زرداری کیساتھ بھی نواز شریف جیسا سلوک ہونا چاہئے:اعجاز شاہ

  زرداری کیساتھ بھی نواز شریف جیسا سلوک ہونا چاہئے:اعجاز شاہ

  



اسلام آباد (این این آئی)وفاقی وزیر داخلہ بریگیڈیئر (ر) اعجاز شاہ نے سابق وزیر اعظم نواز شریف کے علاج کیلئے بیرون ملک جانے پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا ہے کہ اگر وہ بیماروں کی طرح باہر جاتے تو کوئی نہیں پوچھتا،صلح کروانے والا نوے فیصد جھوٹ بولتا ہے، ہر کوئی آپس میں دو نمبر باتیں کر رہے ہیں۔ ایک انٹرویو میں وزیر داخلہ اعجاز شاہ نے کہا کہ نواز شریف ہیں تو بیمار مگر کچھ تو ہوا ہے۔اعجاز شاہ نے کہا کہ اگر وہ بیماروں کی طرح باہر جاتے تو کسی نے نہیں پوچھنا تھا، کسی وہیل چیئر یا کرسی پر بیٹھے ہوتے تو اس طرح تنقید نہ ہوتی جس طرح اب ہو رہی ہے، میڈیکل رپورٹ اور حقیقت میں کہیں نہ کہیں تو فرق ہے، میں اس سے زیادہ کیا کہہ سکتا ہوں۔وفاقی وزیر داخلہ نے کہا کہ نواز شریف کے بیرون ملک جانے میں ایسا تاثر ملتا ہے کہ کچھ ہوا ہے، اگر میری ذمہ داری لگائی جاتی تو میں اس سارے معاملے کی تہہ تک جاتا اور حقائق سامنے لاتا کہ ہوا کیا ہے، یہ کوئی ایٹم بم تو نہیں بنا رہے۔کابینہ کے زیادہ تر اراکین کی جانب سے نواز شریف کو بیرون ملک بھیجنے کی مخالفت کے وزیر اعظم عمران خان کے دعوے کی نفی کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ کابینہ میں زیادہ تر کی رائے یہ تھی کہ نواز شریف کو باہر جانے دیا جائے کیونکہ تحریک انصاف میں زیادہ ہی جمہوریت ہے۔وزیراعظم عمران خان نے ایک تقریر میں کہا تھا کہ کابینہ میں اکثریت کی رائے تھی کہ نواز شریف کو بیرون ملک جانے کی اجازت نہیں دی جائے لیکن انہوں نے انسانی ہمدردی کی بنیاد پر اجازت دی۔اعجاز شاہ نے ایک سوال پر کہا کہ اللہ نواز شریف کو صحت دے اور وہ واپس آئیں لیکن اگر نواز شریف واپس نہیں آتے تو ہم عدالت جائیں گے۔انہوں نے کہاکہ اگر وہ واپس نہیں آتے تو اشتہاری ہو جائیں گے اور انہیں لایا جائے گا کیونکہ یہاں مقدمات چل رہے ہیں۔مریم نواز کے بیرون ملک جانے کی افواہوں کے حوالے سے انہوں نے کہاکہ ہم بھی سن رہے ہیں کہ لوگ مریم نواز کے باہر جانے کی باتیں کر رہے ہیں مگر میں بیرون ملک جانے دینے کی اجازت کے خلاف ہوں گا، کیا نواز شریف کے اور بچے نہیں ہیں جو ان کی خدمت کر سکیں۔وفاقی وزیر داخلہ نے کہا کہ آصف علی زرداری کے ساتھ بھی اسی طرح کا رویہ ہونا چاہیے جیسا نواز شریف کے ساتھ ہوا ہے اور اگر میڈیکل بورڈ ہمیں لکھ کر دے کہ زرداری صاحب کا علاج ملک میں نہیں ہو سکتا ہے تو انہیں بیرون ملک جانے کی اجازت دینی چاہیے کیونکہ اب تو نواز شریف کی مثال موجود ہے۔اعجاز شاہ نے حکومت اور مولانا فضل الرحمن کے درمیان کامیاب مذاکرات کو جھوٹ کی کنجی قرار دیتے ہوئے کہا کہ صلح کروانے والا نوے فیصد جھوٹ بولتا ہے، ہر کوئی آپس میں دو نمبر باتیں کر رہے ہیں۔مولانا فضل الرحمن کس ضمانت کے تحت دھرنا ختم کر کے گئے، اس پر انہوں نے کہا کہ چوہدریوں نے مولانا کو امانت کا کہا ہو گا کہ یہاں کچھ نہیں ملنا۔سابق فوجی صدر پرویز مشرف کے حوالے سے وزیر داخلہ اعجاز شاہ نے کہا کہ فوج تب آتی ہے جب خلا پیدا ہوتا ہے اور اس خلا کو پْر کیا جاتا ہے، اسی طرح پرویز مشرف کو غدار کہنے پر اعتراض ہے، ہاں انہیں آئین شکن کہا جا سکتا ہے۔انہوں نے کہا کہ پرویز مشرف سے زیادہ اس وقت کوئی بیمار نہیں اور ان کے خلاف کیس صحت یابی تک موخر کر دینا چاہیے۔اعجاز شاہ نے پرویز مشرف کا نام ای سی ایل سے نکالنے سے متعلق مسلم لیگ (ن) کے موقف کو درست قرار دیتے ہوئے کہا کہ پرویز مشرف کا نام ای سی ایل سے عدالتوں نے نکالا اور اگر کوئی پرویز مشرف کو دیکھنے جاتا ہے تو میں سہولت دوں گا اور اس کو میں خود لے کر جاؤں گا۔انہوں نے کہا کہ پرویز مشرف کے خلاف آرٹیکل 6 تحت مقدمہ بنانے کی منظوری تو نواز شریف نے کابینہ سے بھی نہیں لی تھی۔

اعجاز شاہ 

مزید : صفحہ اول /ملتان صفحہ آخر