قوالی سے ذہن کو سکون، دل کو چین ملتاہے،علی محسن

قوالی سے ذہن کو سکون، دل کو چین ملتاہے،علی محسن

  



لاہور(فلم رپورٹر) پاکستان کے اُبھرتے ہوئے نوجوان قوال اور صوفی گائیک علی محسن نے کہا ہے کہ میں صوفیانہ کلام میں پوشیدہ امن، محبت، اخوت، صبر، برداشت، روادری، بھائی چارے،انسانیت کا احترام اور خدمت خلق کے پیغام کو نہ صرف پاکستان بلکہ عالمی سطح پر متعارف کروانے کا خواہش مند ہو ں جبکہ صوفیانہ کلام کے ذریعے پاکستان کے امن پسند اور روشن چہرے کودنیا کے سامنے نمایاں کرنا چاہتا ہو ں، اُستادنصرت فتح علی خاں کی گائیگی بے حد پسند ہے،میوزک کے شعبے میں نام پیدا کرنے کیلئے گائیگی کے اسرارو رموز سیکھ رہا ہو ں اور روزانہ چارگھنٹے تک ریاض کرتا ہو ں۔ان خیالات کا اظہار انہو ں نے گزشتہ روز میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔

نوجوان قوال اور صوفی گائیک علی محسن نے کہا کہ موسیقی آواز کی شاعری ہے،12سروں کی دل آویز زبان ہے جو انسانی احساسات، جذبات اور کیفیات کوبیان کرنے میں الفاظ کا سہار الئے بغیر لوگون کے دلوں کوسرشار کرتے ہو ئے روح میں حلول کرجاتی ہے، موسیقی ہی وہ واحد زبان ہے جسے دُنیا کا ہر انسان نہ جانتے ہو ئے بھی سمجھتا ہے۔نوجوان قوال اور صوفی گائیک علی محسن نے کہا کہ ہار مونیم، سارنگی، وائلن، پیانو، ستار، کلارنٹ اور شہنائی سے برآمد ہونے والے نغمات ہمارے جذبات نہاں اور درد پنہاں کا اظہار ہی تو ہیں، موسیقی12سروں اور پاکیز ہ جذبوں کی مقدس زبان ہے، قوالی اور صوفی گائیکی سے روح کو آسودگی، ذہن کو سکون اور دل کو چین نصیب ہو تا ہے۔

مزید : کلچر