وزیراعظم اور مشیروں کی لفظی جنگ،خود ان کے لئے نقصان دہ!

وزیراعظم اور مشیروں کی لفظی جنگ،خود ان کے لئے نقصان دہ!

  



ملتان کی سیاسی ڈائری

شوکت اشفاق

تحریک انصاف کی حکومت کو چاہیے تو یہ تھا کہ الزام تراشی کی سیاست پر تمام تر توجہ مذکو ر کرنے کی بجائے عوام کی مشکلات کو حل کرنے کیلئے اقتصادی ترقی کیلئے کام کرتی نظر آئے مگر کیا کہیے کہ وزیراعظم عمران خان خود تو خود ان کے وزراء اور مشیران نے لفظوں کی جو جنگ شروع کررکھی ہے وہ تھمنے کا نام ہی نہیں لے رہی آئے دن کوئی نہ کوئی وزیر یا مشیر کوئی ایسا بیان داغ دیتا ہے کہ ایک طرف وہ عوامی غصب کا شکار بنتا ہے تو دوسری طرف عدالتوں میں غیر مشروط معافی مانگتا نظر آتا ہے مسلم لیگ (ن) کے عدالت سے نااہل، سزا پانے والے رہنما میاں نواز شریف کی علاج کے غرض سے بیرون ملک روانگی کو اگر عدالت کے رحم وکرم پر چھوڑ دیا جاتا تو اقتدار والوں کی جملہ ساکھ باقی رہ سکتی تھی مگر بھلا ہو ان ایڈوائزر کا جنہوں نے اس بات کو سیاسی طور پر لینے کی بجائے خالصتاً ذاتی مسئلہ بنالیا اور ابھی تک ہائے ہائے کِل کِل جاری ہے حالانکہ انہیں معلوم ہونا چاہیے کہ میاں نواز شریف جب جیل میں تھے اسی حکومت کے وزراء اور سرکاری ڈاکٹروں نے انہیں سیریس بیمار قرار دیا تھا اور برطانیہ میں علاج کی سفارش کی تھی جس میں صوبائی وزیر صحت ڈاکٹر یاسمین راشد بھی شامل تھیں جو بذات خود ایک منجھی ہوئی ڈاکٹر ہیں اور بقول وزیراعظم کے تمام رپورٹس غلط تھیں تو پھر بیمار کے خلاف بیان بازی سے افضل یہ ہے کہ وہ اپنی وزیر اور ڈاکٹروں کے خلاف کارروائی کریں تاکہ عوام کو بھی تسلی ہوسکے کہ یہ سب کچھ غلط ہوا تھا اگر کارروائی نہیں کرتے تو پھر وہی ہوا ہوگا جو وزیراعظم عمران خان کہہ رہے ہیں اور اگر یہ درست ہے تو پھر سیاسی حلقوں میں ہل چل مچانے والی یہ خبر بھی خطرے سے خالی نہیں ہے جس کا تذکرہ مولانا فضل الرحمن اور چوہدری پرویز الٰہی بھی کرچکے ہیں کہ اسمبلیاں نہیں توڑی جائیں گی بلکہ ماضی کی طرح ایوان کے اندر سے تبدیلی لائی جائے گی۔ جس کا آغاز پنجاب سے ہوگا اس کے خدوخال کیا ہوں گے اس پر بھی سیاسی لوگ شاید متفق ہوچکے ہیں اب عمل درآمد کب ہوتا ہے اس کیلئے بھلے وقت کا انتظار کرنا ہو گا۔

ادھر جماعت اسلامی کے امیر سراج الحق نے بھی ملک میں بڑھتی ہوئی مہنگائی اور سیاسی بے چینی کو حکومت کی نااہلی قرار دیا ہے اور مطالبہ کیا ہے کہ قوم کو مزید ٹرک کی بتی کے پیچھے لگانے سے گریز کیا جائے۔آئین میں قبل از وقت انتخابات کا آپشن موجود ہے اسے استعمال کرلیا جائے کیونکہ موجودہ حکومت پولیو زدہ ہو چکی ہے ترقی کا پہیہ الٹا گھوم رہا ہے یہ سفارتی ناکامی ہے کہ بھارت کشمیر ہڑپ کرنے میں مصروف ہے انہوں نے میاں نواز شریف کی علاج کیلئے روانگی پر واضح کہا کہ حکومت اجازت دے چکی تھی لیکن ڈرامہ چاہتی تھی یہ خالی کھوپڑی والے ہیں اور انہوں نے 15ماہ میں 115 یوٹرن لئے ہیں اگر حکمرانوں نے خاموشی نہ توڑی، یوٹرن لینے بند اور عوام کو مہنگائی سے بچانے کیلئے اقدامات نہ کئے تو وہ وقت دور نہیں جب موجودہ وزیراعظم بھی یہ کہتے پھریں گے کہ ”مجھے کیوں نکالا“انہوں نے موجودہ حکمرانوں کا مستقبل جیل قرار دیا لیکن دوسری طر ف وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی نے برملا کہا کہ حکومت اپنی آئینی مدت پوری کرے گی سی پیک خطے میں تبدیلی کی علامت، جس سے ملک مضبوط معاشی اور ترقی کی راہ پر گامزن ہوگا اس وقت بھی زرمبادلہ کے ذخائر میں اضافہ اور خسارے میں کمی واقع ہورہی ہے دیگر اقتصادی اعشاریوں میں بھی مثبت رحجان ہماری معاشی بہتری کو ظاہر کررہا ہے جو عام آدمی کے فائدہ کے لئے ہے۔انہوں نے ملکی معیشت کو حکومت کی گرفت قرار دیا اور دعویٰ کیا کہ بین الاقوامی ادارے ملک کی اقتصادی صورتحال میں بہتری کی نوید سنارہے ہیں جو ہماری معاشی سفارت کاری کا نتیجہ ہیں۔انہوں نے بیک ڈور منصوبے کی تکمیل پر اطمینان کا اظہار کیا اور ملک میں نئے اقتصادی زونز قائم کرنے کی نوید بھی سنائی اور یہ بھی کہا کہ تحریک انصاف کی حکومت حقیقی تبدیلی چاہتی ہے اقتدار کی کرسی پر ڈٹے رہنا ہماری منزل نہیں ہے، وزیر خارجہ نے ملتان کی ترقی کے لئے عنقریب ایک بڑے پیکیج کی خوشخبری بھی سنائی ہے۔ اب یہ خوشخبریاں کب حقیقت بنتی ہیں یہ تو آنے والا وقت ہی بتائے گا۔

کشمیر پر پارلیمانی کمیٹی کے چیئرمین سید فخر امام شاہ نے دعویٰ کیا ہے کہ 17برس کے بعد عالمی برادری نے مقبوضہ کشمیر میں پاکستان کے موقف کو اپنانا شروع کر دیا ہے پہلے بھارت نے 5اگست کو مقبوضہ کشمیر کی مصنوعی حیثیت ختم کی اس کے بعد مسئلہ کشمیر کو نئی روح مل گئی ہے اور اب امید ہے کہ عالمی برادری بتدریج بھارت پر مسئلہ کشمیر کا تنازع حل کرنے کیلئے دباؤ ڈالے گی اس وقت بھی موجودہ امریکی نمائندگان کانگریس، امریکی انتظامیہ پر شدید دباؤ ڈال رہے ہیں جو بہت اہم ہے انہوں نے مقبوضہ کشمیر میں قابض بھارتی فوجوں کے مظالم کا بھی ذکر کیا اور بتایا کہ آرٹیکل 370 کے خاتمے کے بعد سے بھارتی فورسز نے مقبوضہ کشمیر میں 12سے 13ہزار نوجوانوں کو حراست میں لے لیا ہے جو ظلم کی الگ داستان ہے ادھر گیس کی لوڈشیڈنگ کی وجہ سے لکڑی کوئلہ اور ایل پی جی قیمتوں اور بجلی کے بلوں میں ٹیکسوں کی بھر مار نے غریب کا جینا دو بھر کردیا ہے آئے روز عوام میپکو کے خلاف مظاہرے کر رہے ہیں لیکن حکام ہیں کہ اس پر کان دھرنے کی تیارہی نہیں ہے مہنگائی کے بارے عوام معلوم نہیں اب کیا کریں گے، کیونکہ ان کو پرسان حال نظر نہیں آرہا ہے۔

مزید : ایڈیشن 1