ناروے کا واقعہ: مسلم امہ کے لئے لمحہ ئ فکریہ

ناروے کا واقعہ: مسلم امہ کے لئے لمحہ ئ فکریہ
ناروے کا واقعہ: مسلم امہ کے لئے لمحہ ئ فکریہ

  



خداوند کریم نے چار آسمانی اور الہامی کتابیں مختلف ادوار میں اپنے نبیوں پر اتاریں،جن میں تورات حضرت موسیٰ، زبورحضرت داؤد، انجیل حضرت عیسیٰ اور قرآن مجید نبی آخر الزماں، رحمت العالمین حضرت محمد مصطفی ﷺ پر اتاری گئی ……قرآن کریم میں ارشاد باری تعالیٰ ہے کہ اس مقدس کتاب کو مَیں نے ہی اتارا ہے اور اس کی حفاظت کا بھی مَیں خود ذمہ دار ہوں۔ اس ارشاد سے اللہ رب العزت نے قرآن مجید پر یہ مہر ثبت کردی کہ اس میں نہ تو کوئی تحریف، نہ ہی کوئی ترمیم اور نہ ہی اضافہ ممکن ہے جبکہ قرآن مقدس میں یہ بھی ارشاد ربانی ہے کہ اس سے پہلے والی کتابوں میں تبدیلیاں کردی گئی ہیں۔ قرآن مجید تمام عالم کے لئے رہتی دنیا تک ایک منبع رشد و ہدایت ہے۔ دشمنان اسلام اپنی تمام کوششوں کے باوجود جب قرآن شریف میں کوئی تبدیلی کرنے میں ناکام رہے تو وہ اوچھے اور مذموم ہتھکنڈوں پر اتر آئے اور ایسا ہی ایک واقعہ اگلے روز ناروے کے جنوبی شہر کرسٹینڈ سینڈ میں ہوا۔

یہ شہر 80ہزار نفوس پر مشتمل ہے، جس میں لگ بھگ دو ہزار مسلمان بھی سکونت پذیر ہیں، جو تیس قومیتوں پر مشتمل ہیں، جن میں زیادہ تر تعداد صومالیہ، شام، فلسطین اور عراق کے مہاجرین کی ہے۔ شہر میں ایک جامع مسجد کے علاوہ شہر کے اطراف میں کچھ مصلے بھی ہیں۔ ناروے کے قانون کے مطابق ہر ایک کو مذہبی آزادی حاصل ہے،پورے ناروے میں مسلمانوں کی تبلیغی جماعتیں بھی مصروف عمل رہتی ہیں اور ان کے اجتماعات بھی ہوتے رہتے ہیں۔

یورپ کے گنے چنے چند ممالک میں سے ناروے ایک ایسا ملک ہے جو بلا حجت تبلیغی جماعتوں کو ویزے جاری کرتا ہے۔ حالیہ مکروہ واقعہ کے پس منظر میں محرکات یہ ہیں کہ ایک 87سالہ کافر آرنے تھیو میرنے چند سال قبل اسلام دشمن سیان نامی ایک تنظیم بنائی،جس کا مکمل نام ہے Stop Islamisation in Norway۔اس تنظیم میں شامل، متشدد لوگ ناورے کے مختلف فورمز اور مختلف شہروں میں مظاہرے کرتے رہتے ہیں اور اسلام کے خلاف ہرزہ سرائی ان کا معمول ہے، جبکہ مسلمانوں کو بطور دہشت گرد ٹارگٹ کرنا ان کا وطیرہ۔اس تنظیم کو ناروے میں کوئی پذیرائی حاصل نہیں، لہٰذا اس کے مظاہروں میں قابل ذکر لوگ شامل نہیں ہوتے۔

اگلے روز آرنے تھیو میرنے جب مذکورہ مظاہرے کا اعلان کیا تو میڈیا کے ایک نمائندہ کو جواب دیتے ہوئے اس نے رعونت سے یہ کہا کہ اس میں ہم قرآن پاک کو نذر آتش کریں گے،جس سے کرسٹینڈ سینڈشہر میں ایک ارتعاش پیدا ہوا، مسلمان اور مسلم تنظیمیں اس کے سدباب کے لئے متحرک ہو گئیں اور انہوں نے شہر کے میئر، اعلیٰ پولیس حکام اور مقامی حکومت کے ارباب بست و کشاد سے ملاقاتیں کیں تاکہ اس مذموم اور مسلمانوں کے لئے اس دلخراش کوشش کو کسی بھی طرح روکا جاسکے۔حکام کی متفقہ یقین دہانی کے علاوہ مسلمانوں کی دشمن ڈیموکریٹک پارٹی نے بھی اعلان کیا کہ وہ قرآن حکیم کو جلانے والے کسی بھی عمل کی حمایت نہیں کرے گی۔ سیان کے اس مظاہرے میں صرف 8لوگ شریک تھے، تاہم دیکھنے والوں کی بھی ایک مختصر تعداد موجود تھی۔ کسی بھی متوقع ناخوشگوار حادثے سے تحفظ کے پیش نظر پولیس نے رکاوٹیں کھڑی کرکے راستہ بند کر دیا، تاہم قرآن کریم کی ایک کاپی باربی کیو گرل کے اوپر رکھی ہوئی تھی، جسے پولیس نے فوراً اپنے قبضے میں لے لیا۔

اس دوران سیان تنظیم کے ایک اور ملعون رکن لارس تھورسن نے اپنی جیب سے قرآن شریف کی دوسری کاپی نکال کر اسے آگ لگائی تو اس دوران مسلمان نوجوان عمر دھابہ ایک غیرت مند مسلمان ہونے کا ثبوت دیتے ہوئے تمام رکاوٹوں کو توڑتے ہوئے لارس تھورسن پر عقاب کی طرح جھپٹا تاکہ وہ اسے اس قبیح فعل سے روک سکے۔ اس مرحلے پر دیگر نوجوان مسلمانوں نے بھی عمر دھابہ کا ساتھ دیا، تاہم پولیس نے لارس تھورسن کو گرفتار کر لیا اور ساتھ ہی عمر دھابہ کو بھی حراست میں لے لیا۔ یہاں اس امر کی وضاحت بھی ضروری ہے کہ نوجو ان کا نام عمر الیاس نہیں، جیسا کہ رپورٹ کیا جارہا ہے، اس کا اصل نام عمر دھابہ ہے۔پاک فوج کے ترجمان میجر جنرل آصف غفور نے زبردست خراج تحسین پیش کرتے ہوئے عمر دھابہ کو سلام پیش کیا اور کہا کہ اس نوجوان نے غازیئ اسلام کا کردار ادا کیا،

جو دنیائے اسلام میں ایک روشن باب کی طرح ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔اس واقعہ پر ترکی کے صدر طیب اردوان نے واضح اور بھرپور احتجاج کیا ہے اور نوجوان کو زبردست خراج تحسین پیش کیا ہے۔اس واقعہ پر پورا ملک سراپا احتجاج ہے،ہر چھوٹے بڑے شہرمیں ریلیاں نکالی جارہی ہیں، جن میں مطالبہ کیا جارہا ہے کہ لارس تھورسن کے اس معاندانہ فعل میں شامل دیگر لوگوں کو سخت ترین سزا دی جائے اور عمر دھابہ کو با عزت رہا کیا جائے۔

دریں اثناء دفتر خارجہ نے پاکستان میں ناروے کے سفیر کو طلب کرکے زبر دست احتجاج کیا ہے اور اسے بتایا ہے کہ اس واقعہ سے پاکستان سمیت دنیا بھر کے سوا ارب مسلمانوں کو شدید ٹھیس پہنچی ہے اور آزادیئ اظہار کے نام پر ایسے واقعات ناقابل برداشت ہیں۔ یہاں ہم وزیر اعظم پاکستان عمران خان سے یہ کہنے میں حق بجانب ہیں کہ وہ اس مکروہ واقعہ پر غیر معمولی طورپر مستعد ہوں اور عالم اسلام کو اکٹھا کرکے اس کی خود قیادت کریں اور غیر مسلم ممالک کو واضح انداز میں یہ باور کرائیں کہ وہ اس قسم کے واقعات سے اجتناب کریں،بصورت دیگر ان سے مرحلہ وار تجارتی، سفارتی اور دیگر تعلقات ختم کر دئیے جائیں۔ وزیراعظم نے خود ہی ریاست مدینہ کا جو تصور دیا ہے، اس بات کا متقاضی ہے کہ وہ مرحلہ آگیا ہے جہاں وزیر اعظم عمران خان ایک بھرپور اورموثر کردار ادا کرکے اسلامی دنیا کے قائد کے طور پر ابھر سکتے ہیں۔ مسلمانوں کے لئے قرآن پاک سے بڑھ کر کوئی چیز اہم نہیں،

اگر سوا ارب مسلمان اپنی اس مقصد کتاب کی حفاظت نہیں کر سکتے تو یہ ایک نہایت تکلیف دہ بات ہوگی اور تاریخ اسلام اس لغزش پر ہمیں کبھی معاف نہیں کرے گی۔ وزیراعظم فوری طور پر اسلامی کانفرنس کا اجلاس بلائیں،اس کا انعقاد پاکستان میں ہی کریں اور یہاں سے دنیا کو یہ واضح پیغام دیا جائے کہ مسلمان ایسی حرکتوں کو برداشت نہیں کریں گے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ناروے،جو خود کو ایک لبرل ملک کی حیثیت سے پیش کرتا ہے۔وہ کسی دوسرے مذہب کے ماننے والوں کے جذبات مجروح کرنے والی اس سخت قابل مذمت حرکت کی روک تھام کے لئے کیا ایسا کوئی قانون وضع کرنے سے قاصر ہے کہ اس قسم کی حرکات کا قلع قمع ہوسکے۔ یہ بھی کیا آزادی ہے کہ کسی کی مقدس کتاب اور مذہب کی توہین کے ارتکاب کو لبرل ازم کہا جاتا ہے۔ اس قسم کے انتہائی ناپسندیدہ اقدام کی روک تھام کے لئے مسلم ممالک کی تنظیم اسلامی کانفرنس کو ٹھوس اقدامات کرنے چاہئیں اور مسلم ممالک متحد ہوکر اقوام متحدہ سے ایسا قانون پاس کرائیں کہ آئندہ اس قسم کے واقعات کا اعادہ نہ ہوسکے۔

بہ حیثیت مسلمان ہمارا یہ راسخ عقیدہ ہے کہ قرآن کریم اللہ تعالیٰ کی آخری کتاب ہے اور اسلام آخری دین اورنبی پاکﷺ آخری نبیؐ ہیں۔ قرآن شریف کے تحفظ کی ذمہ داری خود اللہ تعالیٰ نے اٹھائی ہے اور اس حوالے سے اس سے بڑا ثبوت کیا ہوگا کہ کسی بھی الہامی کتاب کا کوئی حافظ نہیں،جبکہ قرآن مجید کے لا تعداد حافظ موجود ہیں، جن میں مرد، خواتین، بوڑھے اور بچے سب شامل ہیں۔ اس حوالے سے میرے ساتھ پیش آنے والے دو واقعات بھی قابل ذکر ہیں۔ یہ اس وقت کی بات ہے،جب مَیں پی ٹی وی پر ایگزیکٹو پروڈیوسر تھا یہ 1996ء کی بات ہے کہ لاہورمیڈیکل کالج برائے ہومیو پیتھک جو بیڈن روڈ پر واقع تھا،جس کے پرنسپل ڈاکٹر اقبال قصوری تھے،انہوں نے مجھے کالج کی سالانہ تقریب میں مدعو کیا تھا۔ میرے علاوہ اس تقریب میں دیگر معززین کو بھی بلایا گیا تھا۔ مَیں دئیے گئے وقت پر جب وہاں پہنچا تو کالج کی عمارت پوری طرح آگ کی لپیٹ میں تھی۔ اقبال قصوری اپنی ٹیم کے ساتھ انتہائی غمزدہ اور رنجیدہ کھڑے تھے،ان کی آنکھوں سے آنسو رواں تھے۔

میرے ان کے ساتھ گہرے تعلقات تھے اور آگ کے بجھنے تک مَیں ان کے ساتھ رہا، جب ہم عمارت کے اندر گئے تو آگ بجھائی جاچکی تھی، تاہم دھوئیں کے باعث کافی گھٹن تھی۔ تمام چیزیں جل کر راکھ ہوچکی تھیں، کھڑکیوں کا لوہا تک پگھل چکا تھا،سارے جلے ہوئے کمروں کا جائزہ لیتے ہوئے جب ہم ان کے کمرے تک پہنچے تو یہ دیکھ کر ششدر رہ گئے کہ ان کی میز پررکھا ہوا باب کعبہ کا فریم اور قرآن کریم جوں کے توں رکھے تھے، ان کو آگ نے چھوا تک نہیں تھا،جبکہ باقی کمرہ پوری طرح جل کرراکھ ہوچکا تھا۔ ایسا ہی دوسرا واقعہ میری ہمشیرہ نصرت اقبال کے گھر کا ہے جو سی بلاک فیصل ٹاؤ ن لاہور میں واقع ہے،ان کا گھر بھی آگ لگنے کے باعث جل کرراکھ ہوچکا تھا، لیکن جس الماری میں قرآن پاک اور سپارے رکھے تھے،انہیں کچھ بھی نہ ہوا اوروہ اپنی اصل شکل میں موجود تھے، مگر اس کمرے کی دیگر چیزوں کے علاوہ چھت پرلگے ہوئے پنکھے تک پگھل چکے تھے۔ یہ ہیں قرآن مجید کی کرامات، مگر ان نام نہاد ترقی یافتہ ممالک کے ان جاہلوں کو ہم نہیں اللہ تعالیٰ خود ہی ایک دن سمجھا دے گا۔

مزید : رائے /کالم