سی پیک: پاک چین سٹرٹیجک پارٹنر شپ

سی پیک: پاک چین سٹرٹیجک پارٹنر شپ
سی پیک: پاک چین سٹرٹیجک پارٹنر شپ

  



پاکستان کے معاشی حکمت کار اور وفاقی وزیر اسد عمر نے بتایا ہے کہ پاکستان کا مجموعی غیر ملکی قرضہ 74 ارب ڈالر پر مشتمل ہے،جس میں سی پیک کا 4.9 ارب ڈالر قرضہ بھی شامل ہے جبکہ ہم چین کے 18 ارب ڈالر کے دین دار ہیں۔ گویا چین کے مجموعی قرضوں کا حجم 18 ارب ڈالر ہے،جس میں سی پیک کے 4.9 ارب ڈالر بھی شامل ہیں۔یہ سی پیک کا قلیل مدتی قرضہ ہے،جس کی شرح سود 2.34 فیصد ہے۔ آئندہ تین سال کے دوران چینی قرضے کا حجم تیزی سے کم ہوگا۔ سردست غیر ملکی قرضوں اور سود کی مد میں ادا کئے جانے والے ہر تین ڈالر میں ایک ڈالر چین کو ادا کیا جا رہا ہے،اس کے بعد،یعنی تین سال کے بعد ہر 5 ڈالر کی ادائیگی میں سے ایک ڈالر چین کو ادا کیا جائے گا۔ چین کے یہ قرضے کمرشل بینکوں سے لئے گئے ہیں اور پاکستان کی برآمدات کے حجم کو دیکھتے ہوئے لئے گئے ہیں، ہم ان قرضوں کی ادائیگی طے شدہ شیڈول کے مطابق کر رہے ہیں۔

اس حوالے سے کسی قسم کی پریشانی والی بات نہیں ہے……اسد عمر نے سی پیک کے حوالے سے وضاحت کرتے ہوئے بتایا کہ سی پیک منصوبے بشمول انفراسٹرکچر ڈویلپمنٹ، بجلی گھروں اور سٹرکوں کی تعمیر کے پہلے مرحلے میں طے شدہ شیڈول کے مطابق مکمل ہو چکے ہیں۔ 9 سپیشل اکنامک زونز میں سے 3 کا قیام مکمل ہو چکا ہے۔ سی پیک منصوبے کے تحت پاکستان میں 9خصوصی اکنامک زونز قائم کئے جانے ہیں، جن سے پاکستان میں صنعتی و تجارتی سرگرمیوں میں تیزی آئے گی اور اس طرح پاکستان کی قومی معیشت میں استحکام پیدا ہوگا۔ اسد عمر نے سی پیک کے حوالے سے ہونے والے حالیہ امریکی پروپیگنڈے کی یکسر تردید کر دی ہے۔امریکی نائب وزیر خارجہ ایلس ویلز نے پاکستان کو چین، پاکستان اکنامک کاریڈور منصوبے کے حوالے سے خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ منصوبہ پاکستان کی کمزور معیشت پر قرضوں کے بوجھ میں ناقابل برداشت اضافہ کر دے گا، اس سے کرپشن میں بھی اضافہ ہوگا اور روزگار کے مواقع اور نفع چین چلا جائے گا۔

واشنگٹن میں ایک تھنک ٹینک (ولسن سینٹر) کے زیر اہتمام سفارت کاروں، صحافیوں اور سکالرز کے ایک اکٹھ سے خطاب کرتے ہوئے مس ویلز نے بڑے واضح الفاظ میں پاکستان کو معصومانہ انداز میں دھمکی دی اور کہا کہ سی پیک کوئی امداد یا گرانٹ نہیں ہے، بلکہ ایک قسم کی فنانسنگ ہے جو چینی سرکاری کمپنیوں کے لئے یقینی نفع حاصل کرنے کا ذریعہ ہے، جبکہ پاکستان کے لئے فائدہ بہت ہی معمولی ہے۔ انہوں نے سی پیک کے تحت کراچی تا پشاور ریلوے لائن / نظام کی بہتری کے منصوبے کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اکتوبر 2018ء میں پاکستان کے ریلوے وزیر نے بتایا تھا کہ پاکستان نے اس منصوبے کی لاگت پر بحث مباحثہ کر کے اسے 6.2 ارب ڈالر کرا لیا ہے، اسطرح پاکستان کو 2 ارب ڈالر کی بچت ہو گئی ہے…… (گویا اس منصوبے پر اٹھنے والی لاگت کا تخمینہ 8.2 ارب ڈالر تھا)…… ہم جیسا ملک قرضوں کا اتنا بوجھ برداشت نہیں کر سکتا۔ ویلز نے کہا کہ نئی میڈیا رپورٹس کے مطابق اس منصوبے کی قیمت اب 9 ارب ڈالر کر دی گئی ہے، پاکستانی عوام کو مہنگے ترین منصوبے کی لاگت بارے کیوں نہیں بتایا جا رہا ہے کہ اس کی قیمت کا تعین کس طرح کیا گیا ہے؟ پاکستانی عوام کو یہ جان لینا چاہئے کہ چینی منصوبہ قرض ہے، امریکہ کی طرز پر دی جانے والی گرانٹ نہیں ہے۔ گوادر پورٹ اور چینی نمائندے زن جیانگ کے درمیان رابطے کے حوالے سے مس ویلز نے کہا کہ بھارت اسے تجارتی نہیں، بلکہ فوجی منصوبہ سمجھتا ہے،

جس کا مقصد بھارت کے گرد گھیرا ڈالنا ہے۔ انہوں نے جولائی 2019ء میں وزیراعظم پاکستان کے دورۂ امریکہ کے دوران صدر ٹرمپ کے بیان کا بھی حوالہ دیا، جس میں صدر امریکہ نے عمران خان کو امریکی تجارتی تعلقات بڑھانے کی پیش کش کی تھی۔ امریکی نائب وزیر نے اس موقع پر سی پیک کے بارے میں بڑی بڑی باتیں کیں۔ ظاہر ہے وہ ساری یہاں نہیں دھرائی جا سکتیں، لیکن ایک بات بڑی واضح ہے کہ امریکہ چین کے بیلٹ اینڈ روڈ منصوبے سے خائف ہے اور اس کی راہ کھوٹی کرنے کی راہ پر گامزن ہے، چین بھی اس حوالے سے یکسو ہے کہ اس منصوبے کو مکمل کرنا ہے،کیونکہ یہ چین کے قومی مفادات میں اولین حیثیت رکھتا ہے۔ سی پیک اس کے عالمی منصوبے میں کلیدی حیثیت کا حامل ہے، اس لئے اسے بھی مکمل کرنا چین کے قومی مفادات میں شامل ہے۔ اس منصوبے کی تکمیل کے ذریعے چین کی عالمی تجارتی حیثیت ہی نہیں، بلکہ سفارتی و سیاسی پوزیشن مزید مستحکم ہو جائے گی۔ یہی وجہ ہے کہ امریکہ لنگر لنگوٹ کس کر اس منصوبے کے خلاف میدان عمل میں اترا ہوا ہے اور اس کی تکمیل کی راہ میں رکاوٹیں کھڑی کر رہا ہے۔

ہم نے جب دولت مشترکہ کا حصہ بننا قبول کیا تو بہت کیا، تھوڑی بہت بھی سوچ،بچار نہیں کی۔ امریکی بلاک میں شامل ہوتے وقت بھی قومی نفع نقصان کا اندازہ نہیں لگایا، پھر جب ہم نے چین کے ساتھ شراکت داری کا فیصلہ کیا تو بھی سوچ، بچار نہیں کی کہ اس سے ہمیں کس قدر فائدہ ہوگا اور ممکنہ طور پر کیا نقصانات ہو سکتے ہیں؟ آج ہم دوراہے پر کھڑے ہیں، ایک طرف امریکہ ہے جو ہمارے ازلی دشمن بھارت کے ساتھ کھڑا ہے، افغانستان ہمارا بہت پہلے سے دشمن ہے، امریکہ اس کے ساتھ بھی کھڑا ہے، بھارت اور افغانستان گزری دو دھائیوں سے امریکی سرپرستی میں پاکستان کے خلاف مورچہ زن ہیں، امریکہ ہمیں اپنے مفادات کے لئے استعمال کرتا رہا ہے اور ہنوز کر رہا ہے جب ہماری ضرورت ہوتی ہے، ہمیں پچکارتا ہے،

جب ضرورت ختم ہو جاتی ہے تو دھتکار دیتا ہے افغانستان سے نکلنے کے لئے ہماری ضرورت پڑی تو ترلے کرنے لگا، دو شہریوں کی رہائی پر شکریہ ادا کیا، پھر امریکہ کی نائب وزیر خارجہ نے سی پیک کے حوالے سے دھمکانا شروع کر دیا۔ ہمیں میٹھے میٹھے انداز میں خبردار کرنا شروع کر دیا۔ چینی منصوبہ ”بیلٹ اینڈ روڈ“ ان کاٹارگٹ ہے، سی پیک کیونکہ اس منصوبے میں مرکزی حیثیت رکھتا ہے، اس لئے پاکستان بھی امریکی ٹارگٹ بن گیا ہے۔ ظاہر ہے ہر صورت حال کسی طور بھی ہمارے لئے خوش آئند نہیں ہو سکتی ہے۔ ہمارے وفاقی وزیر اسد عمر نے سی پیک کے بارے میں امریکی نائب وزیر کے تجزیے کو غلط اور سی پیک کو پاکستان کے لئے ایک نعمت قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ سی پیک پاکستان کے لئے بوجھ نہیں، بلکہ آنے والے وقتوں میں صنعتی تعمیر و ترقی کی پائیدار بنیادیں فراہم کرے گا۔

سی پیک میں شامل منصوبے طے شدہ رفتار سے تکمیل کے مراحل طے کر رہے ہیں اور طویل مدت میں پاکستانی معیشت پر مثبت اثرات ظاہر کریں گے۔ اسد عمر نے بڑے واضح انداز میں بتایا کہ چین ہمارا ہر وقت کا دوست ہے اور وہ اس وقت بھی ہمارے ساتھ کھڑا رہا، جب دوسرا کوئی اور ملک ہمارے ساتھ کھڑا نہیں تھا۔ آئی ایم ایف نے بھی اس بات کی تصدیق کر دی ہے کہ سی پیک پاکستان کے لئے نفع بخش اور فائدہ مند منصوبہ ہے اب سی پیک کے حوالے سے کوئی بات ڈھکی چھپی نہیں ہے کہ یہ منصوبہ ہمارے قومی مفاد میں ہے۔ پاکستان چین کا سٹرٹیجک پارٹنر بن چکا ہے۔ سی پیک منصوبے کے ذریعے چین اور پاکستان کے قومی مفادات یکجا ہو چکے ہیں اور اب اس سے انحراف نہ تو چین کے لئے ممکن ہے اور نہ ہی پاکستان کے لئے۔

مزید : رائے /کالم