پنجاب اسمبلی،جنرل بس سٹینڈپر زائد کرایوں کی وصولی سے متعلق اپوزیشن اور حکومت میں نوک جھونک

پنجاب اسمبلی،جنرل بس سٹینڈپر زائد کرایوں کی وصولی سے متعلق اپوزیشن اور ...

  



لاہور(نمائندہ خصوصی) پنجاب اسمبلی میں محکمہ لوکل گورنمنٹ و کمیونٹی ڈویلپمنٹ سے متعلق اراکین پنجاب اسمبلی کے سوالوں کا جواب دیتے ہوئے محکمہ کے پارلیمانی سیکرٹری نے جنرل بس سٹینڈ پر زائد اڈہ فیس وصولی پراعتراض کرتے ہوئے کہا کہ اس معاملے میں انتظامی عملہ ملوث نہیں ہے۔ ٹرانسپورٹر گٹھ جوڑ کر کے زیادہ پیسے وصول کرتے ہیں۔ پارلیمانی سیکرٹری کے اس جواب پر پاکستان مسلم لیگ ن کے رکن اسمبلی چودھری اختر علی سیخ پا ہوگئے۔ انکا کہنا تھا کہ کیا آپ کی اسمبلی کا یہ آخری اجلاس ہے۔ جو آپ جلدی جلدی کر رہے ہیں۔ چوہدری اختر علی کا یہ بھی کہنا تھا کہ محکمہ ٹرانسپورٹ مقامی حکومت کی ملی بھگت سے زائد کرایہ وصول کرتے ہیں۔پنجاب اسمبلی کا اجلاس ڈپٹی سپیکر پنجاب اسمبلی سردار دوست محمد مزاری کی زیر صدارت اپنے مقررہ وقت سے ایک گھنٹہ 23منٹ کی تاخیر سے شروع ہوا۔ایک سوال کے جواب میں پارلیمانی سیکرٹری احمد خان ججز نے کہا کہ جہاں جہاں فلٹریشن پلانٹ خراب ہیں انہیں بحال کروایا جائیگا۔ پارلیمانی سیکرٹری نے ایوان کو یقین دلایا کہ جن سوالوں کے جواب نہیں آئے۔ اس پر سخت کارروائی کی جائیگی۔ حکومت متعلقہ سیکرٹری کو نوٹس بھیجے گی۔ اجلاس میں حکومتی رکن سعدیہ سہیل رانا کی جانب سے پنجاب پراونشل موٹر وہیکلز ترمیمی بل 2019ء ایوان میں پیش کیا گیا۔ جسے پینل آف دی چیئرمین میاں شفیع نے قائمہ کمیٹی برائے ٹرانسپورٹ کو بھیج دیا۔ سٹینڈنگ کمیٹی کو دو ماہ میں رپورٹ ایوان میں پیش کرنے ہدایت کی۔ اپوزیشن کے ارکان نے بل کی مخالفت نہ کی۔ اجلاس میں پاکستان مسلم لیگ ن کی رکن حنا پرویز بٹ کی جانب سے ہسپتالوں میں جاں بحق ہونیوالے افراد کو گھر پہنچانے کی مفت ایمبولینس سروس کے متعلق قرار داد مسترد کردی۔ صوبائی وزیر قانون راجہ بشارت نے اسکی مخالفت کی اور کہا کہ سرکاری ہسپتالوں میں سوشل ویلفیئر کے زیر اہتمام یہ سہولت موجود ہے، تاہم حکومت نجی ہسپتالوں کو اس حوالے سے پابند نہیں کرسکتی، ایجنڈا مکمل ہونے پر پنجاب اسمبلی کا اجلاس آج سہ 3 بجے تک کیلئے ملتوی کردیا گیا۔

پنجاب اسمبلی

مزید : صفحہ آخر