بد عنوانی کو روکنے کیلئے ہر ایک فرد کو خود احتسابی کے عمل سے گزرنا پڑے گا:حسنین احمد

  بد عنوانی کو روکنے کیلئے ہر ایک فرد کو خود احتسابی کے عمل سے گزرنا پڑے ...

  



اسلام آباد(این این آئی)ڈی جی نیب حسنین احمد نے کہاہے کہ زندگی کے ہر شعبے میں بدعنوانی کو روکنے کے لیے ہر ایک فرد کو خود احتسابی کے عمل سے گزرنا ہوگا،پاکستان کو قدرت نے بے انتہا وسائل سے نوازا ہے،پاکستان کو بدعنوانی سے پاک ملک بنانے کے لیے،ان وسائل کا غلط استعمال،رشوت اور اس طرح کی پریکٹس ہی سب سے بڑی رکاوٹیں ہیں،ان خیالات کا اظہار ڈی جی نیب نے گزشتہ روز او جی ڈی سی ایل ہیڈکوارٹرمیں "بدعنوانی معاشی ترقی کی سب سے بڑی رکاوٹ" کے عنوان پر منعقدہ نیب اور او جی ڈی سی ایل کے مشترکہ سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔حسنین احمد،ڈی جی نیب نے سست معاشی ترقی کی ایک اور وجہ بڑھتی ہوئی آبادی کو بھی قرار دیا ہے،اس لیے آپ نے آگاہی مہمات،متعلقہ قوانین کے نفاذکے ذریعے اپنی ان کاوشوں کا بھی ذکر کیا جو بدعنوانی کے روک تھام کے لیے کررہا ہے۔ایم ڈی /سی ای او،ڈاکٹر نسیم احمد نے اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہم پاکستان کو بدعنوانی سے پاک معاشرہ دینے کے لیے نیب کی کوششوں میں نیب کے ساتھ ہیں،ڈاکٹر نسیم نے کہا کہ او جی ڈی سی ایل واحد پبلک سیکٹر کمپنی ہے جو لندن سٹاک ایکسچینج کی فہرست میں شامل ہے،انہوں نے مزید کہا کہ او جی ڈی سی ایل اینٹی منی لانڈرنگ میں  اپنے اس کردار سے پوری طرح آگاہ ہے اور جہاں تک پالیسی کا تعلق ہے،او جی ڈی سی ایل ایسی کمپنیوں کی بولیوں کو زیر غور نہیں لاتا جو ٹیکس کے بچاو اور منی لانڈرنگ کے لیے مختلف آف شور کمپنیوں میں شامل رہی ہوں۔انہوں نے مزید کہا کہ کمپنی نے کچھ نئے اقدامات کیے ہیں تاکہ ا و جی ڈی سی ایل،نیب کا قدرتی اتحادی بن سکے، اس کا مقصد پاکستان بدعنوانی سے پاک اور صاف ملک بنانا ہے۔ایم ڈی نے مزید کہا کہ ہم یہاں اس تھیم "بدعنوانی سخت محنت پر اعتماد کرنے کو روکتی ہے "کو ڈسکس کرنے کے لیے اکٹھے ہوئے ہیں،ایک ایسا معاشرہ جہاں ایسے جذبات پائے جاتے ہوں تو وہاں سنگین خطرات لاحق ہیں جب تک کہ اعتماد کو بحال اور اچھی گورننس کو فروغ دینے کے لیے اقدامات نہ کریں۔آپ نے نیب کے کردار کا اعتراف کیا  نظام کے اندر عوام کا اعتماد کو بحال کرنے کے لیے نیب بہترین کام کررہا ہے۔

حسنین احمد

مزید : صفحہ آخر