کرتارپور راہداری،بھارت کا معاندانہ رویہ!

کرتارپور راہداری،بھارت کا معاندانہ رویہ!

  



بھارت سے کرتارپور آنے والے سکھ یاتریوں نے بھارتی اہلکاروں کے رویے کی شکایت کی ہے، ان کے مطابق بھارتی حکومت اور اہلکاروں کا رویہ درست نہیں،سکھ بھاری تعداد میں رجسٹریشن کے لئے رجوع کر رہے ہیں، لیکن حکام کی طرف سے ان کی دِل شکنی کی جاتی اور رجسٹریشن میں روڑے اٹکائے جاتے ہیں، حتیٰ کہ بعض اہلکاروں نے تو سکھوں کی شہریت پر سوال اٹھانا شروع کر دیئے ہیں،اور پولیس رپورٹ کے لئے تھانے بھیج دیتے ہیں،جو یاتری یاترا کے بعد واپس گئے ان کا کہنا ہے کہ واپسی پر وہ پرساد لے کر گئے تو یہ متبرک پرساد کتوں سے سونگھوایا گیا اور یوں مذہبی جذبات کو ٹھیس پہنچائی گئی۔پاکستان کی طرف سے کرتارپور راہداری کے لئے بھارتی کرکٹر سدھو کی درخواست مانی گئی اور یہ سب کام تیزی سے مکمل ہوا،بھارتی حکومت نے معاہدہ کرنے میں بہت لیت و لعل سے کام لیا، لیکن سکھوں کے دباؤ اور دُنیا میں منہ دکھانے کے لئے اسے بالآخر معاہدہ کرنا پڑا،اس کے باوجود جب9نومبر کو افتتاح ہوا تو مودی حکومت خوش اور مطمئن نہیں تھی۔معاہدے کے مطابق اس راہداری سے بھارتی سکھ شہری روزانہ پانچ ہزار کی تعداد میں آسکتے ہیں،ان کی آمدورفت کے لئے پاکستان کی طرف سے خصوصی انتظامات کئے گئے ہیں،لیکن9نومبر کے بعد سے اب تک یہ تعداد پوری نہیں ہوئی۔رجسٹریشن کی خواہش والے سکھوں کی تعداد کئی ہزار ہے،لیکن بھارتی رکاوٹوں کی وجہ سے بہت کم یاتری آتے ہیں اور اب انہوں نے برملا احتجاج شروع کر دیا ہے۔پاکستان کی طرف سے جس رواداری کا مظاہرہ کیا گیا اُسے دُنیا بھر میں پھیلے سکھوں نے پُرجوش طریقے سے خوش آمدید کہا تو دوسرے ممالک نے بھی اِس امر کو بہتر جانا اور تعریف کی،لیکن بھارت کی موجودہ متعصب حکومت کو یہ پسند نہیں۔طوعاً کرعاً معاہدہ تو کیا اب سکھوں کو پریشان کرنا شروع کر دیا ہے،بھارت سے کرتارپور آنے والوں کی تعداد گو کم ہے تاہم دُنیا بھر سے سکھ آتے رہتے اور حکومت ِ پاکستان کی تعریف بھی کرتے ہیں۔پاکستان کی طرف سے یہ سہولت پیش کرنے کے بہرحال اپنے اثرات ہیں،اِس لئے ہمیں مزید ترقیاتی کام بھی وقت پر مکمل کرنا چاہئیں۔اِس امر میں بھی کوئی شک نہیں کہ سفارتی محاذ پر بھی اس سے فائدہ ہو گا۔

مزید : رائے /اداریہ