زخم ازو، نشتر ازو، سوزن ازو

زخم ازو، نشتر ازو، سوزن ازو
زخم ازو، نشتر ازو، سوزن ازو

  



کوئی نہ کوئی مسئلہ پاکستان کی جان کو لگا ہی رہتا ہے…… اب اگلے روز جنوبی ایشیا کے لئے امریکہ کی اسسٹنٹ سیکرٹری آف سٹیٹ ایلس ویلز (Alice Wells) نے یہ بیان داغا ہے کہ چین کے سی پیک (CPEC) کے قرضے آنے والے چند برسوں میں پاکستان کی اقتصادی کمر توڑ کر رکھ دیں گے اور پاکستان مستقبل قریب میں ترقی اور خوشحالی کے جو خواب دیکھ رہا ہے وہ جلد چکنا چور ہو جائیں گے…… بندہ پوچھے امریکہ کو پاکستان کے اقتصادی مسائل کا درد کب سے ستانے لگا ہے۔ امریکہ کا پاکستان کے بارے میں ٹریک ریکارڈ تو یہ ہے کہ وہ ساؤتھ ایشیا کے اس خطے میں ہمیشہ اپنے مفادات کی پاسداری کرتا رہا ہے۔ امریکی خاتون کے اس درد کا جواب ہمارے وزیرخارجہ نے کل ملتان میں یہ کہہ کر دیا ہے: ”پاکستان کے کل قرضے 74ارب ڈالر ہیں جن میں CPEC کے قرضوں کا حصہ صرف 4.9ارب ڈالر ہے۔“

ہمارے کئی دوسرے وفاقی وزراء اور مشیر بھی یہ بتا رہے ہیں کہ CPEC کا یہ منصوبہ نہ صرف پاکستان بلکہ اس خطے کے لئے گیم چینجر ہے۔ ان کا کہنا یہ ہے کہ:”اس منصوبے میں اگر امریکہ بھی کوئی حصہ لینا چاہتا ہے تو اس کے لئے صلائے عام ہے۔ وہ CPEC کے خصوصی اقتصادی زونوں میں سرمایہ کاری کر سکتا ہے۔ ہم نہیں سمجھتے کہ CPECکی وجہ سے پاکستان پر قرضوں کا بوجھ بڑھ جائے گا۔ یہ امریکیوں کا اپنا نقطہ ء نظر ہو تو ہو، پاکستان اس سے اتفاق نہیں کرتا۔CPECکا پہلا مرحلہ ختم ہو چکا ہے اور دوسرا شروع ہونے والا ہے، جس میں ایم ایل ون (ریلوے کی مین لائن۔ ون) اور خصوصی اقتصادی زونوں کا قیام شامل ہے۔ یہ سارے میگا پراجیکٹ ہیں۔ پاک چین اقتصادی راہداری کا یہ منصوبہ ہماری ہمہ جہت ترقی کے لئے سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے اور پاکستان کی سماجی اقتصادی (Socio- economic) ترقی کا ضامن بھی ہے“۔ وزیراعظم کے مشیر برائے تجارت عبدالرزاق داؤد نے بڑے واشگاف الفاظ میں کہا کہ: ”ہر ملک کو اختیار ہے کہ وہ اپنے فیصلے خود کرے۔ پاکستان نے اگر اس منصوبے میں حصہ لیا ہے تو وہ اپنے نفع و نقصان کا خود ذمہ دار ہے۔ پاکستان اپنے فیصلے خود کرتا ہے۔ امریکہ کو اس قسم کا تبصرہ کرنے کی کیا ضرورت تھی“۔

نہ صرف حکومتی وزراء اور مشیروں نے مسز ویلز کے بیان کی ”کلاس“ لی بلکہ نون لیگ کے صدر شہبازشریف نے بھی لندن سے جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا کہ:”امریکی خدشات بے بنیاد ہیں“۔ حقیقت یہ ہے کہ جب سے CPEC شروع ہوا ہے، امریکہ اور اس کے حواری اس پر کڑی تنقید کرتے رہے ہیں۔ چین اور امریکہ کے تجارتی تعلقات ایک مدت سے دگرگوں ہیں۔ امریکی صدر نے ایران کے ساتھ جوہری معاہدہ ختم کرنے کے بعد دوسرا بڑا اقدام یہ اٹھایا کہ چین پر باہمی تجارت کی پابندیاں لگا دیں جن کے منفی اثرات چین سے زیادہ خود امریکہ پر پڑ رہے ہیں۔ لیکن ٹرمپ ہیں کہ اپنی ضد پر اڑے ہوئے ہیں۔ چین اپنے اس راہداری منصوبے کے تحت افریقہ، یورپ اور مشرق وسطیٰ کے ممالک کے ساتھ باہمی تجارت کو فروغ دے رہا ہے۔ مشرقِ وسطیٰ کے ممالک پر ایک طویل عرصے سے مغربی ممالک کی تجارتی، سیاسی اور فوجی اجارہ داری قائم تھی۔اب گوادر پورٹ کی ڈویلپ منٹ سے مغرب کی یہ چودھراہٹ امریکی ہاتھوں سے نکل رہی ہے۔ خلیج فارس، آبنائے ہرمز، بحیرۂ عرب اور بحرہند میں بحری تجارتی راستوں پر امریکہ اور اس کے ہمنواؤں کی اجارہ داری بھی ختم ہو رہی ہے۔ یہ ایک ایسا موضوع ہے جس پر قارئین ایک طویل عرصے سے میڈیا پر بحث و مباحثے سن، دیکھ اور پڑھ رہے ہیں۔

اس سلسلے میں تازہ ترین ڈویلپمنٹ یہ ہوئی ہے کہ رائٹر کی ایک خبر کے مطابق متحدہ عرب امارات میں فرانس کی طرف سے ایک بحری مستقر (Naval Base) قائم کیا جا رہا ہے جس کا ہیڈکوارٹر دبئی میں ہو گا، جس میں بحری جنگی جہاز لنگر انداز رہیں گے اور بوقتِ ضرورت خلیج فارس اور آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کے راستوں کی براہِ راست نگرانی کر سکیں گے۔ ان پانیوں میں امریکہ اور ایران کی آویزش تو ایک عرصے سے چل رہی ہے۔ اب امریکہ کے ساتھ اس کے دوسرے مغربی اتحادی بھی یہاں آ دھمکے ہیں۔ اس سے مقصود نہ صرف ایران کو براہِ راست بحری حملوں کی زد میں آنے کے خطرات کا احساس دلانا ہے، بلکہ مشرقِ وسطیٰ کے اپنے اتحادیوں (سعودی عرب، قطر، کویت، بحرین، امارات وغیرہ) کو بھی ہلہ شیری دینا ہے کہ ہم آپ کو چھوڑ کر کہیں نہیں جا رہے۔

مشرق وسطیٰ کے کسی بھی دوسرے ملک میں فی الوقت فرانس کی کوئی نیول بیس نہیں۔شمالی افریقہ کے ساحلی ممالک مراکش، تیونس اور الجیریا وغیرہ سے بھی فرانسیسی اثر و رسوخ کا خاتمہ ہوئے کئی عشرے گزر چکے جبکہ لیبیا، سوڈان اور مصر پر برطانوی اثر و رسوخ کا بھی تقریباً خاتمہ ہو چکا ہے۔ البتہ عرب ممالک میں امریکی اثر و رسوخ اب بھی موجود ہے اور بدیہی ہے۔ یہاں اسرائیل بھی ہے جو امریکی دفاعی آؤٹ پوسٹ ہے اور ایران بھی ہے جس سے امریکہ اور اسرائیل کا بقول پنجابی محاورہ ”اینٹ کتے“ کا بیر ہے۔ اب امریکہ اس خطے میں فرانس کو لے آیا ہے۔ کچھ ماہ پیشتر آپ کو یاد ہو گا خلیج فارس اور عدن میں مغربی ممالک کے دو بحری آئل ٹینکروں پر حملے ہوئے تھے۔ خطرہ یہ تھا (اور ہے) کہ اگر ایران۔ امریکہ جنگ ہوئی تو آبنائے ہرمز بند ہو جائے گی اور نتیجتاً فرانس اور جرمنی وغیرہ کو تیل کی سپلائی بھی متاثرہو گی۔ یہ تیل اگرچہ جزوی طور پر نہر سویز کے ذریعے مغربی یورپ کو بھیجا جاتا ہے لیکن جاپان اور دوسرے مغربی اتحادیوں کو بالخصوص آبنائے ہرمز سے گزر کر جانا ہوتا ہے۔ اس آبنائے کے دہانے پر پاکستان (گوادر) بیٹھا ہوا ہے جو CPEC کے ذریعے مشرق و مغرب سے وابستہ ہو رہا ہے اور نہ صرف یہ بلکہ وسط ایشیائی ریاستوں، افغانستان اور روس تک سے بھی مربوط ہونے جا رہا ہے۔

اب فرانسیسی وزیر دفاع فلورنس پارلی (Florence Parly) نے دو روز پہلے امارات کے دارالحکومت دبئی (ابوظہبی) میں اخباری نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے یہ بھی کہا کہ: ”ہم اماراتی سرزمین پر ایک بحری کمانڈ پوسٹ قائم کر رہے ہیں۔ اس کمانڈ سنٹر میں ایک درجن کے قریب یورپی بحریہ کے آفیسرز مقیم ہوں گے جو اپنے ممالک کی نمائندگی کریں گے۔ میں جب آئندہ دبئی کی وزٹ پر آؤں گی تو امید ہے یہ کمانڈ آپریشنل ہو چکی ہو گی۔ میں اس کے لئے متحدہ عرب امارات کے حکام کی شکر گزار ہوں۔“

فرانسیسی وزیر دفاع نے کھل کر یہ بھی کہا کہ: ”ہم اس بحری مشن کو فعال کرنے میں کسی مزید تاخیر کو حائل نہیں ہونے دیں گے۔ اگلے برس 2020ء کے اوائل میں یورپ کے دس نمائندے اس بحری مستقر کا حصہ بن جائیں گے جو اپنی اپنی حکومتوں کو رپورٹ کیا کریں گے۔“

قارئین کے لئے یہ جاننا بھی ضروری ہے کہ بحری مشن اور بحری مستقر میں کیا فرق ہوتا ہے…… مشن میں صرف افرادی قوت ہوتی ہے جبکہ مستقر میں افرادی قوت کے ساتھ اسلحہ جات، گولہ بارود اور دیگر لاجسٹک انتظامات وغیرہ بھی ہوتے ہیں۔ دبئی میں یہ بحری مستقر جو تعمیر کیا جائے گا فی الحال ابتدائی مراحل میں ہو گا اور اس میں دس بارہ یورپی ممالک کے وہ نمائندے شرکت کریں گے جن کا تعلق ان ممالک کی بحریاؤں (Navies) سے ہو گا۔ اس علاقے میں امریکی عسکری اثر و رسوخ تو پہلے سے موجود ہے۔ امریکی سنٹرل کمانڈ کا ایک بڑا حصہ قطر اور بحرین میں خیمہ زن ہے۔ ایک بحری ٹاسک فورس بھی ہمیشہ یہاں مقیم رہتی ہے۔ یہ فرانسیسی مستقر جو مستقبل قریب میں جلد تشکیل پذیرہونے والا ہے وہ امریکی مستقر سے الگ ہو گا۔ یہ ایک طرح کا یورپی مستقر ہو گا جس کی سربراہی فرانس کرے گا۔

فرانس کی مسلح افواج میں ائرفورس اور نیوی کا رول کسی تعارف کا محتاج نہیں۔ فرانسیسی آبدوزیں اور دیگر جنگی بحری جہاز اپنا ایک مخصوص اور اہم آپریشنل مقام رکھتے ہیں۔ یہی حال فرانسیسی فضائیہ کا بھی ہے۔ پاک بحریہ میں جدید ترین فرانسیسی آبدوزیں (خالد، سعد اور حمزہ) شامل ہیں اور ہماری فضائیہ میں بھی فرانسیسی طیاروں کی ایک قابلِ لحاظ موجودگی ہے۔ ہمارے مشرقی ہمسائے نے ابھی حال ہی میں فرانس سے رافیل طیاروں کا جو معاہدہ کیا ہے اس کا پہلا طیارہ انڈین ائر فورس میں انڈکٹ کیا جا چکا ہے۔ میں اس کی تفصیلات اپنے ایک سے زیادہ کالموں میں قارئین کے سامنے رکھ چکا ہوں۔ فلورنس پارلی کے بیان کا یہ حصہ بھی قابلِِِ غور ہے: ”اس زون میں ہم چاہیں گے کہ محفوظ جہاز رانی کی زیادہ سے زیادہ سہولیات فراہم کی جائیں۔ ہم جانتے ہیں کہ اس علاقے میں بہت سے تنازعات پہلے سے موجود ہیں۔ ان پانیوں میں کئی حادثات پہلے بھی رونما ہو چکے ہیں۔ ہم ایران کے اس اقدام کی مذمت کرتے ہیں جو اس نے حالیہ ایام میں جوہری ڈیل کی خلاف ورزی کرتے ہوئے اٹھایا ہے۔……فرانس، سعودی عرب کو وہ دفاعی ساز و سامان (اسلحہ جات اور گولہ بارود) دے رہا ہے جس سے وہ کم بلندی پر اڑنے والے میزائلوں کو کاؤنٹر کر سکے گا۔ سعودی عرب نے اس طرح کے ہتھیاروں کی ہم سے درخواست کی تھی۔ یہ درخواست ماہ ستمبر 2019ء میں اس حملے کے توڑ کے لئے کی گئی تھی جس میں ایران نے اپنے ڈرون اور نچلی پرواز کرنے والے میزائل فائر کرکے سعودی آئل کی پیداوار میں بہت کمی کر دی تھی۔ (ایران نے اس حملے کی ذمہ داری قبول نہیں کی تھی۔) …… لیکن اس طرح کی کوئی درخواست ابھی تک ہمیں متحدہ عرب امارات کی طرف سے موصول نہیں ہوئی“۔

قارئین کرام! آپ نے دیکھا اس فرانسیسی خاتون وزیر دفاع پارلی نے آخر میں کس خوبصورتی سے اپنی وزارتِ دفاع کا اصل مدعا پیش کیا اور کہا کہ: ”امارات کی طرف سے تاحال ہمیں کوئی ایسا آرڈر موصول نہیں ہوا کہ ہم ممکنہ ایرانی حملے کے خلاف اس عرب ریاست کو سعودی عرب کی طرح کا اسلحہ اور گولہ بارود بھیج سکیں …… اوپر بھی کہا گیا اور ہم پھر دہراتے ہیں کہ ایران نے سعودی عرب پر ستمبر 2019ء کے حملے کی ذمہ داری قبول نہیں کی تھی اور بتایا تھا کہ یہ حملہ کسی مغربی ملک نے کیا ہو گا۔ اس حملے کا مقصد یہ تھا کہ سعودیوں کو نچلی پرواز کرنے والے میزائلوں کے کاؤنٹر کی کھیپ فروخت کر سکیں اور اس طرح اپنے دفاعی کارخانوں کو چلتا رکھ سکیں۔

مشرق وسطیٰ کے عرب ممالک کے لئے مغربی ملکوں نے اسلحہ کی سپلائی کے لئے درجہ بندی کی ہوئی ہے۔ مثلاً ٹینک اگر فرانس نے دیئے ہیں تو طیارے امریکہ دے گا اور بکتر بند گاڑیاں جرمنی فراہم کرے گا جبکہ برطانیہ راڈار وغیرہ سپلائی کرے گا۔ الغرض عربوں کی تیل کی دولت ان جنگی ہتھیاروں کی خرید کی نذر ہو رہی ہے اور کسی عرب ریاست کو خدا نے اب تک یہ توفیق نہیں بخشتی کہ اپنے ہاں کوئی قابلِ ذکر اسلحہ ساز فیکٹری قائم کرے یا اپنی افواجِ ثلاثہ کو مسلح کرنے کے سلسلے میں خود کفالت کی طرف رخ کرے۔

ایک صدی پہلے حضرتِ اقبال نے کتنا سچ کہا تھا:

دانی از افرنگ و ازکارِ فرنگ

تاکجا در قیدِ زُنّارِ فرنگ؟

(تو مغرب کو جانتا ہے اور اس کی کارستانیوں کو بھی جانتا ہے تو پھر افرنگ کے اس کفرستان میں کب تک قید رہے گا؟)

آں جہاں بانے کہ ہم سوداگر است

برزبانش خیر و اندر دل شراست

(دیکھنے کو یہ سپرپاور ہے لیکن سوداگر بھی ہے۔ اس کی زبان پر خیر ہے اور دل کے اندر شر ہے۔)

بے نیاز از کار گاہِ او گذر

در زمستاں پوستینِ او مخر

(اس کی ورکشاپ کی طرف دھیان نہ کر اور سردیوں کے موسم میں اس کا اوورکوٹ مت خرید)

وقت سودا خند خند و کم خروش

ماچو طفلانیم و او شکر فروش

(جب وہ کوئی ڈیل کرتا ہے تو ہنستا اور قہقہے لگاتا رہتا ہے اور کوئی شور وغیرہ نہیں کرتا۔ ہم گویا طفلِ ناداں ہیں اور وہ مٹھائی فروش ہے)

اے زکارِ عصرِ حاضر بے خبر

چرب وستیہائے یورپ رانگر

(اے وہ کہ تو زمانہ ء حاضر کی کارستانیوں کو نہیں سمجھتا۔ یورپ کی حیلہ سازیوں کو سمجھ اور ان کا شکار مت ہو)

چشمِ تو از ظاہرش افسوں خورد

رنگ و آبِ او ترا از جا برد

(مغرب نے تیری آنکھوں پر پٹی باندھ دی ہے اور تمہاری خوبصورتی اور خوبروئی کو اچک کر لے گیا ہے)

زخم ازو نشتر ازو، سوزن ازو

ما و جوئے خون و امیدِ رفو!

(زخم بھی اس نے دیئے ہیں، نشتر بھی وہی لگاتا ہے اور سوئی بھی وہی چبھو کر ہمارا لباس تار تار کر رہا ہے اور ہم ہیں کہ خون میں لتھڑے ہوئے ہیں اور اس سے اپنے پھٹے ہوئے لباس کو رفو کروانے کی فکر میں ہیں)

مزید : رائے /کالم