کار انداز اور سٹیٹ بینک کے مابین مائیکرو پے منٹ گیٹ وے کامعاہدہ

کار انداز اور سٹیٹ بینک کے مابین مائیکرو پے منٹ گیٹ وے کامعاہدہ

  



لاہور(پ ر)پاکستان انوویٹو فنانس فورم کے دوسرے روز اسٹیٹ بینک آف پاکستان (ایس بی پی) اور کار انداز نے قومی مالیاتی شمولیت کی حکمت عملی کے حوالے سے مائیکرو پے منٹ گیٹ وے کے نفاذ کے لئے شراکت داری کے معاہدے پر دستخط کئے۔ معاہدے پر کار انداز کے سی ای او علی سرفراز اور اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے ہیڈ آف پے منٹ سسٹمز ڈیپارٹمنٹ سید سہیل جواد نے دستخط کئے۔ پاکستان کے دورہ پر آئی ہوئی نیدر لینڈ کی ملکہ میکسیما، وفاقی وزیر برائے اقتصادی امور حماد اظہر، گورنر اسٹیٹ بینک ڈاکٹر رضا باقر، چیئرپرسن کارانداز ڈاکٹر شمشاد اختر، پروگرام آفیسر، گلوبل ڈویلپمنٹ، فنانشل سروسز برائے غریب افراد، بل اینڈ ملنڈا گیٹس فاؤنڈیشن سید علی محمود، پاکستان میں قائم مقام برطانوی کمشنر رچرڈ کراؤڈر اور ڈپٹی گورنر اسٹیٹ بینک جمیل احمد بھی اس موقع پر موجود تھے۔ اس معاہدے کے ذریعے کار انداز BMGF کی مالی اعانت کے ساتھ ایس بی پی کو جدید ٹیکنالوجی پر مبنی ڈیجیٹل ادائیگی کے پلیٹ فارم کی مدد سے چھوٹی ڈیجیٹل ٹرانسفر کو ممکن بنانے میں مدد فراہم کرے گا۔ اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کی اسپیشل ایڈووکیٹ برائے ترقی ء مالیاتی شمولیت (UNSGSA) کی حیثیت سے پاکستان کے دورہ پر آئی ہوئی ملکہ میکسیما نے اس موقع پر کہا کہ یہ حوصلہ افزاء بات ہے کہ اسٹیٹ بینک آف پاکستان مائیکرو پے منٹ پلیٹ فارم کے قیام کے لئے پرعزم ہے۔ انہوں نے کہا کہ تمام حکومتی اداروں کو اس میں 2020ء تک شامل ہونے کی ضرورت ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ پلیٹ فارم کی کامیابی اور اسے موثر بنانے کے لئے مناسب گورننس سٹرکچر، اسکیم رولز، ابتدائی استعمال کے معاملات اور قیمتوں کے تعین جیسے اقدامات اہم ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ وہ آپ سب کی اسٹیٹ بینک کی زیر قیادت انڈسٹری ورکنگ گروپ کے ساتھ شمولیت کی حوصلہ افزائی کرتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وہ اس حوالے سے ڈیزائن کے بارے میں معلومات فراہم کریں۔ 

اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے کار انداز کی چیئرپرسن ڈاکٹر شمشاد اختر نے کہا کہ پاکستان میں  تقریباً 50 فیصد بالغ آبادی،  جس میں زیادہ تر خواتین شامل ہیں، کو باضابطہ مالیاتی خدمات تک رسائی حاصل نہیں۔ بہت سے افراد اپنی مالیاتی ضروریات کو پورا کرنے کے لئے خطرناک، غیر موثر اور مہنگے غیر رسمی چینلز کا سہارا لیتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ٹرانزیکشنز کی فوری کلیئرنس سسٹم کی لاگت کو کم رکھے گی اور فراہم کنندہ مشترکہ سروس میں اپنا حصہ ڈالیں گے اور صارفین کے لئے اس بات کو یقینی بنائیں گے کہ تمام ٹرانزیکشنز قانونی اور خطرے سے پاک ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں لاکھوں افراد باضابطہ معیشت میں شامل نہیں اور اس طرح وہ باضابطہ مالیاتی نظام کے بہت سے فوائد سے محروم رہ جاتے ہیں۔ موبائل فون کی رسائی کے ساتھ پاکستان ڈیجیٹل مالیاتی نظام کو بڑھانے اور اس میں تیزی لانے کے لئے بہتر پوزیشن میں ہے اور یہ مائیکرو پیمنٹ گیٹ وے ملک میں مالیاتی شمولیت کو فروغ دینے میں آگے بڑھے گا۔

اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے سی ای او کار انداز علی سرفراز نے کہا کہ کار انداز کا مقصد معاشرتی اثرات کے لئے جدید ترین ایجادات اور ڈیجیٹل حل کے نفاذ کے ذریعے مالیاتی خدمات کی صنعت کو زیادہ سے زیادہ مالیاتی شمولیت کی جانب گامزن کرنا ہے۔ ہم کم آمدنی والے، دیہی اور آبادی کے دیگر طبقات کے لئے ڈیجیٹل فنانس تک بہتر رسائی کے ذریعے زیادہ سے زیادہ اثر کو بہتر بنانے کے حوالے سے مالیاتی خدمات کے ایکو سسٹم میں تعاون کر رہے ہیں۔ یہ مائیکرو پے منٹ گیٹ وے ہمیں اہم اور معنی خیز انداز میں مالیاتی شمولیت پر اثر انداز ہونے میں مدد فراہم کرے گا۔ 

کار انداز پاکستان ڈیجیٹل ٹیکنالوجی سے فائدہ اٹھاتے ہوئے چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباروں کی مدد، بینکنگ سے محروم آبادی کے لئے مالی سہولت میں اضافہ، شواہد پر مبنی بصیرت کو رائج کرنے اور مالیاتی شعبہ میں جدتوں کی حوصلہ افزائی کرتی ہے۔ کار انداز پاکستان کو برطانوی ادارہ برائے بین الاقوامی ترقی (ڈی ایف آئی ڈی) اور بل اینڈ ملینڈا گیٹس فاؤنڈیشن (بی ایم جی ایف) کا مالی تعاون حاصل ہے۔ 

مزید : کامرس