بنا لے تو آنے والی نسلوں کو کچھ نشانات تو مل سکیں کہ یہاں ہمارے علم و ادب، صحافت اور جنگِ آزادی کی شمعیں روشن رہی ہیں۔ آپ کے اور اپنے موڈ کو ذرا خوشگوار بنانے کے لیے مولانا ظفر علی خاں صاحب کی ایک دو باتیں سناتا چلوں، اس کے بعد اصل موضوع کی طرف آتا ہوں۔ پہلا واقعہ تو پیرومرشد مولانا عبدالمجید سالک سے سنا تھا۔ یہ ان دنوں کی بات ہے جب مولانا ظفر علی خاں علی گڑھ میں پڑھتے تھے۔ علی گڑھ مرکزِ سیاست ہی نہیں، بلکہ صحیح معنوں میں گہوارۂ علم بھی تھا۔ مولانا ظفر علی خاں کی طبیعت تب بھی اسی طرح برجستہ اور رواں رہتی تھی، جیسا عبور ان کی طبیعت کو زبانِ شاعری اور بدیہہ گوئی پر آخر عمر تک رہا۔ جوانی میں تو وہ اور بھی شعلہ جوالا تھے۔ علی گڑھ کا صرف ایک واقعہ سالک صاحب نے سنایا اور میں اس کو محفوظ کرنا چاہتا ہوں۔ وہ ایک مشاعرے کی کارروائی ہے۔ مشاعرہ طرحی تھا اور مصرع تھا :


قاروں نے راستے میں لٹایا خزانہ کیا
مشاعرہ اچھا خاصا جم کر اپنی منزلیں طے کر رہا تھا۔ غزل پر غزل آ ری تھی اور شعر پر شعر، ایک سے بڑھ کر ایک۔ شعراء میں کاندھلہ (یوپی) کے دو بھائی بھی موجود تھے جن کی طبیعت میں ذوقِ شاعری کے ساتھ ساتھ شوخی کچھ زیاد تھی۔ فقرے کستے تھے اور مشاعرے کے علمی و ادبی ماحول کو ہنسی میں اڑا دینے کی کوشش میں خاصے کامیاب ہو رہے تھے۔ یہ حسنِ اتفاق کہ دونوں بھائی سر سے گنجے تھے اور یہ ’’فارغ البالی‘‘ بھی ان کی ادبی شوخی بلکہ سوقیانہ پن کی طرح خاصی واضح تھی۔ مولانا کی باری آئی، آپ سٹیج پر آئے، فرمانے لگے ’’طرح مصرع‘‘ ہے:
قاروں نے راستے میں لٹایا خزانہ کیا
اس سے پہلے کہ میں اپنی غزل پیش کروں، جی چاہتا ہے کہ مصرع طرح پر جو گرہ لگائی ہے وہ سن لیجئے، اس کے بعد غزل پیش کروں گا اور گرہ لگاتے ہوئے شعر یوں پڑھا:


آتا ہے کندھلے سے جو، لاتا ہے ساتھ گنج
قاروں نے راستے میں لٹایا خزانہ کیا
ہال میں ایک زوردار قہقہہ پڑا، دونوں گنجے برادران پر یہ شعر ایک بجلی بن کر گرا، وہ جھاگ کی طرح بیٹھ گئے۔ اس کے بعد بجھے بجھے ایک کونے میں بیٹھے رہے۔ نہ صرف مولانا ظفر علی خاں صاحب نے جم کر غزل پڑھی، بلکہ پورے مشاعرے کا آخر تک موڈ بدل گیا۔ مشاعرے کے بعد صدرِ مشاعرہ اٹھے، خطبۂ صدارت میں مشاعرے کی کامیابی کا سہرا مولانا ظفر علی خاں کے سر باندھا جن کی گرہ نے ماحول بدل کر رکھ دیا تھا۔ اسی طرح ایک اور واقعہ بھی ہم نے ڈاکٹر محمد دین تاثیر صاحب سے سنا۔ 1948-49ء میں ان کا قیام راولپنڈی میں تھا۔ باغ و بہار محفل آرا قسم کے دلچسپ بزرگ تھے۔ خواجہ عبدالرحیم کمشنر راولپنڈی کے ہاں ان کے حضور بیٹھے ہوئے ظفر علی خاں کا نام آیا تو کانوں کو ہاتھ لگاتے ہوئے یوں گویا ہوئے:’’میں لاہور کی ایک انجمن کا سیکرٹری تھا۔ ایک طرحی مشاعرہ تھا۔ مولانا ظفر علی خاں کی خدمت میں حاضری دی انہوں نے مصروفیت کی بنا پر آنے سے معذرت فرما لی۔ میں نے اصرار کیا: ’’حضور چلیے طرح میں غزل نہ پڑھیے‘‘ آپ کا صرف تشریف لانا اور محفل میں بیٹھ جانا بھی اتنی بڑی برکت ہو گی کہ اس سے ہماری محفل سج جائے گی۔ آپ طرح پر شعر کہہ سکتے ہیں، اس حقیقت کو سارا زمانہ جانتا ہے اور طبع کی روانی تو ہاتھ باندھے غلام بنی آپ کے سامنے دست بستہ رہتی ہے۔ تاثیر نے گفتگو کو جاری رکھتے ہوئے فرمایا کہ میں نے مولانا کو اس بات پر راضی کر لیا کہ وہ اس بزم کو محض رونق افروز کرنے کے لیے تشریف لے آئیں:


مشاعرہ شروع ہوا، بزمِ سخن جب تمام مرحلے طے کرتی ہوئی آخر کی حدیں چھونے لگی تو مجھے ایک شرارت سوجھی۔ میں نے گستاخانہ شوخی سے یہ اعلان کیا کہ ’’سامعین گرامی! آخر میں زینتِ بزم جناب مولانا ظفر علی خاں سے درخواست کروں گا کہ وہ اپنی طرحی غزل سے نوازیں۔‘‘ مولانا خاصے حیرت زدہ ہوئے لیکن بڑے اعتماد سے سٹیج پر تشریف لائے، جیب سے کاغذ نکالا۔ غزل کے آٹھ نو ٹھاٹھ کے اشعار سنائے، محفل کی محفل لوٹی اور داد وصول کرتے ہوئے جب سٹیج سے اپنی کرسی پر واپس جانے کے لیے مڑے تو وہ غزل والا کاغذ، جس سے غزل پڑھتے ہوئے نظر آ رہے تھے، مجھے تھما دیا۔ میں نے اشتیاق سے کاغذ کھول کر دیکھا تو وہ بالکل سادہ تھا۔ اس پر ایک حرف بھی تحریر نہیں تھا۔ میرا حیرت سے رنگ فق ہو گیا اور آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ گئیں۔ مشاعرے کے اختتامی دو تین فقرے اور شکریے کے الفاظ میں نے بڑی مشکل سے ادا کیے۔ مشاعرہ ختم کرنے کے بعد مولانا کی طرف معافی کے لیے لپکا لیکن مولانا وہاں سے جلدی جلدی تشریف لے جا چکے تھے۔ آخر مجھے مولانا غلام رسول مہر کو اپنے ہمراہ لے جا کر شوخی کی معافی مانگنا پڑی۔

مزید :

رائے -کالم -