تبدیلیوں کے جھکڑ،کِنے کِنے جاناں اے؟

تبدیلیوں کے جھکڑ،کِنے کِنے جاناں اے؟

  



لاہور سے چودھری خادم حسین

گزشتہ ہفتے کے دوران فیصل چوک لاہور میں دلچسپ صورت حال پیدا ہوئی جب تاجروں کے صدر نعیم میر کی قیادت میں مال روڈ کے دوکان داروں کے ایک جھتے نے آ کر چوک کے سبزہ زار میں لگے شامیانے اور کیمپ اکھاڑنا شروع کر دیئے اور سڑک پر بیٹھے ہڑتالی ملازمین دیکھتے رہ گئے اور پھر چند لمحوں ہی میں یہ علاقہ خالی ہو گیا اور لینڈ ریکارڈ کے ہڑتالی ملازمین نے اپنا سامان سمیٹنا شروع کر دیا، تاجروں کے مطابق عدالت عالیہ کے حکم کے باوجود انتظامیہ چوک میں احتجاجی مظاہروں اور دھرنا دینے والوں کو روک نہیں سکی۔ اس صورت حال نے مال روڈ کے تاجروں کا کاروبار تباہ کر دیا اور کروڑوں روپے کا نقصان ہو چکا ہے، جبکہ مرکزی سڑک بند ہونے کی وجہ سے ٹریفک کا نظام بھی درہم برہم رہتا ہے اور عوام کو شدید پریشانی ہوتی ہے۔

یہ درست ہے کہ عدالت عالیہ لاہور نے درخواستوں کی سماعت کے بعد ایک سے زیادہ مرتبہ ہدایت کی کہ فیصل چوک میں احتجاجی مظاہرے اور دھرنے روکے جائیں لیکن ضلعی انتظامیہ اس میں ناکام ہے کہ سامنے پنجاب اسمبلی ہونے کے باعث مظاہرین سیدھے یہیں آتے ہیں۔ یہ روائت یوں بھی پرانی ہے۔ جب سمٹ مینار بھی نہیں تھا اور یہاں برگد کے بڑے درخت تھے جن کی چھاؤں تلے دور دراز سے سائل آ کر بیٹھتے تھے اور اراکین اسمبلی سے ملاقاتیں کرتے تھے، اب فیصل چوک مرکز بن گیا کہ سکیورٹی کے حوالے سے اسمبلی کے سامنے جانے کی اجازت نہیں اور رکاوٹیں کھڑی کی گئی ہوئی ہیں چنانچہ اسی مرکز پر مظاہرے بھی ہوتے اور دھرنے بھی دیئے جاتے ہیں، محکمہ لینڈ ریکارڈ کے ملازمین بھی ہڑتال کر کے یہیں آ گئے اور دھرنا دیا جو کئی روز چلا اور وہی مسائل در پیش ہوئے جو پہلے تھے۔ سرکار نے ہڑتالی ملازمین سے بات کرنا مناسب نہ جانا، چنانچہ خود تاجروں نے ایکشن کر ڈالا، اگرچہ ہڑتالی ملازمین کے مطابق اسی روز سے دھرنا ختم کرنے کا فیصلہ ہو چکا ہوا تھا۔

سابق وزیر اعظم محمد نوازشریف کی علاج کے لئے لندن روانگی کے بعد شہر میں کوئی اہم واقع نہیں ہوا، ماسوا تقریبات کے جوہر موسم میں جاری رہتی ہیں۔ایک ایسی ہی تقریب پاکستان فرنیچرز ایسوسی ایشن کی طرف سے ایکسپو سنٹر میں نمائش تھی۔ وزیراعظم کے مشیر تجارت رزاق داؤد افتتاح کے لئے آئے اور انہوں نے یہ رسم ادا کی ان کے ساتھ ایسوسی ایشن کے چیئرمین کاشف اشفاق بھی تھے، اس موقع پر مشیر تجارت نے میڈیا سے بات کی اور کئی اچھی امیدیں دلائیں تاہم مہنگائی کے حوالے سے ان کو تسلیم کرنا پڑا کہ یہ غیر معمولی ہے، تاہم ساتھ ہی انہوں نے یہ کہہ کر مایوس کیا کہ فوری طور پر اس کا سدباب ممکن نہیں، البتہ اگلے چند روز میں نرخ نیچے آئیں گے کہ سندھ کی سبزیاں مارکیٹ میں آنے والی ہیں انہوں نے بھی لوگوں کو برداشت ہی کا مشورہ دیا کہ معاشی حالت سنبھل رہی ہے۔ جلد ہی یہ مسائل حل ہو جائیں گے۔

سابق وزیر اعظم محمد نوازشریف لندن پہنچ چکے اور ان کے مختلف نوعیت کے طبی معائنے اور ٹیسٹ جاری ہیں تاکہ پلیٹ لیٹس کم زیادہ ہونے کی وجوہ کا پتہ چلایا جا سکے۔ ان کی صاحبزادی مریم نواز پیچھے رہ گئیں کہ ان کا پاسپورٹ عدالت میں جمع ہے، والد کی غیر موجودگی کے باعث وہ سیاست میں سرگرم نہیں ہوئیں کہ علیل ہیں اب کہا جا رہا ہے کہ وہ پاسپورٹ کے حصول کے لئے عدالت ہی سے رجوع کریں گی۔ تاکہ وہ (مریم) والد کی عیادت اور تیمار داری کے لئے لندن جا سکیں۔

شریف فیملی کا سارا فوکس سابق وزیر اعظم نوازشریف پر ہے جو لندن میں زیر علاج ہیں محمد شہباز شریف بھی بھائی کے ساتھ ہی لندن گئے اور اپنا بھی چیک اپ کرا رہے ہیں۔ یہاں قیاس آرائیاں جاری ہیں۔ یہ چلتا رہے گا تب تک ان کی رپورٹ کے بعد علاج شروع نہیں ہو جاتا۔

ادھر اسلام آباد سے گرم گرم خبریں آ رہی ہیں۔وزیراعلیٰ عثمان بزدار کی وزیراعظم عمران خان سے یکے بعد دیگرے دو ملاقاتیں ہوئیں۔ان میں پنجاب میں گورننس کے حوالے سے تبادلہ خیال ہوا۔وزیراعلیٰ نے اپنے مسائل بتائے۔فیصلہ ہو گیا کہ کام نہ کرنے اور اچھا نتیجہ نہ دینے والے وزیر یا افسر تبدیل کئے جائیں،امکان ہے کہ آئی جی سمیت بڑے بیورو کریٹ تبدیل ہوں گے۔

مزید : ایڈیشن 1