پاکستان اور قازقستان زرعی و صنعتی شعبے میں باہمی تعاون کو فروغ دیں:سفیر آکان رخمیتولین

 پاکستان اور قازقستان زرعی و صنعتی شعبے میں باہمی تعاون کو فروغ دیں:سفیر ...

  



لاہور (لیڈی رپورٹر)پاکستان میں قازقستان کی معاشیات کی بنیاد زراعت اور صنعتوں پر ہے لہذا دونوں ممالک کو ان شعبوں میں تعاون کو فروغ دینا چاہیے۔ ان خیالات کا اظہار قازقستان کے سفیرآکان رخمیتولین نے لاہور چیمبر کے صدر عرفان اقبال شیخ، سینئر نائب صدر علی حسام اصغراور نائب صدر میاں زاہد جاوید احمد سے لاہور چیمبر میں ملاقات کے موقع پر کیا۔ ایگزیکٹو کمیٹی ممبران حارث عتیق،حاجی آصف سحر، عاقب آصف، فیاض حیدر، ذیشان سہیل ملک، محمد ارشد خان، شفیق احمد بٹ، خالد عثمان، سابق نائب صدر فیصل اقبال شیخ و دیگر بھی اس موقع پر موجود تھے۔ سفیر نے کہا کہ دونو ں ممالک کو غیر ملکی براہ راست سرمایہ کاری کی اشد ضرورت ہے، تاہم اس سلسلے میں دونوں ممالک ایک دوسرے کے تعاون سے مطلوبہ نتائج برآمد کر سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کو دو طرفہ تجارتی حجم میں اضافے کیلئے کوشش کرنا ہو گی۔ اس سلسلے میں تجارتی وفود کے تبادلے اور تاجروں درمیان کے براہ راست روابط اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔ انہوں نے پاکستانی تاجر برادری کو قازقستان کی تاجر برادری سے ملاقاتوں کے اہتمام اور سرمایہ کاری و کاروباری معاملات میں بھرپور تعاون کی یقین دہانی کرائی۔ سفیر نے پاکستانی تاجر برادری کو قازقستان میں فری اکنامک زونز میں سرمایہ کاری کی دعوت دیتے ہوئے کہا کہ یہ زونز ہر طرح کے ٹیکسز سے مستثنیٰ ہیں،لہٰذا پاکستانی تاجر برادری کو اس موقع سے بھرپور فائدہ اٹھانا چاہیے۔

 لاہور چیمبر کے صدر عرفان اقبال شیخ نے کہا کہ پاکستان کے قازقستان کے ساتھ مضبوط سفارتی تعلقات کا آغاز قازقستان کے قیام سے ہی ہو گیا تھا اور پاکستان، قازقستان کے قیام اور خودمختار حیثیت کو تسلیم کرنے والے اولین ممالک میں سے ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اور قازقستان دونوں اسلامی تعاون تنظیم، اقتصادی تعاون تنظیم اور شنگھائی تعاون تعاون تنظیم کے رکن ممالک ہیں۔ان مضبوط سفارتی، تاریخی، مذہبی اور سیاسی روابط کے حامل ہونے کی حیثیت سے دونوں ممالک اہم تجارتی شراکت دار بننے کی بھرپور صلاحیت رکھتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ 2017میں دوطرفہ تجارت کا حجم 78ملین ڈالر تھا جو 2018میں پاکستانی برآمدات میں 24فیصد اضافے کے ساتھ 90ملین ڈالر تک بڑھ گیا ہے جسے فوری اقدامات سے ایک ارب ڈالر تک بڑھایا جا سکتا ہے۔

 پاکستان کی قازقستان کو برآمدات میں چاول، آئل سیڈزاور تازہ پھل شامل ہیں جبکہ درآمدات زیادہ تر کیمیکلز پر مشتمل ہیں۔ صدر لاہور چیمبر نے کہا کہ اگرچہ تجارتی حجم میں اضافہ ہو رہا ہے لیکن اس میں اب بھی بہت وسعت کی گنجائش ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان، قازقستان کو ادویات،ویلیو ایڈڈ ٹیکسٹائل، سرامکس اور فرنیچر کے شعبوں میں برآمدات بڑھانے کی بھرپور صلاحیت رکھتا ہے۔ دوطرفہ تجارت کے حجم میں اضافے کیلئے دونوں ممالک کی مارکیٹوں کی ڈیمانڈ کے مطابق نئی برآمدی اشیاء متعارف کروانے کی اشد ضرورت ہے۔انہوں نے دوطرفہ تجارت کے حجم میں اضافے کیلئے ٹرانسپورٹیشن کا بہترین نظام متعارف کروانے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔ 

مزید : کامرس