اسلام آباد ہائیکورٹ،وزیراعظم کیخلاف توہین عدالت کی درخواست خارج 

اسلام آباد ہائیکورٹ،وزیراعظم کیخلاف توہین عدالت کی درخواست خارج 

  



اسلام آباد(سٹاف رپورٹر)اسلام آباد ہائیکورٹ نے وزیراعظم عمران خان کے خلاف توہین عدالت کی درخواست خارج کردی۔چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے تحریری فیصلے میں کہا کہ عدالتوں کو تنقید کا خوف نہیں، عوام کا عدالتی نظام پر اعتماد ہی عدلیہ کی آزادی کی بنیاد ہے، عدالتیں نیک نیتی سے کی گئی تنقید کی حوصلہ شکنی نہیں کرتیں، شک کا فائدہ ہمیشہ عوام کے منتخب نمائندوں کے حق میں جاتا ہے۔منگل کو سابق آئی جی پولیس سلیم اللہ خان کی جانب سے وزیراعظم عمران خان کیخلاف توہین عدالت کی درخواست پر سماعت کے آغاز پر اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ نے درخواست گزار سے مکالمہ کیا کہ توہین عدالت فرد اور عدالت کے درمیان ہوتی ہے، اس پر درخواست گزار نے کہا کہ میں آفیسر آف دی کورٹ ہوں اور عدالت کو آگاہ کر رہا ہوں۔جسٹس اطہر من اللہ نے کہاکہ آپ نے توہین عدالت کا کل والا فیصلہ پڑھا ہے جس میں توہین عدالت کے حوالے سے اصول طے کردیے ہیں، پہلے آگاہی نہیں تھی، ابھی تو توہین عدالت کے حوالے سے آگاہی بھی ہو گئی ہے۔چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ نے درخواست گزار سے مکالمہ کیا کہ کیا آپ منتخب وزیراعظم کا ٹرائل کرانا چاہتے ہیں؟ کیا آپ اس کے نتائج سے آگاہ ہیں؟ کیا آپ وزیراعظم کو ڈس کوالیفائی کرانا چاہتے ہیں؟ وزیراعظم کی تقریر سے آپ کو کیا پریشانی ہے؟ درخواست گزار نے موقف اپنایا کہ وزیراعظم نے عدلیہ کی تضحیک کی، اس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ عدالتیں تنقید کو ویلکم کرتی ہیں۔ بعد ازاں عدالت نے درخواست خارج کردی اور کہا کہ عدالتیں تنقید سے نہیں ڈرتیں۔

توہین عدالت 

مزید : صفحہ اول