ملوث گینگ کا دیگر افراد کیساتھ بھی انسانیت سوز سلوک، مزید ویڈیو سامنے آگئیں 

ملوث گینگ کا دیگر افراد کیساتھ بھی انسانیت سوز سلوک، مزید ویڈیو سامنے آگئیں 

  



ملتان (سٹاف رپورٹر)ملتان میں ٹیچر تشدد کیس میں ملوث گینگ کی طرف سے بچے سمیت دیگر افراد کے ساتھ بھی انسانیت سوز سلوک اور ویڈیوز بنانے کا انکشاف‘۔ملزمان کی مزید ویڈیوز بھی سامنے آگئیں۔مسلح نوجوانوں کی طرف سے تشدد اور انسانیت سوز سلوک کا نشانہ بنائے جانے والے پرائیویٹ کالج کے استاد محمد اعجاز نے انکشاف کیا ہے کہ ان کے ساتھ بہیمانہ سلوک کرنے والے حمزہ و دیگر ملزمان مختلف بچوں پر بہیمانہ تشدد‘تذلیل اور ویڈیوز (بقیہ نمبر50صفحہ12پر)

بنانے میں بھی ملوث ہیں‘ کارروائی نہ ہونے کے باعث ملزمان کا حوصلہ بڑھا اور وہ شریف شہریوں پر تشدد و انسانیت سو ز سلوک کے عادی ہو گئے۔ ٹیچر محمد اعجاز نے کالج کے دیگر اساتذہ کے ہمراہ گزشتہ روز”روزنامہ پاکستان“کے دفتر آکر بتایاکہ ان پر تشدد و انسانیت سوز سلوک کی ویڈیو وائرل ہونے کے بعد وزیر اعلی ٰ پنجاب کی طرف سے سخت نوٹس لینے اور پولیس کے حرکت میں آنے پر معلوم ہوا کہ ملزمان شرفا کے ساتھ انسانیت سوز سلوک کرنے کے عادی ہیں‘چونگی نمبر 1کے رہائشی جاوید اعوان کے کم سن بیٹے کے ساتھ بھی ملزمان نے یہی سلوک کیا ہے۔ ملزمان شرفا کو دھوکے سے بلاکر ان کے ساتھ انسانیت سوز سلوک کرتے ہیں اور ویڈیو بنا کر ان کی مزید تذلیل کرتے ہیں۔ یہ ایک منظم گینگ ہے جو نجانے اب تک بچوں سمیت کتنے شریف شہریوں کے ساتھ ایسا سلوک اورظلم کی انتہا کر چکا ہے۔یہ متاثرہ جاوید اعوان کے بیٹے کی ویڈیو تو سامنے آئی ہے‘ ان کے علاوہ بھی نجانے کتنے متاثرین ہوں گے۔ جاوید اعوان کا کہنا ہے کہ ان کے بچے کے ساتھ جو سلوک کیا گیا وہ اسے کبھی نہیں بھلا سکتے‘ دل خون کے آنسو روتا ہے‘ بچے کی حالت زار اور اپنی بے بسی وہ الفاظ میں بیا ن نہیں کر سکتے۔متاثرہ جاوید اعوان نے اپنے بچے کے ساتھ انسانیت سوز سلوک کی ویڈیو بھی پیش کردی ہے اور بتایا ہے کہ ان کو انصاف نہیں مل سکا جس پر وہ آج تک تڑپ رہے ہیں۔ وہ انصاف چاہتے ہیں۔ٹیچر محمد اعجاز نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ انہیں یقین ہے کہ ملزمان کے ظلم کے شکار مزید متاثرین بھی سامنے آئیں گے اور انہیں بھی اب انصاف مل جائے گا۔انہوں نے بتایا کہ تشدد کے واقعہ کے بعد وہ ذہنی دباؤ کا شکار ہو گئے تھے‘ ملزمان کا ایک گینگ ہے جس نے مسلسل پریشان کئے رکھا‘ ان کا گھر چوک شہیداں ریلوے روڈ پر گورنمنٹ زینب گرلز ڈگری کالج کے قریب واقع ہے‘ وہ جب چونگی نمبر9کے نزدیک آفیسرز کالونی میں اپنے نجی کالج ڈیوٹی پر جاتے تھے تو ملزمان روزانہ راستے میں گھیر لیتے تھے اور اکثر چونگی نمبر 9کے قریب راستے میں روک لیتے اور کندھے پر ہاتھ رکھ کر ہراساں کرتے تھے‘ کبھی کہتے تھے کہ ”سناؤ کیسا رہا“ کبھی کہتے تھے کہ ”سکون ہوا یا نہیں“ کبھی کہتے تھے کہ تمہیں مزید ڈوز ابھی دینی ہے“ کبھی کہتے تھے کہ ”تم ہمارے ایک بار قابو آگئے ہو‘ہم ایسے جان نہیں چھوڑنے والے“کبھی کہتے تھے کہ ”ہمیں پتہ ہے کہ تمہارے بچے کہاں پڑھتے ہیں‘ تمہارے بعد ان کی باری آنے والی ہے“ کبھی کہتے کہ ”اگلے وار کے لئے تیار رہو“ کبھی کہتے کہ ”تمہیں اب نیا تماشہ دکھائیں گے۔“ٹیچر محمد اعجاز نے بھرائی ہوئی آواز میں بتایا کہ  انہی دھمکیوں کے باعث وہ ملزمان کو صلح نامہ دینے پر مجبور ہوئے اور انہوں نے تشدد وانسانیت سوز واقعہ اپنی فیملی سے چھپایا مگر ویڈیو وائرل ہونے کے بعد اب ان کے اہل خانہ کو بھی اس بارے میں علم ہو گیا ہے اور ان کا کرب وہ الفاظ میں بیان نہیں کرسکتے۔ دکھ کا یہ عالم ہے کہ ان کے6سالہ بیٹے افضل نے بھی یہ ویڈیو دیکھ لی اور زارو قطار رونے لگا‘ چپ کرانے کی کوشش کی گئی مگر بچے کے آنسو نہیں رک سکے اور وہ دیر تک اپنے والدین کے ساتھ لپٹ کر روتا رہا۔محمد اعجازنے بتایا کہ ملزمان نے کسی لڑکی کو چھیڑنے کا جھوٹا اوربے بنیاد الزام لگا کر اپنا جرم چھپانے کی کوشش کی ہے مگر انہیں خدا خوفی نہیں ہے اور انہیں نہیں لگتا کہ موت سب کو آنی ہے‘ آگے جاکر سب کو جواب دینا ہے۔متاثرہ ٹیچر محمد اعجاز نے جناب چیف جسٹس آف پاکستان‘ چیف آف آرمی سٹاف‘ وزیر اعظم اور وزیر اعلی ٰسے اپیل کی ہے کہ ملزمان بڑے با اثر ہیں جن کی طرف سے اب بھی انہیں اور ان کے بچوں کی زندگیوں کو خطرہ لاحق ہے‘ اس لئے انہیں تحفظ فراہم کیاجائے اور ملزمان کو کیفر کردار تک پہنچایاجائے‘ انہیں نشان عبرت بنایاجائے کیونکہ ان کے ساتھ جو سلوک ہوا ہے‘ وہ نہیں چاہتے کہ وہ دوسروں کے ساتھ بھی ہو‘ ٹیچر محمد اعجاز نے خود پر ہونے والے ظلم پر آواز اٹھانے اور حکومت تک معاملہ پہنچانے پر”روزنامہ پا کستان“کا شکریہ ادا کیا اور ڈھیروں دعائیں دیں۔

ٹیچر تشدد کیس

مزید : ملتان صفحہ آخر