بابری مسجد کو اقوام متحدہ کے تاریخی ورثہ میں شامل کیاجائے‘ فیصل آبادچیمبر

بابری مسجد کو اقوام متحدہ کے تاریخی ورثہ میں شامل کیاجائے‘ فیصل آبادچیمبر

  



فیصل آباد (کامرس ڈیسک) فیصل آباد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے قائمقام صدر ظفر اقبال سرور نے اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گٹاریس اور یونائٹیڈ نیشنز ایجوکیشنل سائنٹیفکل اینڈ کلچرل آرگنائزیشن (یونیسف) کی ڈائریکٹر جنرل محترمہ آدھرے ازونلے سے مطالبہ کیا ہے کہ بھارت کی پانچسو سالہ تاریخی بابری مسجدکویونیسف کی ورلڈہیرٹیج سائٹس کی فہرست میں شامل کیا جائے۔اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل اوریونیسف کی ڈائریکٹر جنرل کے نام ایک خط میں انہوں نے لکھا ہے کہ بابری مسجد اٹھارویں صدی کے فن تعمیر کا ایک نادر نمونہ ہے۔ یہ مسجد 1528عیسوی میں مغل بادشاہ بابر کے نام پر تعمیر کی گئی تھی۔تخلیقی طرز تعمیر کی اس منفرد مسجد میں محراب و منبر کے علاوہ روایتی میناروں کو نئے انداز میں تعمیر کیا گیا ہے۔ جو فن تعمیر کے حوالے سے ایک نادر نمونہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس تاریخی حیثیت کی حامل مسجد کو بچانے کیلئے ضروری ہے کہ اس کو نہ صرف عالمی ہیرٹیج سائٹس میں شامل کیا جائے۔بلکہ اس کی تعمیر و مرمت کیلئے بھی فوری طور پر ضروری فنڈ مختص کئے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ اس تاریخی فن تعمیر کو مذہبی اور سیاسی پسِ منظر میں دیکھنے کی بجائے اسے خالصاً عالمی ثقافتی ورثہ کے طور پر جانچا جائے۔

انہوں نے بتایا کہ پاکستان میں موہنجوداڑو شالیمار باغ، روہستاس کا قلعہ اور کئی دوسری عمارتوں کو پہلے ہی عالمی اداروں کی ہیرٹیج سائٹس میں شامل کیاجا چکا ہے جبکہ اٹلی کے تاریخی سٹیڈیم، سینٹ پیٹر، بیسلیکا،ویٹکن سٹی، اور وینس سمیت کئی اہم عمارتوں کو عالمی تاریخی اثاثہ قرار دے کر یونیسف کی فہرست میں شامل کیا گیا ہے ہے۔

انہوں نے کہا کہ بابری مسجد کی تاریخی اور ثقافتی اہمیت کے پیش نظر اسکو بھی فوری طور پر یونیسف کی ہیرٹیج سائٹس میں شامل کیا جائے۔ انہوں نے پاکستان کی وزارت خارجہ سے بھی مطالبہ کیا ہے کہ وہ اس سلسلے میں خاموشی اختیار کرنے کی بجائے اسکو خالصاً ثقافتی ورثہ کے طور عالمی سطح پر اٹھائے تاکہ اس تاریخی اثاثے کو ممکنہ تباہی سے بچایا جا سکے۔

مزید : کامرس