بیانئے کی باں باں

بیانئے کی باں باں
بیانئے کی باں باں

  



پی ٹی آئی چاہتی ہے کہ نواز شریف کا علاج لائیو دکھایا جائے تاکہ لوگوں کو یقین آجائے کہ وزیر اعظم عمران خان نے انہیں ویسے ہی ملک سے نہیں جانے دیا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ پی ٹی آئی کے ووٹر سپورٹرکا گمان ہے کہ نواز شریف بیماری کا بہانہ بنا کر باہر چلے گئے ہیں جبکہ وزیر اعظم عمران خان اس گمان کو حقیقت ثابت کرنے پر تلے ہوئے ہیں کہ وہ واقعی بیماری کا بہانہ کر باہر گئے ہیں۔ لیکن جب یہ سوال اٹھتاہے کہ آخر حکومت کا قائم کردہ میڈیکل بورڈ کیا ان سے غلط بیانی کر رہا تھا تو ساری حکومت ایک دم سے چپ کی نماز کی نیت باندھ لیتی ہے اور تب تک سلام نہیں پھرتی جب تک کہ سوال کرنے والا وہاں سے ہٹ نہیں جاتا۔ وزیر اعظم عمران خان نے اپنے خطاب میں جو بیانیہ گھڑا ہے وہ ان کی جانب سے سروسز اسپتال کے میڈیکل بورڈ اور شوکت خانم کے ڈاکٹر فیصل پر عدم اعتماد کے مترادف ہے۔سوال یہ ہے کہ آیا پی ٹی آئی یہ بیانیہ بنانے میں کامیاب ہوگی، اس کا اندازہ آنے والے ہفتوں میں ہوگا، کم از کم چار ہفتوں میں ضرور ہوگا۔

دوسری جانب نون لیگ یہ ثابت کرنے پر تلی ہوئی ہے کہ حکومت کا یہ بیانیہ چلنے والا نہیں ہے اور نواز شریف صحیح معنوں میں بیمار ہیں، بلکہ ان کا تو ماننا ہے کہ حکومت انہیں مارنے پر تلی ہوئی تھی۔ ایسے میں اگر نواز شریف اپنے پاؤں پر چل کر گئے ہیں تو یہ جبر کے اس نظام پردو حرف ہیں جس میں کسی پر الزام لگا کر اسے کہا جاتا ہے کہ ثابت کرے کہ وہ کرپٹ نہیں ہے اور جب تک ثابت نہیں کرتا تب تک اسے قید میں رکھاجاتا ہے۔

تیسری جانب اس میں شک نہیں کہ عوام کے مسائل وہ نہیں ہیں جو حکومت بتارہی ہے، ان کے نزدیک نواز شریف ملک کے اندر رہے یا باہر رہے، ان کی مہنگائی سے جان چھوٹنی چاہئے، معیشت کا پہیہ چلنا چاہئے۔ لیکن اگر ایک سال کے اندر ہی عمران خان کا کرپشن کے خلاف بیانئے کا جنازہ نکل گیا ہے تو یہ چیخ چنگھاڑ تو ہوگی جوسانپ گزرنے کے بعد لکیر پیٹنے کے مترادف ہے،لیکن حکومتی لوگ نہیں جانتے کہ نواز شریف اپنی دھن کے اتنے پکے ہیں کہ چاہیں تو موت کو بھی شکست دے دیں۔ ایک ملاقات میں سنیئر سیاستدان جاوید ہاشمی نے بتایا تھا کہ انہوں نے نواز شریف کی جانب سے ’مجھے کیوں نکالا‘ کی کمپین چلانے سے پہلے ان سے کہا تھا کہ میاں صاحب یہ تو بہت مشکل راہ ہے، آپ بیمار بھی ہیں اور عمر بھی ایسی ہے کہ انتی سختیاں برداشت نہیں کر سکیں گے۔ اس پر نواز شریف نے ان سے کہا تھا کہ ہاشمی صاحب اب یہ سختیاں برداشت کرہی لینی ہیں اور پھر فلک نے دیکھا کہ وہ اپنی مرحومہ بیوی کو بیمار چھوڑ کر جیل جانے کے لئے وطن واپس چلے آئے، انہیں جب جب اسپتال بھیجا گیا ان کی جانب سے جیل واپس جانے پر اصرار ہوا۔ یہ توپلیٹ لیٹس کا خطرناک حد تک گرجانا تھا کہ انہیں ملک سے باہر جانا پڑا اور وہ بھی ایک انڈرٹیکنگ دے کر گئے ہیں کہ وہ تندرست ہوتے ہی وطن واپس آجائیں گے اور مقدمات کا سامنا کریں گے۔

وزیر اعظم عمران خان نے انتخابات سے قبل کرپشن کے خلاف جنگ کا بیانیہ بنایا تھا۔ کچھ لوگوں نے انہیں ووٹ دیا اور کچھ انہیں ویسے ہی پڑگیا تاکہ وہ ملک سے کرپشن کا خاتمہ کرسکیں کیونکہ وہ خود کہا کرتے تھے کہ اگر اوپر ٹھیک بندہ آجائے تو نیچے خودبخود حالات سنور جاتے ہیں۔ مگر پھر چشم فلک نے دیکھا کہ ان کے اوپر آجانے سے بھی ملک سے کرپشن کا خاتمہ نہ ہوسکا۔ بلکہ خاتمہ کیا ہونا تھا الٹا جس سیاسی شخصیت کو وہ چور بنا کر پیش کیا کرتے تھے، وقت آیا تو وہ بھی ملک سے باہر چلی گئی اور خود ان کی اپنی اجازت سے گئی اور یوں ان کاکرپشن کے خلاف جنگ کا بیانیہ پٹ گیا۔ اب یہ بیانیہ بنایا جا رہا ہے کہ نواز شریف بیماری کا بہانہ بنا کر چلے گئے۔ ایسا ہی ہے تو آفرین ہے حکومت پر کہ بیماری کے بہانے میں آگئی۔ اس کا ایک مطلب یہ بھی ہے کہ حکومتی لوگ حکومت کرنے میں سنجیدہ نہیں ہیں اور محض وقت گزاری کے لئے اقتدار کے ایوانوں میں بیٹھے ہیں۔

ویسے تو پی ٹی آئی شروع دن سے کوئی ایک بات پکڑتی ہے اور شور مچانا شروع کردیتی ہے لیکن جب سے نواز شریف علاج کی غرض سے ملک سے باہر گئے ہیں، پی ٹی آئی کے بیانئے کی باں باں بڑھ گئی ہے۔ دیکھئے بیانئے کی یہ بڑ بڑ کب ختم ہوتی ہے!

مزید : رائے /کالم