استعمال شدہ سرنجوں اور دیگر آلات سے ایڈز جیسے امراض پھیل رہے ہیں:جسٹس قیصر رشید

استعمال شدہ سرنجوں اور دیگر آلات سے ایڈز جیسے امراض پھیل رہے ہیں:جسٹس قیصر ...

  



پشاور(نیوزرپورٹر)پشاور ہائی کورٹ کے جسٹس قیصر رشیدنے کہا ہے کہ استعمال شدہ سرنج اوردیگر آلات کیوجہ سے ایچ آئی وی/ایڈزسمیت دیگر خطرناک امراض پھیل رہے ہیں، نجی ہسپتالوں اورکلینکس میں غریب مریضوں کو لوٹاجارہاہے،عدالت نے صوبہ بھر میں غیرقانونی وغیررجسٹرڈہسپتالوں، لیبارٹریوں اورکلینکس کیخلاف کارروائیوں کا دائرکاروسیع کرنے اور ڈویژنل وائز پراگرس رپورٹ 17دسمبر کوپیش کرنیکاحکم دے دیا،دوران سماعت ہیلتھ کیئرکمیشن کا نمائندہ پیش نہ ہونے پر عدالت نے برہمی کا اظہار کیا، جسٹس قیصر رشید نے ریمارکس دیئے کہ اگر ہیلتھ کیئرکمیشن غیرفعال ہوگیا ہے تو کیوں نہ اس کو ختم کیاجائے جسٹس قیصر رشید اور جسٹس احمد علی پر مشتمل دورکنی بینچ نے ملک محمد اجمل ایڈوکیٹ وغیرہ کی جانب سے گردوں کی غیرقانونی پیوندکاری کیخلاف کیس کی سماعت کی، سماعت شروع ہوئی تو ہیلتھ کیئر کمیشن کا نمائندہ عدالت میں پیش نہ ہوئے، جس پر درخواست گزاروکیل نے عدالت کو بتایا کہ کمیشن غیر فعال ہوگیا ہے اس وجہ سے شاید نمائندہ پیش نہیں ہواجس پر جسٹس قیصر رشید نے کہا کہ ہیلتھ کیئر کمیشن غیر فعال ہے تو کیوں نہ اس کو ختم کیا جائے، اداروں کے سربراہان کو تبدیل کرنے سے تبدیلی نہیں آتی۔ عدالت نے ہیلتھ کیئر کمیشن کے نمائندہ کو طلب کیااورسماعت تھوڑی دیر تک کیلئے ملتوی کردی، بعدازاں سماعت شروع ہوئی تو ایف آئی اے کے نمائندے بھی عدالت میں پیش ہوئے۔ جسٹس قیصر رشید نے استفسارکیا کہ ایف آئی اے کیاکررہی ہے؟جس پر بتایا گیا کہ خیبرٹیچنگ ہسپتال کے سامنے دو نجی ہسپتالوں کو ناقص صفائی کی صورتحال پر سیل کردیا گیا، جسٹس قیصر رشید نے کہا کہ پانچ، پانچ مرلے کے گھروں میں ہسپتال اور آپریشن تھیٹرزکھولے گئے ہیں جبکہ انکے پاس کوالیفائڈ عملہ بھی موجود نہیں ہوتا،استعمال شدہ سرنج اور دیگر آلات کیوجہ سے ایڈز اور دیگر امراض پھیل رہی ہیں جبکہ لوٹ مار جاری ہے،ایف آئی اے انکے خلاف کارروائی کرتے ہوئے ایسے طبی مراکز کو سیل کرے جہاں تربیت یافتہ عملہ موجود نہیں۔ انہوں نے استفسارکیا کہ ڈی آئی خان میں غیرقانونی طبی مراکز کیخلاف کیاہورہا ہے، اسکی رپورٹ اب تک موصول نہیں ہوئی، جس پر بتایا گیا کہ اسکی رپورٹ بھی جلد عدالت میں پیش کرینگے۔جسٹس قیصررشید نے حکم دیا کہ اپنی کارروائیوں کو صرف ڈبگری گارڈن تک محدود نہ رکھیں بلکہ کوہاٹ، چترال اور دیگر اضلاع میں بھی اپنی کارروائیاں تیز کریں اور ڈویژنل وائز رپورٹ پیش کی جائیں۔ کیس کی سماعت 17دسمبرتک کیلئے ملتوی کردی گئی۔ 

مزید : پشاورصفحہ آخر /ملتان صفحہ آخر