عالمی سیاست او رپاکستان

عالمی سیاست او رپاکستان
عالمی سیاست او رپاکستان

  



سی پیک کے معاملے پر امریکہ اور چین آمنے سامنے آگئے ہیں۔ امریکی معاون وزیر خارجہ ایلس ویلز پاکستان کو خبردار کررہی ہیں کہ اقتصادی راہداری سے چین کو تو فائدہ پہنچے گا، لیکن اس سے پاکستان کو طویل المدتی معاشی نقصان ہوسکتا ہے، جبکہ چین نے ان الزامات کو سختی سے مسترد کردیاہے۔ پاکستان میں چین کے سفیر یاؤجنگ نے کہاکہ سی پیک سے 75 ہزار پاکستانیوں کو روزگار ملا ہے۔ چین پاکستان سے مغربی ممالک اور آئی ایم ایف کی طرح قرض کی ادائیگی کا مطالبہ بھی نہیں کرے گا۔ امریکہ مخلص ہے تو آگے آئے اور پاکستان میں سرمایہ کاری کرے۔ چینی سفیر نے مزید کہاکہ چین بشمول سی پیک میں امریکی سرمایہ کاری کا خیر مقدم کرے گا۔انہو ں نے واضح انداز میں کہاکہ سی پیک میں کرپشن کا کوئی ثبوت نہیں ملا۔پاکستان کے چین اور امریکہ دونوں سے قریبی تعلقات ہیں۔ چین کی دوستی کو شہد سے میٹھا اورہمالیہ سے زیادہ بلند قرار دیا جاتا رہا ہے۔ امریکہ کے ساتھ پاکستان کے تعلقات میں نشیب و فراز آتے رہے ہیں۔

دونوں ممالک ایک دوسرے کے قریبی حلیف ہیں اور بہت سے نازک مواقع پر امریکہ نے پاکستان کا بھرپور ساتھ بھی دیاہے۔ سابق امریکی صدر نکسن یہ کہتے رہے ہیں کہ 1971ء میں اندرا گاندھی مشرقی پاکستان پر قبضہ کرنے کے بعد مغربی پاکستان پر حملہ کرنا چاہتی تھی،مگر امریکہ کی جانب سے اُس وقت ٹھوس موقف اختیار کرکے اندراگاندھی کو اس سے باز رکھا گیا۔ پاکستان نے امریکہ سے متعدد بار یہ شکایت بھی کی ہے کہ وہ برے وقتوں میں ساتھ چھوڑ جاتا ہے اور اس خطے کے متعدد مسائل کی وجہ امریکہ کی پالیسیاں ہیں۔ امریکہ جس انداز سے بھارت کی بھر پور حمایت کرتا ہے، اس پر بھی پاکستانی حلقوں میں تشویش محسوس کی گئی ہے۔ افغانستان میں مسائل کی ایک بڑی وجہ بھارت کی موجودگی بھی ہے۔متعدد قونصل خانوں کے متعلق بتایا جاتا ہے کہ وہ ایسے کام کرتے ہیں، جو انہیں نہیں کرنے چاہئیں اور ان کا دائرہ /ایجنڈا پاکستانی مفادات کے خلاف کام کرنا ہے۔

پاکستان کی بھارت کے ساتھ متعدد جنگیں ہوئی ہیں اور بہت سے عالمی مبصرین اصرار کرتے ہیں کہ مسئلہ کشمیراس خطے میں عالمی جنگ کی وجہ بن سکتا ہے۔ اس خطے میں جہاں افغانستان کا امن ضروری ہے، وہاں پاک بھارت تعلقات کی بہتری بھی ناگزیر ہے،مگر اس سلسلے میں بھارت کا رویہ انتہائی نامناسب رہا ہے۔ آج مقبوضہ کشمیر میں 113روز کرفیو نافذ ہے اور اس سے جو انسانی المیے جنم لے رہے ہیں، ان کی خبر بھی دنیا تک نہیں پہنچ رہی۔ بھارت کی انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی آواز امریکی ایوان نمائندگان تک بھی پہنچ گئی ہے۔ وہاں مسئلہ کشمیر پر بل کا مسودہ پیش کیا گیا ہے، مگر کشمیری جن مسائل کا شکار ہیں عملی طور پر انہیں کسی طرف سے مدد نہیں مل رہی۔پاکستان میں اہل کشمیر کے متعلق آواز اٹھا ئی جاتی ہے اور توقع کی جاتی ہے کہ اس سے عالمی ضمیر جاگ اٹھے گا۔پاکستان، بھارت کی جنگی تیاریوں سے بخوبی آگاہ ہے اور بدلتے ہوئے تقاضوں پر اس کی کڑی نظر ہے۔

چند روز قبل پاکستان نے 650کلومیٹر مار کرنے والے میزائل شاہین ون کا کامیاب تجربہ کیا اور قوم کو یہ نوید دی ہے کہ افواج پاکستان وطن عزیز کا دفاع کرنے کی بھرپور صلاحیت رکھتی ہیں۔ پاکستان ایک ایٹمی قوت ہے اور اس کے پاس غوری اور شاہین میزائل بھی موجود ہیں جو دوردراز ٹارگٹ کو نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ پاکستان کے دشمنوں پر یہ بات پوری طرح عیاں ہے کہ پاکستان ناقابل تسخیر ہے اور اپنے دفاع کی بھرپور صلاحیت رکھتا ہے۔ بھارت کے ایٹمی دھماکوں کے بعد ذوالفقار علی بھٹو کو پاکستانی قوم ایٹمی دھوئیں میں پھنسی ہوئی نظر آئی تھی اور انہوں نے کہا تھا کہ ہم گھاس کھا لیں گے،مگر ایٹم بم بنائیں گے۔ اہل پاکستان نے گھاس کھائے بغیر ایٹم بم بنا لیا، بلکہ ایٹم بم کے بعد میزائل ٹیکنالوجی بھی حاصل کر لی۔ پاکستان نے جب میزائل ٹیکنالوجی حاصل کی تھی، اس وقت دفاعی صلاحیتوں کے اعتبار سے دنیا کا چودھواں ملک بن گیا، جبکہ ایٹمی دھماکوں کے بعد دنیا نے اسے چھٹے نمبر پر قرار دیا۔

1947ء میں جب پاکستان قائم ہوا تو اس وقت پاکستانی قیادت بھارت کے ساتھ اچھے تعلقات قائم کرنے کی خواہاں تھی۔ قیام پاکستان کے بعد پہلے امریکی سفیر پال ایلنگ نے واشنگٹن کو قائد اعظمؒ سے اپنی ملاقات کی تفصیل ارسال کی تھی۔ اس کے مطابق مملکت خداداد کے معرض وجود میں آنے کے سات ماہ بعد قائد اعظمؒ کی امریکی سفیر سے ملاقات ہوئی۔ یہ ملاقات عرب کے ساحل پر ایک کاٹیج میں ہوئی۔ قائد اعظمؒ نے امریکی سفیر کے ساتھ ریتلے ساحل پر ٹہلتے ہوئے کہا کہ بھارت اور پاکستان کے درمیان قریبی تعلقات ان کی سب سے بڑی دلی آرزو ہے اور وہ خلوص نیت سے یہ چاہتے ہیں کہ دونوں ممالک کے درمیان اسی طرح کا تعلق ہو، جیسا امریکہ اور کینیڈا کے درمیان ہے۔ اس کا مطلب یہ تھا کہ دونوں ممالک کے درمیان سرحدوں پر گارڈز تعینات نہ ہوں، آزادانہ تجارت ہو اور بہت سے مقامات سے دونوں ممالک کے باشندوں کو آنے جانے کی آزادانہ اجازت ہو۔ جناحؒ کی خواہش تھی کہ جب وہ گورنر جنرل کے عہدے سے ریٹائر ہوں تو اپنی بقیہ زندگی ممبئی میں بسر کریں۔ قائداعظمؒ کے خیال کے مطابق تقسیم ایک بڑا انقلاب تھا،جس نے برصغیر کے آئینی مسائل کو حل کر دیا تھا……مہاتما گاندھی تقسیم ہند کے حامی نہیں تھے، مگر جب تقسیم ہو گئی تو وہ کہتے تھے کہ دو بھائیوں میں باہمی رضامندی سے علیحدگی ہوئی ہے۔ وہ دونوں ممالک کے درمیان اچھے تعلقات چاہتے تھے۔ انہوں نے پاکستان کو اس کے حصے کے اثاثے دلوانے کے لئے مرن بھرت بھی رکھا۔ انہوں نے بھارت میں مسلمانوں کے ساتھ اچھاسلوک کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔ گاندھی کی تجویز تھی کہ پاکستان کو خاندان کا ایک ایسا فرد سمجھا جائے جو جائنٹ فیملی سے الگ ہو کر اپنے گھر میں چلا گیا گاؤ سے نے انہیں اس لئے قتل کیا تھا، کیونکہ اس کا خیال تھا کہ گاندھی مسلمانوں کے مفادات کو غیرمعمولی تحفظ دے رہے ہیں۔

پنڈت جواہر لال نہرو کا معاملہ قدرے مختلف تھا۔ وہ پاکستان کو یہ باور کرانے کی کوشش کرتا تھا کہ مسلمانوں سے غلطی ہو گئی ہے،تاہم جنوری 1948ء میں علی گڑھ میں تقریر کرتے ہوئے نہرو نے کہا تھا:کہ وہ کبھی پاکستان کو بھارت کا حصہ نہیں بنائیں گے۔ انہوں نے کہا: ”اگر کبھی اتفاق سے مجھے بھارت اور پاکستان کے اتحاد کا کہا جائے تو مَیں ٹھوس وجوہات کی بنا پر ایسا کرنے سے انکار کر دوں گا۔ مَیں پاکستان کے انتہائی سنگین مسائل کا بوجھ اٹھانے کے لئے تیار نہیں ہوں۔ ہمارے اپنے خاصے مسائل ہیں۔ دونوں ملکوں کے درمیان قریبی تعلق فطری انداز میں دوستانہ طریقے سے پیدا ہونا چاہیے، جس میں پاکستان کا بطور ریاست خاتمہ نہ ہو“……سردار پٹیل کو پاکستان کی بقاء کے متعلق شبہ تھا۔ اس نے کہا تھا کہ ”جلد یا بدیر دونوں ممالک متحد ہو جائیں گے“۔ دسمبر 1950ء میں اپنی موت سے قبل اس نے کہا تھا: ”اس بات کو کبھی فراموش نہیں کرنا چاہیے کہ بھارت ماتا کے اہم حصے کاٹ کر علیحدہ کر دیئے گئے ہیں“۔

بھارت کی موجودہ قیادت کو گاندھی اور نہرو دونوں پسند نہیں،وہ انہی کو اپنا ہیرو قرار دیتے ہیں۔ اگر آج گاندھی اور نہرو بھی زندہ ہوتے تو وہ بھارت کی پالیسیوں سے خوفزدہ ہو جاتے۔ گاندھی اور نہرو دو قومی نظریئے کے خلاف تھے، مگر وہ دیکھتے کہ مودی دو قومی نظریے سے بھی آگے بڑھ گیا ہے۔ وہ ہندوستان کو صرف ہندوؤں کا ملک دیکھنا چاہتا ہے۔ اس کے ہاں اقلیتوں کی کوئی جگہ نہیں ہے۔ نہرو مودی کو بتاتے کہ جس راستے پر وہ چل پڑا ہے اس سے بھارت کی قومی یکجہتی کو ناقابل تلافی نقصان پہنچے گا۔ یہ نہرو ہی تھے جنہوں نے مسئلہ کشمیر کے حل کے لئے اقوام متحدہ میں استصواب رائے کا وعدہ کیا تھا۔وادیء کشمیر سے اُٹھتی چیخوں سے نہرو کو یقینا تکلیف ہوتی کہ بھارتی افواج کتنے بڑے پیمانے پر انسانی حقوق کی خلاف ورزی کررہی ہیں۔بھارت کے بھی سی پیک کے متعلق شدید تحفظات ہیں۔امریکہ نے سی پیک کے خلاف آواز اٹھا کر درحقیقت بھارت کی ہاں میں ہاں ملائی ہے۔ ہمیں اس امر کو فراموش نہیں کرنا چاہیے کہ عالمی سیاست غیر معمولی تیزی کے ساتھ تبدیل ہورہی ہے اور اس صورت حال میں پاکستان کو غیرمعمولی احتیاط سے کام لینا ہوگا۔

مزید : رائے /کالم