اسلام آباد ہائیکورٹ،مشرف غداری کیس کا فیصلہ روکنے کی درخواستیں،حکومت کو حکم امتناع نہ مل سکا

اسلام آباد ہائیکورٹ،مشرف غداری کیس کا فیصلہ روکنے کی درخواستیں،حکومت کو حکم ...

  



اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک،این این آئی) اسلام آباد ہائیکورٹ میں مشرف غداری کیس کا فیصلہ روکنے کی درخواستوں پر حکومت کو حکم امتناع نہ مل سکا، خصوصی عدالت کی تشکیل پر وزارت قانون سے ریکارڈ طلب کرتے ہوئے اسلام آباد ہائیکورٹ نے سماعت آج تک ملتوی کر دی۔غداری کیس کا فیصلہ روکنے کی درخواستوں پر اسلام آباد ہائیکورٹ میں سماعت چیف جسٹس ہائیکورٹ کی سربراہی میں 3 رکنی بنچ نے کی، سابق صدر جنرل (ر) پرویز مشرف اور وزارت داخلہ نے غداری کیس کا فیصلہ روکنے کی استدعا کی۔چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے حکومتی وکیل سے استفسار کیا کہ آپ کی پٹیشن دیکھی، صرف ایک متعلقہ پیراگراف ہے۔ جسٹس عامرفاروق نے پوچھا کہ کیا وزارت داخلہ سے یہاں پر کوئی ہے۔ جسٹس محسن اختر کیانی نے استفسار کیا کہ جب پٹیشن دائر ہوئی تو آپ نے متعلقہ حصہ نہیں دیکھا۔دوران سماعت چیف جسٹس نے پرویز مشرف کے وکیل کو دلائل دینے سے روک دیا، انہوں نے ریمارکس دیئے کہ مشرف اشتہاری ہیں، آپ پیش نہیں ہوسکتے، آپ متاثرہ فریق نہیں،سپریم کورٹ نے کہا تھا مشرف پیش نہ ہوئے تو حق دفاع ختم ہو جائے گا۔وفاقی حکومت کے وکیل نے کیس کی تیاری کیلئے عدالت سے وقت مانگ لیا، عدالت نے سوال اٹھایا کہ کیا خصوصی عدالت کی تشکیل کا نوٹیفکیشن جاری ہوا؟ جس پر اسسٹنٹ اٹارنی جنرل ساجد الیاس نے کہا کہ پوچھ کر بتاؤں گا۔ عدالت نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ آپ نے اتنا اہم مقدمہ دائر کیا اور بغیر تیاری آ گئے۔دوسری جانب سابق صدر جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف کا ٹرائل مکمل کرنے اور فیصلہ سنانے کیلئے سپریم کورٹ میں درخواست دائر کر دی گئی۔ لاہور ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کی جانب سے دائر درخواست میں کہاگیاکہ سپریم کورٹ یکم اپریل کو خصوصی عدالت کو ٹرائل مکمل کرنے کی واضح ہدایات دے چکی ہے۔ درخواست میں کہاگیاکہ سپریم کورٹ نے کہا تھا کہ مشرف کی عدم پیشی پر حق دفاع ختم ہو جائے گا، وفاقی حکومت کیس مکمل ہونے میں روڑے اٹکا رہی ہے۔ درخواست کے مطابق خصوصی عدالت بھی ٹرائل مکمل نہ کرکے سپریم کورٹ کے احکامات کی خلاف ورزی کر رہی ہے۔درخواست میں کہاگیاکہ انصاف کے تقاضوں کو مدنظر رکھتے ہوئے سپریم کورٹ حکومت اور خصوصی عدالت کو مناسب ہدایات جاری کرے۔ درخواست میں استدعا کی گئی کہ سپریم کورٹ اپنے یکم اپریل 2019 کے حکم پر عملدرآمد کروائے۔علاوہ ازیں ایڈیشنل اٹارنی جنرل طارق محمود کھوکھر نے اپنے استعفیٰ سے متعلق خبروں کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کا اپنا عہدہ چھوڑنے کا کوئی ارادہ نہیں۔تفصیلات کے مطابق ایک روز قبل طارق محمود کھوکھر کی جانب سے اسلام آباد ہائی کورٹ (آئی ایچ سی) میں ایک درخواست دائر کی گئی تھی، جس میں سابق صدر پرویز مشرف کے خلاف سنگین غداری کیس میں خصوصی عدالت کے فیصلے کو روکنے کی استدعا کی گئی تھی۔اس حوالے سے جب ان سے رابطہ کیا گیا تو انہوں نے نجی ٹی وی کو بتایا کہ وہ عدالت میں حکومت کی نمائندگی کیلئے پیش ہوئے تھے (لیکن) دیگر مصروفیات کے سبب سنگین غداری کیس میں وزارت داخلہ کی درخواست پر دلائل نہیں دے سکا جس کے باعث پراسیکیوٹر ساجد الیاس بھٹی طارق محمود کھوکھر کی جگہ پیش ہوئے تھے تاہم اس کے بعد ٹوئٹر پر طارق محمود کھوکھرکے اچانک استعفیٰ کی خبریں گردش ہونا شروع ہوگئیں اور کچھ میڈیا اداروں نے بھی اسے رپورٹ کیا۔

مشرف غداری کیس

لاہور (نامہ نگار خصوصی) لاہور ہائیکورٹ نے خصوصی عدالت کوسنگین غداری کیس کا فیصلہ سنانے سے روکنے کے لئے سابق صدرجنرل (ر) پرویز مشرف کی طرف سے دائر درخواست قابل سماعت قرار دیتے ہوئے وفاقی حکومت کو کل 28 نومبر کے لئے نوٹس جاری کردیئے ہیں، عدالت عالیہ نے حکومت سے خصوصی عدالت کی تشکیل سے متعلق ریکارڈ بھی طلب کر لیا ہے،فاضل جج نے اٹارنی جنرل پاکستان کو ہدات کی ہے کہ وہ متعلقہ حکام سے ہدایات لے کر عدالت کی معاونت کیلئے پیش ہوں،مسٹر جسٹس سید مظاہر علی اکبر نقوی نے کیس کی سماعت شروع کی تو درخواست گزار سابق صدر پرویز مشرف کے وکلا ء خواجہ طارق رحیم اور اظہر صدیق سے استفسار کیا کہ عدالت نے اس درخواست کے لاہور ہائی کورٹ میں قابل سماعت ہونے کے حوالے سے پیر کے روزابتدائی شنوائی کے موقع پر جو نکات اٹھائے تھے ان کا کیا جواب ہے؟درخواست گزار کے وکلاء نے کہا کہ آپ نے پیر کے روزدرخواست کے قابل سماعت ہونے کے معاملہ پر دو قانونی نکات پر دلائل مانگے تھے،وکلاء نے ایان علی سمیت متعددمقدمات کے عدالتی فیصلوں کے حوالے سے کہا کہ آئین کے آرٹیکل 199کے تحت دائر رٹ درخواست دائر کرنے والے کا متعلقہ ہائی کورٹ کی جغرافیائی حدود میں رہائش پذیر ہونا ضروری نہیں ہے۔دوسراآپ نے استفسار کیا تھا کہ غداری کیس کی بابت نظرثانی کی درخواست سپریم کورٹ میں میں زیر لتواء ہے، درخواست گزار سپریم کورٹ سے رجوع کیوں نہیں کرتا؟ اس میں سپریم کورٹ نے خصوصی عدالت کو ہدایات دے رکھی ہیں،پرویز مشرف کے وکیل اظہر صدیق نے کہا کہ سپریم کورٹ میں زیر التواء نظر ثانی کی درخواست کی نوعیت مختلف ہے،ہم ٹرائل کے خلاف نہیں بلکہ خصوصی عدالت کی تشکیل کے خلاف یہاں آئے ہیں،ویسے بھی نظرثانی کے درخواست کا سکوپ بہت محدود ہوتا ہے،جس پر فاضل جج نے کہا کہ ہر چیز کے ڈائنامکس بدلتے رہتے ہیں، بھارتی سپریم کورٹ نے 2017ء میں اپنے حکم پر نظر ثانی کی اور قرار دیا کہ نظرثانی کی دوسری درخواست بھی دائر ہو سکتی ہے کیونکہ عدالتی فیصلے سے کسی کا بنیادی حق متاثر ہوا تھا، فاضل جج نے مزید کہا کہ کوئی بندہ یہ سمجھے کہ اسے سارا قانون آتا ہے تو وہ بڑی غلطی فہمی میں ہے، قانون مسلسل پڑھنے سے آتا ہے اور روزانہ کی بنیاد پر نئے نئے کیسزاور نئے نئے فیصلہ طلب قانونی نکات سامنے آتے ہیں،جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی نے سابق صدر کے وکیل سے استفسار کیا کہ کیا پرویز مشرف عدالت کی اجازت سے بیرون ملک گئے ہیں؟عدالت کو بتایا گیا کہ پرویز مشرف ٹرائل عدالت کی اجازت سے بیرون ملک گئے،فاضل جج نے استفسار کیا کہ میڈیا پر چل رہا ہے کہ وزارت داخلہ نے بھی اسلام آباد ہائیکورت سے رجوع کیا ہے؟ پرویز مشرف کی وکلاء نے کہا کہ وفاقی حکومت نے خصوصی عدالت کافیصلہ رکوانے کے لیے اسلام آباد ہائیکورٹ سے رجوع کیا ہے۔خصوسی عدالت کی تشکیل ہے غیر قانونی ہے،مصطفی ایمپکس کیس میں سپریم کورٹ 2016 ء میں قرار دے چکی ہے کہ حکومت سے مراد کابینہ ہے،خصوصی عدالت کی تشکیل کا اختیار حکومت یعنی کابینہ کے پاس ہے، اس وقت کے وزیراعظم میاں نواز شریف نے کابینہ کی منظوری کے بغیر یہ خصوصی عدالت قائم کی،جس کی قانون کی نظرمیں کوئی حیثیت نہیں ہے، فاضل جج نے کہا کہ مصطفیٰ ایمپکس کیس سے عدالت اتفاق کرتی ہے لیکن درخواست کے قابل سماعت ہونے سے متعلق مطمئن کریں۔وکیل نے کہا یہ آئینی درخواست وفاقی حکومت اور متعلقہ وفاقی اداروں کے خلاف ہے،اعلیٰ عدالتوں کے فیصلوں کی روشنی میں یہ درخواست کسی بھی ہائی کورٹ میں دائر ہو سکتی ہے۔عدالت نے استفسار کیا کہ کیا پرویز مشرف عدالت کی اجازت کے بعد ملک سے باہر گئے۔وکیل نے کہاکہ پرویز مشرف عدالت کی اجازت کے بعد ہی علاج کے لیے  ملک سے باہر گئے، وہ واپس آنے کے بعد سب سے پہلے عدالت میں پیش ہوں گے،ان کے خلاف غداری کیس کا ٹرائل کرنے والی خصوصی عدالت کی کوئی قانونی حیثیت نہیں کیوں کہ اسکی تشکیل سے قبل کابینہ کی منظوری نہیں لی گئی،خصوصی عدالت نے 19نومبر کو پرویز مشرف کے خلاف کیس کا فیصلہ محفوظ کیاجو امکانی طور پر اسی ماہ سنایا جائے گا، جب اس عدالت کی تشکیل پر ہی سوالات اٹھ گئے ہیں تو اسکے فیصلے کی کیا قانونی حیثیت ہو گی،خصوصی عدالت کوپرویز مشرف کیس کا فیصلہ سنانے سے روکا جائے اوراس کی تشکیل کو غیر قانونی قراردے کرکالعدم کیا جائے،درخواست گزار کی طرف سے یہ استدعا بھی کی گئی کہ سابق صدر پرویز مشرف کی صحت کے تعین کے لئے غیر جانبدار میڈیکل بورڈ تشکیل دیا جائے۔درخواست میں وفاقی حکومت، وزارت قانون و انصاف، ایف آئی اے اور خصوصی عدالت کے رجسٹرار کو فریق بنایا گیا ہے،فاضل جج نے درخواست کے قابل سماعت ہونے کی بابت اعتراضات ختم کرتے ہوئے وفاقی حکومت کو 28نومبر کے لئے نوٹس جاری کرتے ہوئے جواب طلب کرلیا۔فاضل جج نے حکومت کو جنرل پرویز مشرف کے خلاف سنگین غداری کیس کی سماعت کرنے والی خصوصی عدالت کی تشکیل سے متعلق ریکارڈ بھی پیش کرنے کی ہدایت کی ہے جبکہ اٹارنی جنرل کو عدالت کی معاونت کے لئے نوٹس جاری کیا گیاہے۔اس کیس کی مزید سماعت کل 28نومبرکو ہوگی۔

لاہور ہائیکورٹ

مزید : صفحہ اول