برادر عمر ہمیں تم پر فخر ہے

برادر عمر ہمیں تم پر فخر ہے

  



وٹس ایپ پر بات کرتے ہوئے مَیں نے کہا: برادر عمر ہمیں آپ پر فخر ہے، آپ کو پتہ ہے اس وقت آپ دُنیا کے تمام مسلمانوں کے ہیرو بن چکے ہیں،سوشل میڈیا پر ہر کوئی آپ کی جرأت کو سلام پیش کر رہا ہے۔عمر نے کہا: ” برادر زاہد مَیں نے یہ سب کچھ کسی پلاننگ کے تحت نہیں کیا اور نہ ہی پہلے سے ایسا کرنے کا کوئی ارادہ رکھتا تھا، بس قرآن کو جلتا دیکھ کر مجھ سے رہا نہ گیا، مَیں اور میرا ایک دوست دونوں اس ناپاک جسارت کرنے والے پر لپک پڑے ،دوست اس تک پہنچ نہ سکا اور مجھے اللہ نے یہ شرف بخشا کہ مَیں نے اس کلام پاک کو آگ لگانے والے کو سبق سکھا دیا، مجھے بالکل بھی اندازہ نہیں تھا کہ میرا یہ ویڈیو کلپ چند گھنٹوں میں پوری دُنیا میں پھیل جائے گا اور مسلمان مجھ پر فخر کریں گے……مَیں نے جب قرآن پاک جلانے کی ناپاک جسارت کرنے والے بدبخت آرنے ٹومائر (Arne Tumyr) پر چیتے کی طرح لپکتے نوجوان کو دیکھا تو دوسرے مسلمانوں کی طرح میرے دِل سے بھی اس نوجوان کے لئے دُعائیں نکلیں اور اس پر بہت فخر کیا اور کر رہا ہوں۔

مَیں نے سوچا کیوں نہ اس سے کسی طرح رابطہ کرکے اس کے بارے میں جانا جائے کہ یہ نوجوان کون ہے اور اس واقعہ کے اصل حقائق کیا ہیں؟ اس کے لئے مَیں نے جدوجہد شروع کردی ۔مقصد چونکہ نیک تھا،اس لئے تھوڑی جدوجہد کے بعد ہی مجھے عمر ڈابا کا وٹس ایپ نمبر مل گیا۔مَیں نے اسے مسیج کیا کہ مجھے آپ کے بارے میں بات کرنی ہے اور اس دن والے واقعہ کے اصل حقائق جاننے ہیں تو میرا مسیج اس نے دیکھ کر کوئی رپلائی نہ کیا۔

مَیں نے اسے پھر مسیج کیا کہ مَیں اسلامی جمہوریہئ پاکستان کے قومی اخبار روزنامہ ”پاکستان“ میں کالم لکھتا ہوں اور مَیں آپ سے اصل حقائق جان کر اس پر لکھنا چاہتا ہوں،جو کروڑوں لوگوں تک پہنچیں گے۔عمر نے اس کے بعد مجھے مسیج شروع کر دیئے جو وقفے وقفے سے تین چار گھنٹے تک جاری رہے۔مَیں نے موقع کا فائدہ اُٹھا کر ویڈیو کال کرکے اس نوجوان سے باتیں کرنے اور اسے اپنی آنکھوں سے دیکھنے کا شرف حاصل کیا اور مجھے عمر کے بارے میں اور اس واقعہ کے بارے میں اصل حقائق جاننے کا موقع مل گیا، جو آپ سب سے کالم کی صورت میں شیئر کر رہا ہوں۔

عمر کو لوگ عمر ڈابا کے نام سے بلاتے ہیں۔ڈابا اس کا قبائلی نام ہے، یہ شامی نژاد ہے۔اس کا والد معروف ڈابا کے پانچ بچے ہیں۔بیٹے ابراہیم،محمد نور، قاسم اور عمر،جبکہ حنان اکلوتی بیٹی ہے۔مَیں نے عمر سے پوچھا کہ بہن بھائیوں میں آپ کا کون سا نمبر ہے تو عمر نے کہا:”آپ یہ کیوں پوچھ رہے ہیں“؟ مَیں نے کہا اِس لئے کہ مجھے اندازہ ہو کہ آپ بڑے ہونے کی وجہ سے تھوڑے اگریسو اور غصیلے ہیں یا چھوٹے ہونے کی وجہ سے لاڈلے۔ عمر مسکر ا کر کہنے لگا: ”مَیں درمیان میں ہوں، دو مجھ سے بڑے ہیں اور دو چھوٹے، اِس لئے اب آپ اندازہ نہیں لگا سکیں گے“۔ اِس کا جواب سن کر مَیں بھی بے اختیار ہنس پڑا۔عمر پیشے کے اعتبار سے اپنا ہوٹل چلا رہا ہے اور بڑا ہنس مکھ اور زندہ دِل انسان ہے۔عمر جذباتی نوجوان بھی نہیں، بڑاسلجھا ہوا اور مہذب ہے۔عمر کہتا ہے کہ میرے لئے یہ سب بتانا اور جذبات کا لکھ کر اظہار کرنا بہت مشکل ہے۔مجھے اپنے کئے پر کسی قسم کی شرمندگی نہیں اور نہ ملال ہے۔ مَیں نے یہ سب رد عمل کے طور پر کیا۔

ہمارے شہر کرسٹین سینڈ میں سیان نامی تنظیم اسلام کے خلاف کام کر رہی ہے…… STOP

ISLAMIZATION OF NORWAY SIAN ……عمر نے میرے ساتھ اس واقعہ پر اپنے تاثرات شیئر کئے، جنہیں وہ مضمون کی صورت میں سوشل میڈیا پر بھی شیئر کرنے والاتھا، آپ لوگوں نے پڑھ لیا ہوگا۔سیان نامی تنظیم سے تعلق رکھنے والے لوگ بہت متعصب ہیں۔ ان کے نظریات اس قدر خطرناک ہیں کہ یہ اسلام سے شدید نفرت کرتے ہیں۔عمر کہتا ہے کہ سیان والوں نے اعلان کیا کہ وہ قرآن پاک جلانے کی ناپاک جسارت کریں گے۔قرآن کے بارے میں ان کے نظریات غلط فہمیوں پر مشتمل ہیں۔کرسٹین سینڈ کی لوکل مینجمنٹ نے ان کے عزائم جانتے ہوئے ان کو ایسا کرنے کے عمل سے روکنے کے لئے ان کا اجازت نامہ کینسل کردیا۔انہوں نے پلان بی کے تحت ایسا نہ کرنے کی یقین دہانی پر اجازت نامہ لے لیا۔انہوں نے اسلام کے خلاف اپنا اجتماع شروع کیا تو ہم مسلمان بھی وہاں موجود تھے، جبکہ بھاری تعداد میں پولیس بھی تعینات کی گئی تھی کہ ایسا کوئی ناخوشگوار واقعہ پیش نہ آئے اور سیان کے لوگ قرآن پاک کی بے حرمتی کر کے مسلمانوں کی دِل آزاری نہ کرسکیں۔

مقامی انتظامیہ نے واضح کر دیا تھا کہ کسی مجمع کے سامنے قرآن پاک جلانے کی ہرگز اجازت نہیں دی جائے گی اور سیان کے لوگ ایسا کرنے سے باز رہیں۔ہم سب مسلمان مطمئن تھے کہ پولیس ایسا کچھ بھی نہیں ہونے دے گی۔شروع میں انہوں نے نبی پاکؐ کی شان میں نعوز باللہ کچھ نازیبا الفاظ کہے، جس پر ہم مشتعل ِ ہوئے، لیکن پولیس نے فریڈم آف سپیچ کی وجہ سے انہیں نہ روکا،اپنی بکواس کرتے کرتے انہوں نے اپنے پلان بی پر عمل شروع کردیا اور قرآن پاک کو ایک ڈسٹ بن میں پھینکنے کی کوشش کی،جسے پولیس نے فوراً اُٹھا لیا اور انہیں ایسا کرنے سے منع کیا۔ہم ابھی تک مطمئن تھے کہ پولیس اپنا کام کر رہی ہے۔ سیان کو ایک گھنٹے کے اس پروگرام کی اجازت ملی تھی، جب پینتالیس منٹ گزر گئے تواچانک سیان لیڈر آرنی ٹومائر نے قرآن پاک لیا اور اسے آگ لگا دی،اس وقت وہاں تیس سے چالیس پولیس والے موجود تھے، ہم دیکھ رہے تھے کہ کسی نے بھی اسے منع نہیں کیا، پولیس اس انتظار میں تھی کہ یہ کر لیں تو پھر ہم آگے بڑھیں۔

قرآن کو جلتے سات سیکنڈ کا وقت گزرا ہوگا کہ مَیں اور میرا دوست جو قریب ہی کھڑے تھے، ہم نے جمپ کیا،میرے دوست کے سامنے سیان کے لوگ رکاوٹ، جبکہ مَیں ٹومر تک پہنچ گیا اور پھر جو مَیں نے کیا وہ ساری دُنیا نے دیکھ لیا۔یہ سب چند سیکنڈ میں ہوا۔ہم نہ تو پہلے سے ایسا کرنے کا کوئی پلان بنا کر گئے تھے اور نہ ہی ہم نے سوچا تھا کہ ایسا کرنا ہے۔اگر پولیس بروقت ایکشن لیتی تو ہمیں اس شخص پر جھپٹنے کی ضرورت نہ پڑتی، لیکن یہ سب پولیس کی جان بوجھ کر چشم پوشی سے ہوا۔عمر کہتا ہے کہ اس واقعہ کے بعد اب سب کو چاہئے کہ غیر مسلموں کے ذہنوں میں اسلام کے بارے مَیں پھیلی غلط فہمیوں کو دور کریں اور انہیں بتائیں کہ اسلام امن پسند دین ہے اور قرآن ہدایت کی کتاب ہے۔ ہمیں آگے بڑھ کر اسلام کے بارے میں پھیلا یاگیا زہریلا پروپیگنڈا ختم کرنا ہوگا۔ مَیں نے عمرکے لئے نیک تمناؤں کا اظہار کیا اور اس سے اپنے لئے دُعا کرائی۔میری خواہش ہے کہ عمر کو او آئی سی اپنے اگلے اجلاس میں بلائے اور مغرب کو پیغام دے کہ تمہارے غلظ نظریات اور اسلام دشمنی کے ردعمل میں مسلمان نوجوان وہ سب کر گزرتے ہیں،جو انہوں نے کبھی سوچا بھی نہیں۔عمر کو اسلامو فوبیا کے خلاف سفیر کے طور پر پیش کرنا چاہئے تاکہ مغرب اپنی اسلام دشمنی اور مسلمانوں سے نفرت کی پالیسی تبدیل کرنے پر مجبور ہو اور اسلام کو تشدد کا دین کہنے کی بجائے اپنی اصلاح کرسکے۔

مزید : رائے /کالم