تحریک انصاف کے جماعتیا ور حکومتی ترجمانوں کے تواتر سے اجلاس جاری ہیں

تحریک انصاف کے جماعتیا ور حکومتی ترجمانوں کے تواتر سے اجلاس جاری ہیں

  



 وزیر اعظم عمران خان کی ہفتہ وار مصروفیات میں سے کابینہ اجلاس کے بعد اگر کوئی اہم ترین سرگرمی ہے تو وہ حکومتی ترجمانوں کا اجلاس ہے۔ پاکستان تحریک انصاف کی حکومت میں حکومتی ترجمانوں کی بھرمار ہے حکومتی ترجمانوں کی اس قدر تعداد و دیکھ کر اندازہ ہوتا ہے کہ موجودہ حکومت میڈیا کو بہت زیادہ اہمیت دیتی ہے حکومتی حلقوں کا خیال ہے کہ حکومت جو کارہائے نمایاں سر انجام دے رہی ہے انہیں اجاگر کرنے کے لئے حکومتی ترجمانوں کا کردار نہایت اہم ہے۔ اگرچہ حکومتی ترجمان بھی نہایت چوکس انداز میں حکومت کے دفاع میں کوئی کسر باقی نہیں چھوڑتے اور نہ ہی حکومتی امیج کو بلند کرنے کا کوئی موقع ہاتھ سے گنواتے ہیں لیکن حکومت یا حکومتی ترجمانوں کی سرگرمی میں کوئی ایسا خلا ہے کہ دارالحکومت میں پاکستان تحریک انصاف کی حکومت اپنی حکمرانی کا جادو عوام میں جگا نہیں پا رہی۔ دارالحکومت میں حکومت کے لئے اس وقت سب سے بڑا مسئلہ یہی نظر آ رہا ہے۔ دلچسپ امر یہ ہے کہ حکومتی ترجمان جب بھی وزیر اعظم عمران خان کی سربراہی میں اجلاس برپا کرنے کے بعد حکومتی امیج کی بلندی کے لئے میڈیا پر آتے ہیں تو بہت دفعہ یہی گمان ہوتا ہے کہ ملک میں حکومتی امور کے معاملہ میں کنفیوژن بڑھ گئی ہے۔ سابق وزیر اعظم میاں محمد نوازشریف کی علالت اور ان کی علاج کی غرض سے بیرون ملک روانگی تک کے تمام واقعات کے تسلسل میں کنفیوژن کم ہونے کے بجائے بڑھتی ہوئی ہی نظر آئی ہے۔ وزیر اعظم عمران خان کی پارٹی کی حکومت ہے۔ اس حکومت کے قائم کردہ میڈیکل بورڈ نے نوازشریف کی علالت کے حوالے سے اپنی رپورٹ وزیر اعظم عمران کو پیش کی لیکن وزیر اعظم عمران خان اپنی حکومت کی جانب سے کئے جانے والے اس سارے عمل پر سوالات اٹھا رہے ہیں اور تحفظات کا اظہار کر رہے ہیں۔ وفاقی دارالحکومت میں سوالات اٹھ رہے ہیں کہ کیا وزیر اعظم عمران خان کا حکومتی کنٹرول اس قدر کمزور ہے کہ انہیں اصل حقائق سے بے خبر رکھا گیا؟ یا وزیر اعظم عمران خان سے بالا بالا ہی یہ سب کچھ ہو گیا یا پھر وزیر اعظم عمران خان نے نوازشریف کو بیرون ملک بھجوا تو دیا لیکن اب پاکستان تحریک انصاف کو اپنے اس فیصلہ کے نتیجہ میں پہنچنے والے سیاسی نقصان سے بچانے کے لئے یہ تگ و دو کی جا رہی ہے؟ یعنی ایسا لگتا ہے کہ وزیر اعظم عمران خان نوازشریف کو باہر بھجوانے کے اپنے فیصلہ کی سیاسی قیمت چکانے کے لئے آمادہ نہیں ہیں اس لئے انہوں نے عدلیہ کے حوالے سے بھی بعض ایسے بیانات دیئے جنہیں بعض حلقے متنازعہ قرار دے رہے ہیں۔ اس حوالے سے بعض درخواستیں بھی سامنے آ رہی ہیں جس کی وجہ سے وزیر اعظم عمران خان کو توہین عدالت کی کارروائی کا سامنا ہے کہ وزیر اعظم عمران خان کو اس حوالے سے آنے والے دنوں میں دباؤ کا سامنا کرنا پڑے گا۔ اپوزیشن جماعتوں پر مشتمل رہبر کمیٹی کے اس ضمن میں فیصلے بھی دور رس اور غیر معمولی نتائج کے حامل ہوں گے۔ جبکہ الیکشن کمیشن میں فارن فنڈنگ کیس میں بھی پاکستان تحریک انصاف کی حکومت مشکلات کا شکار نظر آ رہی ہے تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ اس کیس میں کچھ نہ کچھ دال میں کالا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف اس کیس سے مسلسل پہلو تہی کرنے کی کوشش کرتی چلی آ رہی ہے۔ لیکن لگتا ہے کہ اب جس رفتار سے الیکشن کمیشن اس کیس کو چلا رہا ہے فارن فنڈنگ کا اونٹ جلد ہی کسی کروٹ بیٹھ جائے گا۔

وزیر اعظم عمران خان پاکستان تحریک انصاف کے سیاسی مستقبل کے حوالے سے اس اہم ترین کیس پر ممتاز قانون دان بابر اعوان سے خصوصی مشاورت کر رہے ہیں۔ دلچسپ امر یہ ہے کہ پاکستان تحریک انصاف کی حکومت اس کیس کے حوالے سے مسلسل الیکشن کمیشن پر دباؤ بڑھانے کی غرض سے تنقید کر رہی ہے۔ بالخصوص چیف الیکشن کمیشن کو دباؤ میں لانے کی کوششیں نظر آ رہی ہیں۔ کیونکہ چیف الیکشن کمشنر نے اپوزیشن نمائندوں کے ساتھ ملاقات میں یہ وعدہ کیا تھا کہ اس کیس کو روزانہ کی بنیاد پر چلایا جائے گا بعض تجزیہ نگاروں کا دعویٰ ہے کہ فارن فنڈنگ کیس کا فیصلہ جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمن کے بلند و بانگ دعووں اور خوابوں کی تعبیر بن سکتا ہے۔

پاکستان تحریک انصاف کی حکومت کو معیشت کی سست روی اور کمزور طرز حکمرانی پر بھی شدید تنقید کا سامنا نظر آ رہا ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ وزیر اعظم عمران خان اس تنقید کے اثر کو زائل کرنے کی غرض سے پنجاب اور وفاقی کابینہ میں بعض اہم تبدیلیوں کے خواہش مند ہیں۔ اس تناظر میں وزیر اعلیٰ پنجاب عثمان بزدار وزیر اعظم عمران خان سے بار بار ملاقاتیں کر رہے ہیں۔ پنجاب میں اہم ترین تبدیلی کی خواہش پی ٹی آئی کے اپنے حلقوں میں بھی شدید ہوتی نظر آ رہی ہے۔ تاہم پنجاب میں کسی اہم ترین تبدیلی کے لئے چودھری برادران کا کردار بھی نہایت اہم ہے۔ وزیر اعظم عمران خان کے لئے ممکن نہیں کہ وہ چودھری برادران کے کردار کو نظر انداز کریں۔ وزیر اعظم عمران خان در حقیقت پنجاب میں کسی اہم ترین تبدیلی کے لئے اس حقیقت کو بھی نظر انداز نہیں کر سکتے کہ پنجاب میں کوئی ایسی قیادت آ جائے جو کسی وقت خود وزیر اعظم عمران خان کو سیاسی طور پر چیلنج کر سکے۔ ماضی میں منظور وٹو کی شکل میں ایسی مثالیں موجود ہیں۔ وزیر اعلیٰ پنجاب عثمان بزدار کی طرز حکمرانی سے زیادہ وزیر اعظم عمران خان کے لئے یہ اہم نظر آتا ہے کہ وہ ان کے انتہائی قابل بھروسہ ساتھی ہیں اور ان کے لئے کبھی سیاسی خطرہ نہیں بن سکتے۔ وفاقی کابینہ میں معمولی سی تبدیلی ہوئی ہے۔ اس کے پیچھے پاکستان کے دیرینہ دوست چین کا فیڈبیک تھا کیونکہ موجودہ حکومت کی سی پیک کے حوالے سے پالیسی ریاست کے مفادات کے تابع نہیں سمجھی جا رہی تھی۔ اس حوالے سے چین کے بھی تحفظات تھے اور چین کی جانب سے بھی سی پیک پر گومگو کی پالیسی نظر آ رہی تھی لیکن اب وزیر اعظم عمران خان بھی سی پیک کی گیم چینجر کے طور پر افادیت کے قائل ہو گئے ہیں لیکن وزیر اعظم عمران خان کو اس حقیقت تک پہنچنے میں ڈیڑھ سال کا عرصہ لگا۔ شاید اسی بنا پر سی پیک کے منصوبہ کی اونر شپ سیاسی حکومت کے بجائے سی پیک اتھارٹی کے سپرد کر دی گئی ہے جس کے سربراہ جنرل(ر) عاصم باجوہ کو لگایا گیا ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ اب سی پیک کے دوسرے مرحلہ کی رفتار کو بڑھانے کی غرض سے سی پیک اتھارٹی کو ریاستی کنٹرول میں دے دیا گیا ہے تاکہ یہ عظیم الشان منصوبہ کسی سیاست کی بھینٹ نہ چڑھ سکے۔ دریں اثناء امریکی نائب وزیر خارجہ ایلس ویلز کے سی پیک والے بیان سے اس خطے میں امریکی عزائم کھل کر سامنے آئے ہیں۔ ایسا لگتا ہے کہ امریکہ ہر قیمت پر سی پیک اور چین کا اس خطے میں راستہ روکنا چاہتا ہے جس کے بعد چین بھی سی پیک کی حمایت میں خم ٹھونک کر میدان میں آ گیا ہے۔ پاکستان میں چینی سفیر نے دو ٹوک انداز میں سی پیک کو جاری رکھنے کے عزم صمیم کا اظہار کیا ہے جس پر بالآخر پاکستانی وزراء کو بھی سی پیک کے حق میں بیانات دینے پڑے اپوزیشن رہنما میاں محمد شہباز شریف نے لندن سے سی پیک کے حق میں زور دار بیان دیا۔ پاکستان کی بنتی بگڑتی داخلی معاشی و سیاسی صورتحال اور خطے میں عالمی طاقتوں کی بڑھتی ہوئی تذویراتی کش مکش کے تناظر میں پاک فوج میں نومبر میں متوقع اہم تبدیلیوں کا عمل بھی جاری ہے وزیر اعظم عمران خان نے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کی مشاورت سے جوائنٹ چیف آف جنرل سٹاف کے اہم ترین عہدہ پر لیفٹینٹ جنرل ندیم رضا کو تعینات کر دیا ہے اس تعیناتی سے پاکستانی فوج کے پیشہ وارانہ کردار کے حوالے سے مثبت پیغام گیا ہے تاہم آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کی توسیع کا معاملہ سپریم کورٹ کی جانب سے از خود نوٹس پر التوا کا شکار ہو گیا ہے۔ یہ از خود نوٹس چیف جسٹس آف پاکستان آصف سعید کھوسہ کی جانب سے لیا گیا انہوں نے اپنی ریٹائرمنٹ سے تھوڑا عرصہ ہی قبل اپنی مدت میں یہ پہلا از خود نوٹس لیا ہے جو کہ ایک غیر معمولی بات سمجھی جا رہی ہے۔ پاک فوج کے سپہ سالار اور پاکستان میں طاقت کی مثلث کے سب سے اہم ترین عہدہ کی مدت ملازمت میں توسیع کے نوٹیفیکشن پر سپریم کورٹ کا از خود نوٹس پاکستان کے سیاسی اور حکومتی معاملات پر دور رس نتائج مرتب کر سکتا ہے جبکہ پاکستان کو اس وقت داخلی اور خارجی سطح پر؟؟؟ چیلنجز کا سامنا ہے۔ پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرپرسن بلاول بھٹو زرداری خود اے۔ پی۔ سی میں شریک ہوئے۔ پاکستان پیپلزپارٹی سابق صدر آصف علی زرداری کی اسیری اور ان کے ساتھ روا رکھنے والے سلوک پر سخت نالاں ہے ایسا لگتا ہے کہ پاکستان کی داخلی سیاست اس وقت پھر ایک چوراہے پر کھڑی ہے۔

مزید : ایڈیشن 1