اللہ والوں کے قصّے... قسط نمبر 55

اللہ والوں کے قصّے... قسط نمبر 55
اللہ والوں کے قصّے... قسط نمبر 55

  

حضرت ابو علی شفیق بلخیؒ نے خلیفہ ہارون الرشید سے سوال کیا کہ اگر ریگستان میں تم پیاس سے تڑپ رہے ہو اور کوئی شخص نصف حکومت کے معاوضہ میں تمہیں ایک گلاس پانی دینا چاہے تو کیا تم اس کو قبول کرلوگے۔‘‘

ہارون الرشید نے جواب دیا ’’یقیناً قبول کرلوں گا۔‘‘

پھر آپ نے پوچھا ’’اگر اس پانی کے استعمال سے تمہارا پیشاب بند ہوجائے اور شدت تکلیف میں کوئی طبیب علاج کے معاوضہ میں نصف سلطنت طلب کرے تو تب تم کیا کرو گے؟‘‘

ہارون الرشید نے جواب دیا ’’نصف سلطنت اس کے حوالے کردوں گا۔‘‘

اللہ والوں کے قصّے... قسط نمبر 54 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

یہ سن کر آپ نے فرمایا ’’وہ سلطنت باعث افتخار نہیں ہوسکتی۔ جو صرف پانی کے ایک گھونٹ پر فروخت ہوسکے۔‘‘ اس جواب کے بعد ہارون الرشید بہت دیر تک روتا رہا۔

***

ایک مرتبہ حضرت معروف کرخیؒ قرآن و مصلےٰ مسجد میں چھوڑ کر دریا پر پاکیزگی کی غرض سے تشریف لے گئے۔ دریں اثنا ایک بڑھیا آپ کاقرآن و مصلیٰ مسجد سے اٹھا کر چلتی بنی اور جب راستہ میں آپ سے ملاقات ہوئی تو آپ نے گردن جھکائے ہوئے بڑھیا سے فرمایا ’’کیا تمہارا کوئی بچہ قرآن پڑھتا ہے۔‘‘

بڑھیا نے نفی میں جواب دیا۔ اس پر آپ نے فرمایا

’’میرا قرآن تو واپس کردو۔ البتہ مصلیٰ میں نے تمہیں ہبہ کردیا۔‘‘

وہ بڑھیا آپ کی اس بات سے ایسی متاثر ہوئی کہ اسی وقت دونوں چیزیں واپس کردیں۔

۔۔

ایک مرتبہ حضرت حسن بصریؒ نے اپنے ملازم سے فرمایا ۔ ’’ افطاری کے لیے بازار سے روٹی اور مچھلی کے کباب لے آؤ۔ ‘‘ 

ملازم نے تعمیل کی۔ جب افطاری کا وقت آیا تو آپ نے ملازم سے فرمایا۔ ’’ یہ کباب اور مزے کا کھانا؟ مجھ جیسے فقیر سے اس کا کیا تعلق؟‘‘

ملازم نے عرض کیا۔ ’’ آپ ہی نے تو یہ کھانا لانے کے لیے فرمایا تھا۔‘‘ 

آپ نے سن کر سر جھکا لیا اور اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں عرض کیا۔ 

’’ باری تعالٰی ! میں نے دنیا کی نعمتوں پر دھیان دیا۔ مجھ سے بھول ہوئی۔ میرا نام کہیں درویشوں کی فہرست سے مٹادینا۔‘‘ (جاری ہے )

اللہ والوں کے قصّے... قسط نمبر 56 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

مزید :

کتابیں -اللہ والوں کے قصے -