انتظامی کمزوریاں دور کرنے، محکمانہ کارکردگی بڑھانے کی ضرورت

انتظامی کمزوریاں دور کرنے، محکمانہ کارکردگی بڑھانے کی ضرورت

  



وزیر اعظم عمران خان نے پنجاب کے ساتھ ساتھ خیبرپختونخوا میں بھی انتظامی و سیاسی کمزوریوں پر تنقید کرتے ہوئے تبدیلیوں کا اشارہ دیا ہے اور کہا ہے کہ اب وہ بچے گا جس کی کارکردگی اچھی ہو گی، وہ قبل ازیں صوبائی اسمبلی کی کارکردگی پر بھی سوال اٹھا چکے ہیں، ویسے تو وزیر اعلیٰ خیبر محمود خان اپنے تئیں معاملات درست کرنے کے لئے دن رات ایک کئے ہوئے ہیں لیکن بعض اطراف سے سرکاری محکموں کی کارکردگی پر تنقید اور الزامات کی بوچھاڑ ہوتی آ رہی ہے جس کی بازگشت وزیر اعظم تک بھی پہنچی اور انہوں نے معاملات کی فوری درستگی کے احکامات صادر کر دیئے۔اس امر میں کوئی شبہ نہیں کہ ایک دو محکموں کے سوا باقی اداروں کی کارکردگی تسلی بخش نہیں اور عوامی سطح پر انہیں زبردست تنقید کا سامنا ہے، ان میں محکمہ صحت پہلے نمبر پر ہے جہاں ایک طرف تو وبائی امراض نے سر اٹھا رکھا ہے تو دوسری جانب ڈاکٹرز سمیت پیرامیڈکس بھی آئے روز ہڑتال پر دکھائی دے رہے ہیں، ڈینگی، پولیو، ٹائیفائیڈسمیت دیگر امراض کے ہزاروں مریض علاج معالجہ کی مناسب سہولیات کا رونا رو رہے ہیں، سرکاری ہسپتالوں میں مریضوں اور لواحقین کی داد رسی کے لئے خاطر خواہ انتظامات نہ ہونے کے برابر ہیں۔ وفاقی سطح پر ملک سے پولیو کے خاتمے کیلئے اہم سیاسی جماعتوں کے نمائندوں پر مشتمل نیشنل اسٹریٹجک ایڈوائزری گروپ تشکیل دیا گیا ہے جس کی قیادت وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے صحت ڈاکٹر ظفر مرزا کریں گے۔ اس ایڈوائزری گروپ میں پیپلزپارٹی حکومت کی سابق فوکل پرسن برائے پولیو شہناز وزیر علی، مسلم لیگ (ن) دور حکومت کی سابق فوکل پرسن برائے پولیو عائشہ رضا فاروق اور اقوام متحدہ میں پاکستان کے سابق مستقبل مندوب ضمیر اکرم اور قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے صحت کے چیئرمین اور بلوچستان عوامی پارٹی کے رکن خالد مگسی، پارلیمانی سیکریٹری برائے قومی صحت سروسز ڈاکٹر نوشین حامد اور سندھ اسمبلی سے پاکستان تحریک انصاف کے قانون ساز ڈاکٹر سنجے گنگوانی شامل ہیں۔علاوہ ازیں یہ بھی اطلاع ملی ہے کہ خیبر پختونخوا کے ضلع بنوں اور ضلع لکی مروت میں مزید 2 بچوں میں پولیو وائرس کی تصدیق ہو گئی۔

دوسرا اہم مسئلہ مہنگائی کا ہے، اس دوران اشیائے صرف کی قیمتیں واقعتا آسمان سے باتیں کرنے لگی ہیں، مہنگائی کا یہ عفریت تو ملکی سطح پر سر اٹھائے ہوئے ہے لیکن خیبر سے جو چیزیں ملک بھر میں بھجوائی جاتی ہیں ان کی قیمتوں کو بھی پر لگ گئے ہیں، اس کی زندہ مثال موسم سرما کا ڈرائی فروٹ چلغوزہ ہے، جس کی قیمت 8000روپے فی کلو تک پہنچنے کے بعدیہ کاروبار جزوی طور پر بند ہو گیا ہے، شہریوں نے چلغوزے کی خرید و فروخت کم و بیش بند کر دی ہے اوراب یہ محض مرتبانوں کی زنیت بن گیا ہے، صورت حال اس حد تک گھمبیر ہے کہ الیکٹرانک و پرنٹ میڈیا کے ساتھ ساتھ یہ بھی سوشل میڈیا پر ایک ٹاپ ٹرینڈ بن گیا ہے۔ صوبائی دارالحکومت کے معروف کاروباری مراکز ہشتنگری، صدر، نمک منڈی، یونیورسٹی روڈ سمیت شہر کے مختلف مقامات پر چلغوزہ کی خرید و فروخت نہیں ہو رہی ہے۔ چلغوزے کی قیمت لوگ پوچھنے کی حد تک محدود ہو گئی ہے۔ چلغوزے کی قیمت میں رواں سال مزید دو ہزار روپے فی کلو کا اضافہ ہوا ہے، گزشتہ سال چلغوزے کی قیمت 6000ہزار روپے فی کلو تھی۔ ٹماٹر، لہسن، ادرک، دالیں، تیل، گھی سمیت دیگر اشیائے صرف کے نرخوں میں اضافے نے شہریوں کی کمر توڑ دی ہے، جہاں قوت خرید میں کمی آئی ہے وہاں ان اشیاء کی رسد بھی کم ہوتی جا رہی ہے، صوبائی وزیر اطلاعات شوکت یوسف زئی نے آسمان پر چڑھتے ٹماٹرسے جان چھڑانے کا آسان مشورہ دیتے ہوئے جو تجویز پیش کی ہے وہ مذاق کے طور پر لی جا رہی ہے لیکن وزیر موصوف اس پر سنجیدگی سے غور کا مشورہ بھی دے رہے ہیں، ان کا کہنا ہے کہ ٹماٹر مہنگے ہیں تو نہ کھائیں اس کی جگہ دہی استعمال کریں، عوام ٹماٹر سے جان چھڑالیں قیمتیں خود ہی معمول پر آجائیں گی۔ سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ایک ویڈیو میں شوکت یوسف زئی کا کہنا ہے کہ جب مارکیٹ میں کسی چیز کی طلب اس کی رسد سے بڑھ جائے تو اس کی قیمت بڑھ جاتی ہے۔ ہمارا مسئلہ یہ ہے کہ ہم گوشت اور مرغی مہنگے ہونے کی بات تو کرتے ہیں لیکن ہم اس کے پیچھے پڑجاتے ہیں۔ اس تجویز کو بلاول بھٹو زرداری کی اس گفتگو کے ساتھ جوڑا جا رہا ہے جس میں پیپلزپارٹی کے سربراہ نے کہا تھا کہ جب بارش ہوتی ہے تو پانی آتا ہے اور جب بارش زیادہ ہوتی ہے تو زیادہ پانی آتا ہے۔

پی ٹی آئی کی صوبائی حکومت کی طرف سے شہریوں کو تیز ترین اور سستی سفری سہولیات کی فراہمی کے لئے گزشتہ دور میں شروع کیا گیا میٹرو منصوبہ ایک مرتبہ پھر اطراف سے تنقید کی زد میں ہے اور اس کی بازگشت عدالت عظمیٰ میں بھی سنائی دے رہی ہے، منصوبے میں کرپشن کی شکایات بھی سننے میں آ رہی ہیں اور حسابات کے فرانزک آڈٹ کی باتیں بھی کی جا رہی ہیں لیکن عجب معاملہ ہے کہ اس بی آر ٹی منصوبے پر رواں سال بھی کام مکمل نہیں ہوسکا، شنید یہ ہے کہ متعلقہ کنٹریکٹر نے حکومت کو اگلے سال مارچ میں کام مکمل کرنے کے بارے میں آگاہ کیا ہے سرکاری طور پر دی گئی اگلے ماہ یعنی دسمبرکی ڈیڈلائن بھی متاثر ہونے کا خدشہ ہے،بس ڈپوز اور 30 اسٹیشنر پر کام تا حال نامکمل ہے۔

مزید : ایڈیشن 1