سیاسی اور آئینی بحران کا حل حکومت کا خاتمہ اور نئے انتخابات،سلیکٹڈ کو مانانہ مانیں گے:اپوزیشن جماعتیں 

سیاسی اور آئینی بحران کا حل حکومت کا خاتمہ اور نئے انتخابات،سلیکٹڈ کو ...

  



اسلام آباد (سٹاف رپورٹر، مانیٹرنگ ڈیسک، این این آئی)متحدہ اپوزیشن کی آل پارٹیز کانفرنس نے واضح کیا ہے کہ نئے انتخابات پر کوئی مفاہمت نہیں ہوگی،سیاسی و آئینی بحران کا حل، حکومت کا خاتمہ،فوری آزادانہ اور منصفانہ انتخابات ہیں، سب متفق ہیں نہ اب سلیکٹڈ مانتے ہیں نہ آئندہ مانیں گے،اگر ہم سلیکٹڈ کو مانیں تو ہمارا احتساب کیا جائے،تمام اداروں کو اپنے آئینی دائرہ کار میں رہ کر کام کرنا ہوگا، اداروں کا دائرہ اختیار سے تجاوز کرنا قبول نہیں، فارن فنڈنگ کیس کاجلد ازجلد فیصلے کا مطالبہ ہے، چار نکاتی ایجنڈے کی تکمیل تک جدوجہد جاری رہے گی، الیکشن کمیشن ارکان کے ناموں کے لیے تین رکنی کمیٹی تشکیل دی ہے، یہ کمیٹی الیکشن کمیشن کی خالی اسامیوں کے نام فائنل کرے گی، حکومتی وزراء نے اپنے بیانات سے سی پیک کو متنازعہ بنادیا ہے،سی پیک اتھارٹی از سرنو بنائی جائے۔ منگل کو جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمن کی جانب سے بلائی گئی آل پارٹیز کانفرنس میں پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کی قیادت میں فرحت اللہ بابر، نئیر بخاری، مصطفی کھوکھر، یوسف رضا گیلانی، شیری رحمان، راجہ پرویز اشرف کا وفد شریک ہوا،ن لیگ کے رہنما احسن اقبال، پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے چیئرمین محمود خان اچکزئی، قومی وطن پارٹی کے سربراہ آفتاب خان شیرپاؤ، اے این پی کے رہنما امیر حیدر خان ہوتی، نیشنل پارٹی کے رہنما سینیٹر حاصل بزنجو اور جے یو پی کے مرکزی سیکرٹری جنرل اور متحدہ مجلس عمل کے ترجمان انس نورانی بھی اجلاس میں شریک تھے۔ آل پارٹیز کانفرنس میں موجودہ سیاسی صورتحال،آزاد مارچ اور رہبر کمیٹی کے مطالبات، الیکشن کمیشن کے چیف کمشنر او ر ممبران کی تقرری سمیت مختلف امور زیر غور آئے۔اے پی سی کے بعد میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمن نے کہاکہ تمام اپوزیشن جماعتوں کے قائدین، نمائندگان اور رفقاء مجتمع ہوئے جس میں ملک کی مجموعی سیاسی صورتحال پر تفصیلی غور و خوض کیا گیا۔ انہوں نے بتایاکہ تمام جماعتوں نے قرار دیا کہ سیاسی اور آئینی بحرن اور عام لوگوں کے مسائل کا حل موجودہ حکومت کا خاتمہ اور فی الفور انتخابات کے انعقاد کے ذریعے ممکن ہے۔ انہوں نے کہاکہ فوج کے کردار کے بغیر انتخابات ضروری ہے،کسی صورت بھی سلیکٹڈ وزیراعظم قابل قبول نہیں ہوسکتا۔ انہوں نے کہاکہ کسی ریاستی ادارے کو اپنے دائرے سے تجاوز کی اجازت نہیں۔ انہوں نے کہاکہ ہر صورت میں آئیں کی بالادستی کو قائم رکھا جائے گا، شفاف انتخابات ہمارا حتمی مطالبہ ہے جس پر کوئی مفاہمت نہیں ہوگی۔ انہوں نے کہاکہ اے پی سی نے اپوزیشن کے چار نکاتی ایجنڈا کی دوبارہ توثیق اور جدوجہد جاری رکھنے پر اتفاق کیا گیا۔ انہوں نے کہاکہ حکومت کی نااہلی کی وجہ سے ریاستی ڈھانچہ متاثر ہوچکا ہے حساس تقرریوں کو بھی متنازعہ بنادیا گیا ہے۔ انہوں نے کہاکہ اے پی سی نے سابق وزیراعظم نواز شریف اور سابق صدر آصف زرداری کی بیماری پر تشویش کا اظہار کیا اور حکومتی رویے کی مذمت کی۔ انہوں نے کہاکہ پی ٹی آئی فارن فنڈنگ کیس کی روزانہ کی بنیاد پر سماعت کرکے فیصلہ کرے۔ مولانا فضل الرحمن نے کہاکہ تین رکنی کمیٹی تشکیل دی گئی جو ممبران اور چیف الیکشن کمشنر کے ناموں کو حتمی شکل دے گئی کمیٹی میں جے یو آئی (ف) کے اکرم خان درانی، مسلم لیگ (ن) کے احسن اقبال اور پیپلز پارٹی کے نیئر بخاری شامل ہیں۔انہوں نے کہاکہ اجلاس میں پنجاب حکومت کی جانب سے بلدیاتی اداروں کی غیر جمہوری برطرفی کی مذمت اور انہیں بحالی کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے کہاکہ وزراء نے سی پیک کو متنازع بنانے پر بھی تشویش کا اظہار کیا اور سی پیک اتھارٹی پر بھی تشویش کا اظہار کیا۔ مولانا فضل الرحمن نے کہاکہ اے پی سی نے ناروے میں قرآن پاک کی بے حرمتی کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے،ناروے مسئلہ پر مزید سنجیدگی کا مظاہرہ کیا جائے۔ مولانا فضل الرحمن نے بلدیاتی اداروں کو فی الفور بحال کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہاکہ حکومتی وزراء نے اپنے بیانات سے سی پیک کو متنازعہ بنادیا ہے،سی پیک اتھارٹی از سرنو بنائی جائے۔اس موقع پر بلاول بھٹو زرداری نے کہاکہ سابق صدر زرداری کی صحت کافی عرصے سے ناساز ہے،حکومت بالکل ہمارے ساتھ تعاون نہیں کررہی ہے، ہم ذاتی معالج کی سابق صدر تک رسائی چاہتے ہیں،انہوں نے کہاکہ ہم کیسز کا مطالبہ کررہے ہیں، سابق صدر ضمانت کے لئے رجوع نہیں کررہے ہیں،امید ہے،جلد ہمارا کیس سپریم کورٹ کے سامنے لگے اور ہمیں انصاف ملے گا اور ہمارا کیس سندھ بھجوایا جائے گا۔بلاول بھٹو زرداری نے کہاکہ ہم سب متفق ہیں نہ اب سلیکٹڈ مانتے ہیں نہ آئندہ مانیں گے،اگر ہم سلیکٹڈ کو مانیں تو ہمارا احتساب کیا جائے۔ انہوں نے کہاکہ ہم نے پالیسی بیان میں بھی یہ بات کہہ دی ہے، ان ہاؤس تبدیلی ہو یا نئے انتخابات،ہم سلیکٹڈ کو نہیں مانیں گے۔ صحافی نے سوال کیا کہ آرمی چیف کی توسیع کے حامی ہیں یا مخالف۔مولانا فضل الرحمن نے جواب دیا کہ معاملہ عدالت میں ہے اس پر تبصرہ نہیں کر سکتے۔انہوں نے کہاکہ پہلے کہہ چکے ہیں سرکاری ملازم کی توسیع پر بات نہیں کرنا چاہتے۔احسن اقبال نے کہاکہ تمام جماعتیں عوام کے مستقبل کی خاطر نئے الیکشن کا مطالبہ کرتی ہیں،ملک کی سب سے حساس تقرری کا انہوں نے تماشا بنا دیا ہے۔ ایک سوال پر بلاول بھٹو زر داری نے کہاکہ 'پیپلز پارٹی الیکشن کے لیے تیار ہے،ہم سلیکٹڈ نہیں، عوامی وزیر اعظم لانا چاہتے ہیں اور چاہتے ہیں کہ ملک میں شفاف الیکشن ہوں۔مسلم لیگ (ن) کے رہنما احسن اقبال نے کہاکہ مہنگائی اور بیروزگاری میں دن بدن اضافہ ہورہا ہے اور پارلیمنٹ کو تالے لگا کر آرڈیننس سے کار سرکار چل رہی ہے جس کے باعث حکومت کو گھر بھیجنا ناگزیر ہوچکا ہے۔انہوں نے کہاکہ ہم سلیکٹڈ حکومت کو رخصت کرکے الیکٹڈ حکومت لائیں گے اور تمام جماعتیں عوام کے مستقبل کی خاطر نئے الیکشن کا مطالبہ کر رہی ہیں۔ایک سوال پر احسن اقبال نے کہا کہ ملک کی سب سے حساس تقرری کا تماشا بنادیا گیا ہے۔

اے پی سی

مزید : صفحہ اول