او آئی سی فورم سے اسلام کا حقیقی چہرہ دنیا کے سامنے پیش کرنا ہوگا:فردوس عاشق

او آئی سی فورم سے اسلام کا حقیقی چہرہ دنیا کے سامنے پیش کرنا ہوگا:فردوس عاشق

  



جدہ(محمد اکرم اسد)وزیر اعظم کے معاون خصوصی برائے اطلاعات و نشریات فردوس عاشق اعوان نے کہا ہے کہ اسلام کا حقیقی چہرہ سامنے لا کر اسلام کیخلاف منفی پروپیگنڈے کو شکست دی جا سکتی ہے، موجودہ حالات میں مسلم امہ کو اتحاد کی اشد ضرورت ہے، پاکستان او آئی سی کیساتھ ہر قسم کے تعاون اور سہولت کاری کیلئے تیار ہے، وزیراعظم چاہتے ہیں او آئی سی کے ذریعے ریاست مدینہ کا حقیقی تصور دنیا کے سامنے لایا جائے۔معاون خصوصی اطلاعات ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے یہاں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے گولڈن جوبلی تقریب کے دوران اوآئی سی کے سیکرٹری جنرل سے ملاقات  میں انہیں وزیراعظم عمران خان کی جانب سے نیک تمناؤں کا اظہار اورخصوصی پیغام بھی پہنچایا۔میڈیا سے گفتگو میں ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے کہاکہ او آئی سی کی گولڈن جوبلی تقریبات پر مبارکباد پیش کرتی ہوں،او آئی سی کا فورم مسلم امہ کو آپس میں جوڑنے کا پلیٹ فارم ہے۔معاون خصوصی نے کہاکہ پاکستان او آئی سی کے بانی ملکوں میں شامل ہے۔ انہوں نے کہاکہ پاکستان نے رکن ملکوں میں سماجی، ثقافتی ومذہبی اقدار کی مضبوطی  میں اپنا کردار ادا کیا۔ انہوں نے کہاکہ پاکستان نے ہمیشہ مسلم امہ کو درپیش مسائل کے حل کی بات کی۔انہوں نے کہاکہ پاکستان او آئی سی کی موثر آواز کے طور پر کردار ادا کرتا رہا ہے۔انہوں نے کہاکہ پاکستان نے مسلم امہ کی یکجہتی اور مسائل کے حل کیلئے پل کا کردار اداکیا۔انہوں نے کہاکہ موجودہ حالات میں مسلم امہ کو اتحاد کی اشد ضرورت ہے۔انہوں نے کہاکہ مسلم امہ کو درپیش چیلنجز  سے نمٹنے کیلئے مشترکہ موقف سامنے آنا ضروری ہے۔انہوں نے کہاکہ وزیراعظم عمران خان مسلم امہ کے فعال اور اہم ممبر کے طور پر سامنے آئے ہیں۔انہوں نے کہاکہ پی ٹی آئی کور کمیٹی نے ناروے میں پیش آنیوالے واقعہ کی شدید مذمت کی۔انہوں نے کہاکہ قرآن پاک کی بے حرمتی پر ناروے کے سفیر کو طلب کیا گیا۔انہوں نے کہاکہ ایسے واقعات دنیا بھر کے مسلمانوں کی دل آزاری کا سبب بنتے ہیں۔انہوں نے کہاکہ او آئی سی کے فورم سے اسلام کا حقیقی چہرہ دنیا کے سامنے پیش کرنا چاہیے۔انہوں نے کہاکہ وزیراعظم عمران خان نے سیکرٹری جنرل او آئی سی کیلئے نیک تمناؤں کا اظہا رکیا۔انہوں نے کہاکہ او آئی سی کے رکن ملک مظلوم کشمیریوں کی آواز کو سنیں۔انہوں نے کہاکہ مظلوم کشمیریوں سے اظہار یکجہتی پر سیکرٹری جنرل او آئی سی کا شکریہ ادا کیا ہے۔معاون خصوصی  نے کہاکہ او آئی سی مظلوم کشمیریوں کے حقوق کی ترجمانی کرے۔ انہوں نے کہاکہ کشمیریوں کے حق خود ارادیت کیلئے او آ ئی سی بھارت پر دباؤ بڑھائے۔معاون خصوصی نے کہاکہ بھارت نے کشمیریوں کو بنیادی حقوق سے محروم کر دیا ہے۔فردوس عاشق اعوان  نے کہاکہ بھارت نے مقبوضہ کشمیر کو دنیا کی سب سے بڑی جیل میں تبدیل کر دیا ہے۔ انہوں نے کہاکہ بابری مسجد کے فیصلے سے سیکولر بھارت کا چہرہ بے نقاب ہوا ہے۔فردوس عاشق اعوان نے کہاکہ پاکستان او آئی سی کیساتھ ہر قسم کے تعاون اور سہولت کاری کیلئے تیار ہے۔ انہوں نے کہاکہ وزیراعظم عمران خان اسلام کا حقیقی اور روشن چہرہ متعارف کرانے کیلئے پر عزم ہیں۔پاکستانی کمیونٹی سے گفتگو کرتے ہوئے ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے کہا ہے کہ موجودہ حکومت کو تاریخ کے بدترین مالیاتی خسارے کا سامنا کرنا پڑا،پاکستان میں پچھلے 72 برسوں سے صرف اپنے اقتدار کو قائم رکھنے کیلئے کوئی ریفارمز نہیں کی گئی۔انہوں نے کہا کہ او آئی سی بہت اہم فورم ہے،پاکستان او آئی سی کا فاؤنڈر ممبر ہے جبکہ پانچ براعظموں میں بسنے والے مسلمان اس فورم سے کیا توقعات رکھتے ہیں؟۔انہوں نے کہا کہ ہمارے لیے لمحہ فکریہ ہے کہ دنیا اسلام کے حوالے سے کس طرح سوچ رہی ہے،تاریخ کے اوراق میں ہر ملک اور ان کی لیڈر شپ کا کردار لکھا جا رہا ہے۔ پاکستان قونصلیٹ جنرل میں صحافیوں اور پی ٹی آئی رہنماؤں سے گفتگو کرتے ہوئے داکٹر فردوس عاشق اعوان نے کہا کہ سعودی عرب کے ساتھ ہمارے برادرانہ تعلقات ہیں اور ہماریبیس بلین سے زائد کے پروجیکٹ سعودی حکومت کے ساتھ چل رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ہم بابری مسجد جیسے مقدس مقامات کے تحفظ کیلیے دنیا کو جھنجھوڑتے اور بھارت کا انتہا پسندانہ چہرہ دنیا کو دکھاتے رہیں گے۔انہوں نے کہا کہ سعودی عرب کی ترقی میں پاکستانی کمیونٹی کا بھی بہت بڑا کردار ہے،اوورسیز کے دل ملک سے باہر رہنے کے باوجود پاکستان کے لیے دھڑکتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ سعودی عرب  نیمشکل کی گھڑی میں  پاکستان کے معاشی حالات بہتر کرنے کے لیے جو کردار ادا کیا ہے اس پر ہم ان کے شکر گزار ہیں۔انہوں نے کہا کہنیا پاکستان بنانے میں اوورسیز کا بہت اہم کردار ہے،ہماری دلی خواہش ہے کہ ادارے مضبوط ہوں اور ہم مزید ترقی کریں۔ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے کہا کہ پاکستان میں پیاز ٹماٹر انڈیا سے آ رہا تھا جب ہم نے پلوامہ واقعے کے بعد تجارت بند کی تو مارکیٹ میں کمی ہوگئی۔ ہم ملک کو سائنسی طریقے سے  ترقی کی طرف لے کر جا رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ہر حال میں سبز پاسپورٹ کی عزت بحال کرنی ہے۔

فردوس عاشق اعوان

مزید : صفحہ اول