صدر ٹرمپ غداری یا رشوت کے مرتکب ہوئے یا نہیں؟کانگریس کمیٹی رپورٹ آئندہ ہفتے متوقع

صدر ٹرمپ غداری یا رشوت کے مرتکب ہوئے یا نہیں؟کانگریس کمیٹی رپورٹ آئندہ ہفتے ...

  



واشنگٹن (اظہر زمان، بیورو چیف) امریکی کانگری کی سپیکر نینسی پلوسی کے حکم پر صدر ٹرمپ کے مواخذے کی انکوائری کرنے والی کمیٹیوں میں سب سے اہم انٹیلی جنس کمیٹی ہے جس نے تمام شادتیں قلم بند کرلی ہیں۔ کمیٹی کے چیئرمین ایڈم شیف نیمنگل کی صبح ایک بیان میں بتایا ہے کہ سینکڑوں صفحات پر مشتمل جامع رپورٹ تیزی سے مرتب کی جارہی ہے۔ جو آئندہ ہفتے منظر عام پرآجائیگی۔ ان کے مطابق کمیٹی صاف الفاظ میں اپنا فیصلہ سنائیگی کہ آیا صدر ٹرمپ ”غداری، رشوت، یا بڑے جرائم اور غلط رویوں“ کے مرتکب پائے جاتے ہیں۔ صدر ٹرمپ کے مواخذے کی تحریک منظور ہوتی ہے یا نہیں، کانگریس کی انٹیلی جنس کمیٹی کا شہادتوں کے بعد فیصلہ اپنی جگہ بہت اہمیت کا حامل ہے جس کا وائٹ ہاؤس اور رائے عامہ پر گہرا اخلاقی اثر ہوگا۔ توقع ہے کہ کمیٹی اپنی رپورٹ میں یہ فیصلہ سنائے ی کہ صدرٹرمپ نییوکرین کو دی جانیوالی چار کروڑ ڈالر کی امداد کو ذاتی مفاد کیلئے استعمال کیا اور اس کے ذریعے یوکرین کے صدرپر دباؤ ڈالا کہ وہ ان کے صدارتی مخالف سابق نائب صدر جوبیڈن اور ان کے بیٹے ہنٹر بیڈن کو بدعنوانی کے مقدمے میں ملوث کرنیکیلئے  اپنا اثرو رسوخ استعمال کریں۔ انٹیلی جنس کمیٹی اپنی رپورٹ جوڈیشری کمیٹی کو بھیجے گی جو دسمبر میں اپنی سماعت شروع کرے گی۔ یہ کمیٹی متوقع طور پر کرسمس کی چھٹیوں سے پہلے کارروائی مکمل کرکے مکمل ایوان میں تحریک پر ووٹ کیلئے بھیجے گی۔ آخی مرحلے پر آئندہ سال کے شروع میں ایوان نمائندگان کی سفارش پر صدرٹرمپ کے خلاف مواخذے کا مقدمہ چلے گا۔ اس وقت سینیٹ میں حکمران ری پبلکن پارٹی کو چند ووٹوں کی اکثریت حاصل ہے۔ تمام ڈیمو کریٹک ارکان صدرٹرمپ کے خلاف ووٹ دینے کے لئے تلے ہوئے ہیں چونکہ کانگریس میں پاٹری لائن کے مطابق ووٹ دینے کی پابندی نہیں ہے اس لئے ڈرامائی طور پر چند ایک ری پبلکن سینیٹرز نے صدر کے خلاف رائے کا اظہار کردیا تو اس مقدمے میں تحریک کامیاب ہونے کے بعد صدر ٹرمپ اپنے عہدے سے فارغ  بھی ہوسکتے ہیں۔

اظہر زمان

مزید : صفحہ اول