”انتہائی غداری کیس“

”انتہائی غداری کیس“

  



پاکستان کی قانونی اور عدالتی تاریخ میں اِس وقت ایک انتہائی دلچسپ باب کا اضافہ ہو گیا، جب وفاقی وزارتِ داخلہ اور جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف کے وکیل کی طرف سے اسلام آباد ہائی کورٹ میں دو الگ الگ درخواستیں دائر کی گئیں،جن میں استدعا کی گئی تھی کہ جنرل موصوف کے خلاف ”انتہائی غداری کیس“ کی سماعت کرنے والی خصوصی عدالت کو فیصلہ سنانے سے روکا جائے۔یاد رہے کہ مذکورہ خصوصی عدالت مقدمے کی کارروائی مکمل کرنے کے بعد28نومبر کو فیصلہ سنانے کا اعلان کر چکی ہے۔

وزارتِ داخلہ اور وکیل صاحب کے دلائل جو بھی ہوں، اور جن نکتوں کی بھی گردان کی گئی ہو، ان سے قطع نظر کسی عدالت کی کارروائی مکمل ہونے کے بعد اسے چیلنج کرنا، اور فیصلے کا انتظار کرنے کے بجائے اسے روکنے کی استدعا کرنا بجائے خود دلچسپی اور توجہ کا مرکز ہے۔ہماری معلومات کے مطابق اس طرح کی صورتِ حال اس سے پہلے کبھی دیکھنے میں نہیں آئی۔یاد رہنا چاہئے خصوصی عدالت آخری عدالت نہیں ہے، اس کے فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ میں اپیل کا حق موجود ہے۔ عدالت کا جو بھی فیصلہ ہو، متاثر فریق اپیل کر سکتا، اور اعلیٰ تر عدالت میں جا کر اپنے دلائل پیش کر سکتا ہے۔پرویز مشرف کیس کی سماعت کرنے والی عدالت کے فیصلے کے خلاف تو براہِ راست اپیل سپریم کورٹ میں سنی جانی ہے،اس لیے کسی بھی فریق کی اس بات میں کوئی وزن نہیں کہ اسے دلائل پیش کرنے یا اپنا موقف بیان کرنے کا موقع نہیں ملا۔یہ بھی یاد رہے کہ سپریم کورٹ ہی کے ایک حکم کے ذریعے جنرل پرویز مشرف کا حق ِ دفاع یہ کہہ کر ختم کر دیا گیا تھا کہ اگر وہ عدالت کے سامنے پیش نہیں ہوں گے تو ان کا یہ حق ختم ہو جائے گا۔

دلچسپ حقیقت یہ ہے کہ وزارتِ داخلہ اس مقدمے میں مدعی کی حیثیت رکھتی ہے،لیکن اس نے موقف ایسا اختیار کیا ہے،جس سے ملزم کو فائدہ پہنچ رہا ہے۔اگر اس کی درخواست کو بغور پڑھا جائے تو اسے ”وزارتِ صفائی“ بھی قرار دیا جا سکتا ہے۔وزیر داخلہ بریگیڈیئر(ر)اعجاز شاہ جنرل پرویز مشرف کے دورِ اقتدار میں اہم عہدوں پر فائز رہے ہیں،وہ ان کے بہت قریب سمجھے جاتے تھے۔وزیر قانون فروغ نسیم کو تو بنفس ِ نفیس ”غداری کیس“ ہی میں جنرل پرویز مشرف کا وکیل رہنے کا شرف حاصل ہوا تھا۔ اٹارنی جنرل انور منصور بھی اسی حلقے کے اسیر رہے۔بریگیڈیئر اعجاز نے تو یہ بھی ارشاد فرمایا ہے کہ پرویز مشرف کے مقدمے کو آئین شکنی کا مقدمہ کہہ لیا جائے، غداری نہیں،ملک کے لیے خون دینے والے کو غدار کہنا درست نہیں۔بریگیڈیئر موصوف کو معلوم ہونا چاہیے کہ دستورِ پاکستان نے جس کا حلف خود انہوں نے بھی کئی بار اٹھایا ہے،آئین شکنی کو انتہائی غداری قرار دیا ہے۔آئین توڑنا یا اس حرکت میں شریک ہونا سنگین ترین جرم ہے۔ خون دینے کا دعویٰ کر کے خون چوسنے والوں کے لیے تالیاں نہیں بجائی جا سکتیں۔حال ہی میں فوجی عدالت سے جاسوسی کے الزام میں ایک فوجی افسر کو موت کی سزا دی گئی اور اس پر عمل بھی کر دیا گیا ہے، اگر بریگیڈیئر صاحب کی منطق تسلیم کر لی جائے تو پھر ان صاحب کو بھی آزاد چھوڑ دینا چاہیے تھا۔فوجی اہلکاروں کے احتساب کے لیے فوج کا اپنا نظام موجودہے۔اور متعدد اعلیٰ سطحی عہدیداروں کو بھی قانون شکنی پر سزائیں دی جا چکی ہیں۔فوج کی طرف سے کبھی یہ دعویٰ نہیں کیا گیا کہ وہ قانون سے بالاتر ہے،یا اس کے کسی منصب دار کو اس حوالے سے خصوصی رعایت دی جانی چاہیے۔

پاکستانی قوم نے آئین شکنی کا خمیازہ بہت بھگتا ہے۔اسی کے نتیجے میں وہ حالات پیدا ہوئے جو سقوطِ ڈھاکہ کا باعث بنے۔آئین کا احترام نہیں ہو گا تو ملکی سالمیت پر حملہ کرنے والوں کے ہاتھ مضبوط ہوں گے،پُرتشدد کارروائیوں اور دشمن کے ساتھ ساز باز کرنے والوں کی حوصلہ افزائی ہو گی۔آئین کو کھلونا بنانے والے دراصل ملک اور قوم کو کھلونا سمجھتے اور اپنی ذات کو ان سے بالاتر قرار دے لیتے ہیں۔جنرل پرویز مشرف نے1999ء میں بھی اقتدار پر قبضہ اسی لئے کیا تھا کہ وزیراعظم نے انہیں ان کے منصب سے ہٹا دیا تھا۔ گویا اپنی ملازمت بچانے کے لئے قوم کا مستقبل داؤ پر لگا دیا گیا تھا۔2007ء میں بھی جب ان کو دوبارہ صدر بننا ممکن نظر نہ آیا، تو انہوں نے دستور معطل کر کے سپریم کورٹ کے ججوں ہی کو سبکدوش کر دیا۔ان کی پہلی حرکت کی معافی تو2001ء میں منتخب ہونے والی پارلیمینٹ دے چکی تھی،لیکن دوسری بار جب یہی حرکت کی گئی تو وہ شکنجے میں آ گئے۔اگر وہ عہدہئ صدارت سے سبکدوشی قبول کر لیتے، تو سیاست میں حصہ لے سکتے تھے،اور اپنی پارٹی کے سربراہ بن کر دوبارہ قسمت آزمائی بھی کر سکتے تھے۔لیکن انہوں نے یہ سیدھا راستہ اختیار کرنے کے بجائے ٹیڑھی انگلیوں سے گھی نکالنے کا فیصلہ کیا، اور قابو آ گئے۔

ان کے خلاف مقدمے کی تفصیل میں جائے بغیر وزارتِ داخلہ اور قانون سے یہ گذارش بے جا نہیں ہو گی کہ وہ جنرل پرویز مشرف کی نجات چاہتے ہیں تو کان کو گردن کے پیچھے سے نہ پکڑیں۔ ڈنکے کی چوٹ مقدمہ واپس لینے کا اعلان کر دیں۔ وزیراعظم کو چونکہ چنانچہ میں الجھانے کے بجائے علی الاعلان یہ مشورہ دیں۔دوسری صورت یہ ہو سکتی ہے کہ اگر اُن کے ممدوح کو سزا سنائی جائے تو اسے صدرِ مملکت سے معافی دلوا دیں،وزیراعظم کی سفارش پر انہیں ایسا کرنے کا دستوری اختیار حاصل ہے۔

مزید : رائے /اداریہ